🪞 محاورہ: آئینے میں بال آنا


 

🪞 محاورہ: آئینے میں بال آنا


▄︻デ📢 تلفظ══━一
"آئینے میں بال آنا"
(آئینے میں بال آنا)


▄︻デ💡 معانی و مفہوم══━一
اس محاورے کا مطلب ہے:
🔸 کسی بے عیب یا مکمل چیز میں عیب یا خرابی کا ظاہر ہو جانا۔
🔸 ایسی چیز جسے مکمل یا بے نقص سمجھا جا رہا ہو، اس میں پہلی بار کوئی خامی نظر آ جائے۔


▄︻デ🎯 موقع و محل══━一
یہ محاورہ ان مواقع پر استعمال کیا جاتا ہے:
✅ جب کسی انسان، جماعت، رشتے یا سسٹم کو مثالی سمجھا جا رہا ہو
✅ اور اچانک اس میں کوئی خامی، کمزوری یا خرابی سامنے آ جائے

مثال:
"ہمیں تو لگتا تھا اس کی نیت بالکل صاف ہے، مگر اب جو حقیقت سامنے آئی ہے تو سمجھو آئینے میں بال آ گیا۔"


▄︻デ📜 تاریخ و واقعہ ══━一
یہ محاورہ اردو زبان میں قدیم وقتوں سے استعمال ہوتا آ رہا ہے۔
آئینہ چونکہ صاف، شفاف اور بے داغ چیز کی علامت ہے، لہٰذا جب اس میں بال آ جائے تو وہ اس صفائی اور شفافیت کو متاثر کرتا ہے۔
یہی تصور انسانوں اور رشتوں پر بھی منطبق کیا گیا، کہ کوئی معمولی خرابی بھی کامل تصویر کو بگاڑ سکتی ہے۔


▄︻デ😂 پُر لطف قصہ ══━一
ایک بار محلے کے کونسلر صاحب کو سب "فرشتہ صفت" سمجھتے تھے۔ ان کی نیکی اور دیانتداری کے چرچے ہر گلی میں تھے۔
ایک دن ان کا موبائل غلطی سے دکان میں رہ گیا، اور لوگوں نے اس میں کچھ غیر نصابی تصاویر دیکھ لیں 😅📱۔
اب جو محلے والوں کو خبر ہوئی تو سب کہنے لگے:
"ہائے ہائے! آئینے میں بال آ گیا!"
کونسلر صاحب نے صفائی دی:
"یہ تو ہیکرز کا کام ہے!"
مگر عوام کہتی رہی:
"بس اب یقین اٹھ گیا…!"

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی