📿 *اولاد نہ ہونے کی وجہ سے شوہر سے خلع اور طلاق کا مطالبہ کرنے کا حکم:*
شوہر سے اولاد نہ ہونے کی وجہ سے عورت کو اس سے طلاق کا مطالبہ کرنے اور خلع لینے کا حق حاصل نہیں اور محض اولاد کا نہ ہونا تنسیخِ نکاح کی وجوہات میں سے بھی نہیں ہے۔ اس لیے اگر عورت صرف اولاد نہ ہونے کی بنا پر شوہر کی رضامندی کے بغیر عدالت سے خلع لے گی تو یہ خلع معتبر اور درست نہیں ہوگا، اس کی وجہ سے دونوں کا نکاح ختم نہیں ہوگا، اور نہ ہی عورت کے لیے اس خلع کے بعد کہیں اور نکاح کرنا جائز ہوگا۔
☀️ عمدة القاري شرح البخاري:
وأما إذا لم يكن لها عذر وسألت الافتداء منه فقد دخلت في قوله ﷺ: «أيما امرأة سألت زوجها طلاقها من غير بأس فحرام عليها رائحة الجنة». أخرجه الترمذي من حديث ثوبان، ورواه ابن جرير أيضا، وفي آخره قال: المختلعات من المنافقات."
(كتاب الطلاق: باب الخلع وكيف الطلاق فيه)
☀️ الفتاوى الهندية:
لو لم يكن له ماء ويجامع فلا ينزل لا يكون لها حق الخصومة، كذا في النهاية.
(كتاب الطلاق: الباب الثاني عشر في العنين)
✍🏻۔۔۔ مفتی مبین الرحمٰن صاحب مدظلہم
فاضل جامعہ دار العلوم کراچی