سبق نمبر 51: خلاصۂ قرآن رکوع بہ رکوع
سورۂ قلم کا خلاصہ
قرآن کریم کے گھڑا ہوا ہونے کا جواب مشرکین و کفارِ مکہ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اس قرآن کو محمد ﷺ نے گھڑ لیا ہے۔ ان سے کہا جا رہا ہے کہ تمہیں بھی فصاحت و بلاغت کا دعویٰ ہے، تم بھی اس جیسا قرآن لکھ کر دکھا دو۔
رکوع نمبر ۱ کا خلاصہ: اصحابُ الجنّۃ حضور ﷺ سے کہا جا رہا ہے کہ یہ لوگ آپ پر طرح طرح کے الزامات دھرتے رہتے ہیں، کبھی ”مجنون“ کہتے ہیں اور کبھی ”شاعر“ گردانتے ہیں۔ آپ ان کی پروا کیے بغیر صبر سے اپنا کام کرتے رہیں۔ عنقریب یہ بھی اس باغ والوں کی طرح خسارے کا شکار ہوں گے جنہوں نے راہِ خدا میں مال خرچ کرنے کے اندیشے سے علی الصبح پھل کاٹنے کا پروگرام بنایا تھا، لیکن وہاں پہنچنے پر ان کے سامنے ایک اجڑا ہوا ویران باغ ان کا منہ چڑا رہا تھا۔
رکوع نمبر ۲ کا خلاصہ: موافق اور مخالف برابر نہیں ہو سکتے قرآن کریم کی دعوت پر لبیک کہنے والے اور نہ مان کر مجرمین کے زمرے میں داخل ہونے والے برابر نہیں ہو سکتے۔ جو لوگ قرآن کریم کو نہیں مانتے، کیا ان کے پاس کوئی دوسری کتاب ہے یا علمِ غیب موجود ہے؟ یا حضور ﷺ ان سے کوئی فیس مانگتے ہیں؟ یقیناً محض ہٹ دھرمی ہے، اس لیے اپنے انجام کے منتظر رہیں۔
سورۂ حاقہ کا خلاصہ
جزائے اعمال یقینی ہے اعمال کی جزا ایک امرِ یقینی ہے جو دنیا اور آخرت دونوں جگہ ملتی ہے۔ فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ دنیا کی سزا ہلکی ہوتی ہے اور آخرت کی سزا کامل اور مکمل ہوتی ہے۔
رکوع نمبر ۱ کا خلاصہ: اُممِ سابقہ کو بھی جزا ملی قومِ عاد، قومِ ثمود اور فرعون وغیرہ کو دنیا میں بھی ان کے کفر و شرک کی بنا پر سخت سزا دی گئی۔ آخرت کی سزا اس سے بھی کہیں زیادہ سخت ہوگی، اس لیے نامۂ اعمال دائیں ہاتھ میں ملنے کے لیے عمل پیرا ہونا چاہیے تاکہ بائیں ہاتھ کی ذلت سے محفوظ رہا جا سکے۔
رکوع نمبر ۲ کا خلاصہ: قرآن کریم سے مستفید ہونے والے قرآن کریم جو کلامِ ربُّ العالمین ہے، اسے لانے والے جبرئیلِ امین علیہ السلام ہیں، جن پر نازل ہوا وہ رحمۃٌ للعالمین ﷺ ہیں، لیکن اس سے فائدہ اٹھانے والے صرف متقین ہیں۔
سورۂ معارج کا خلاصہ
توضیحِ یومِ مجازاة اس سورت میں قیامت کی ہولناکیوں اور خوفناک مناظر کی عکاسی کی گئی ہے تاکہ منکرین پر اتمامِ حجت ہو اور مسلمانوں کو عمل کی ترغیب دی جا سکے۔
رکوع نمبر ۱ کا خلاصہ: قیامت کے دن کی صحیح عکاسی قیامت کا ایک دن پچاس ہزار سال کے برابر ہوگا۔ اس دن آسمان پگھلے ہوئے تانبے کی مانند ہوگا، پہاڑ دھنی ہوئی اون کی طرح ہوں گے، کوئی دوست یا رشتہ دار کام نہ آ سکے گا، اور نجات کا واحد وسیلہ ایمان اور اعمالِ صالحہ ہوں گے۔
رکوع نمبر ۲ کا خلاصہ: منکرینِ قیامت کو ان کے حال پر چھوڑ دیں جو لوگ قیامت کا انکار کرتے ہیں، انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیں، اللہ تعالیٰ خود ان سے نمٹ لیں گے اور ان کے ساتھ جیسا چاہیں گے سلوک فرمائیں گے۔
سورۂ نوح کا خلاصہ
طریقۂ تبلیغِ انبیاء علیہم السلام اس سورت میں انبیاء کرام علیہم السلام کے تبلیغی طریقۂ کار کو بیان کر کے حضور ﷺ کو بھی اسی اسلوب پر گامزن ہونے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔
رکوع نمبر ۱ کا خلاصہ: مقصد و مشغلۂ تبلیغ مقصدِ تبلیغ یہ ہے کہ اللہ کی عبادت کی جائے اور اس کے پیغمبروں کی اطاعت کی جائے۔ مبلغ دن رات اپنی قوم کو اللہ کی طرف بلاتا رہے، جس کے نتیجے میں اللہ گناہوں کو معاف فرماتا ہے اور دنیاوی برکات (بارش، مال، اولاد) بھی عطا فرماتا ہے۔
رکوع نمبر ۲ کا خلاصہ: مظلوم کی آہ سے بچو جب مخاطبین داعی کے اخلاص کی قدر نہ کریں اور اس کے دل سے کوئی آہ نکل جائے، تو وہ قوم کو تباہ کیے بغیر نہیں چھوڑتی۔ اس لیے مظلوم کی آہ اور بددعا سے بچو، کیونکہ وہ سیدھی اللہ کی بارگاہ میں جاتی ہے۔
سورۂ جن کا خلاصہ
سلیم الطبع جنات جس طرح سلیم الفطرت انسان قرآن کے پیاسے ہیں، اسی طرح سلیم الطبع جنات بھی اس سے متمتع ہونے کے لیے چشم براہ ہیں۔
رکوع نمبر ۱ کا خلاصہ: قرآن کریم کی تاثیر قرآن کریم ایسی پُرتاثیر کتاب ہے کہ اگر جنات بھی اسے سن لیں تو اثر قبول کیے بغیر نہیں رہتے اور اپنی قوم میں جا کر اس کی تبلیغ کرنے لگتے ہیں۔
رکوع نمبر ۲ کا خلاصہ: مقصدِ تبلیغ تبلیغ کا مقصد صرف دعوت الی اللہ ہے۔ انبیاء کرام علیہم السلام کسی کے نفع یا نقصان کے مالک نہیں، بلکہ ان کا کام محض احکامِ الٰہیہ کی تبلیغ اور دعوت الی التوحید کا پرچار کرنا ہے۔
سورۂ مزمل کا خلاصہ
دستورُ العمل برائے مبلغین دعوت و تبلیغ کے کام سے جڑنے والوں کے لیے یہ سورت انتہائی اہم نصائح پر مشتمل ہے۔
رکوع نمبر ۱ کا خلاصہ: تبلیغ اور صاحبِ تبلیغ مبلغ کے لیے چار باتیں ضروری ہیں:
تیاری: پہلے اپنے آپ کو کام کے لیے تیار کرے۔
تقسیمِ اوقات: رات کو اللہ سے لو لگائے اور دن کو تبلیغی دورے کرے۔
تعلق مع اللہ: اللہ ہی کو اپنا حقیقی کارساز سمجھے۔
مخالفین: مبلغ اپنا فرض ادا کرے، مخالفین کا معاملہ اللہ خود دیکھ لے گا۔
رکوع نمبر ۲ کا خلاصہ: عبادت میں تخفیف چونکہ امتِ محمدیہ ﷺ کا دائرہ بہت وسیع ہے، اس لیے اس امت کی سہولت کے لیے عبادت میں تخفیف اور آسانی کر دی گئی ہے۔
"آج الحمدللہ سورة قلم سورۃ حاقہ سورۃ معارج سورۃ نوح سورۃ جن سورۃ مزمل کی رکوعات کا خلاصہ مکمل ہوا، کل ان شاء اللہ سورة مدثر شروع کرینگے۔"

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں