حق کی پہچان اور خواہش پرستی کا انجام


 

حق کی پہچان اور خواہش پرستی کا انجام

"جو قوم خواہش پرستی کا شکار ہو، اُس کو حقیقت پسندی کی باتیں اپیل نہیں کرتیں"

سبق نمبر 34

آیاتِ مبارکہ

قَالَ ٱلْمَلَأُ ٱلَّذِينَ ٱسْتَكْبَرُوا۟ مِن قَوْمِهِۦ لِلَّذِينَ ٱسْتُضْعِفُوا۟ لِمَنْ ءَامَنَ مِنْهُمْ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ صَـٰلِحًۭا مُّرْسَلٌۭ مِّن رَّبِّهِۦ ۚ قَالُوٓا۟ إِنَّا بِمَآ أُرْسِلَ بِهِۦ مُؤْمِنُونَ ﴿٧٥﴾ قَالَ ٱلَّذِينَ ٱسْتَكْبَرُوٓا۟ إِنَّا بِٱلَّذِىٓ ءَامَنتُم بِهِۦ كَـٰفِرُونَ ﴿٧٦﴾ فَعَقَرُوا۟ ٱلنَّاقَةَ وَعَتَوْا۟ عَنْ أَمْرِ رَبِّهِمْ وَقَالُوا۟ يَـٰصَـٰلِحُ ٱئْتِنَا بِمَا تَعِدُنَآ إِن كُنتَ مِنَ ٱلْمُرْسَلِينَ ﴿٧٧﴾ فَأَخَذَتْهُمُ ٱلرَّجْفَةُ فَأَصْبَحُوا۟ فِى دَارِهِمْ جَـٰثِمِينَ ﴿٧٨﴾ فَتَوَلَّىٰ عَنْهُمْ وَقَالَ يَـٰقَوْمِ لَقَدْ أَبْلَغْتُكُمْ رِسَـٰلَةَ رَبِّى وَنَصَحْتُ لَكُمْ وَلَـٰكِن لَّا تُحِبُّونَ ٱلنَّاسِـٰحِينَ ﴿٧٩﴾ (سورۃ الأعراف: آیات 75–79)


ترجمہ

ان کی قوم کے سردار، جو بڑے بنے بیٹھے تھے، اُن کمزور لوگوں سے کہنے لگے جو ایمان لائے تھے: "کیا تمہیں واقعی یقین ہے کہ صالح (علیہ السلام) اپنے رب کے بھیجے ہوئے ہیں؟" انہوں نے جواب دیا: "ہم تو اس پر ایمان رکھتے ہیں جو وہ لے کر آئے ہیں۔" تکبر کرنے والے کہنے لگے: "جس پر تم ایمان لائے ہو، ہم تو اس کے منکر ہیں۔" پھر انہوں نے اونٹنی کو کاٹ ڈالا اور اپنے رب کے حکم سے سرکشی کی۔ اور کہنے لگے: "اے صالح! اگر تم واقعی رسولوں میں سے ہو، تو وہ عذاب لے آؤ جس سے تم ہمیں ڈراتے ہو!" پھر ان کو ایک زلزلے نے آ لیا، اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔ تب صالح (علیہ السلام) ان سے منہ پھیر کر چل دیے اور کہا: "اے میری قوم! میں نے تمہیں اپنے رب کا پیغام پہنچا دیا اور تمہاری خیر خواہی کی، لیکن تم خیر خواہوں کو پسند نہیں کرتے۔"


تشریح و بصیرت

پیغمبر جب آتا ہے تو اپنے زمانے میں وہ ایک متنازعہ شخصیت ہوتا ہے، نہ کہ ثابت شدہ شخصیت۔ مزید یہ کہ اُس کے ساتھ دنیا کی رونقیں جمع نہیں ہوتیں، وہ دنیا کی گدیوں میں سے کسی گدی پر بیٹھا ہوا نہیں ہوتا۔

  • انکار کا سبب: جو لوگ پیغمبر کے معاصر ہوتے ہیں، وہ اُس کے نبی ہونے کو سمجھ نہیں پاتے اور اس کا انکار کر دیتے ہیں۔ ان کو یقین نہیں آتا کہ وہ شخص جسے ہم صرف ایک معمولی آدمی کی حیثیت سے جانتے ہیں، وہی وہ شخص ہے جس کو اللہ نے اپنے پیغام کی تبلیغ کے لیے چنا ہے۔


شخصیت بمقابلہ پیغام

حضرت صالحؑ کے ساتھیوں کا یہ جواب: "ہم صالح علیہ السلام کے پیغام پر ایمان لائے ہیں" — ان کے اور منکرین کے درمیان واضح فرق کو ظاہر کرتا ہے۔

  1. منکرین کی نظر: انہوں نے صرف حضرت صالحؑ کی ظاہری شخصیت کو دیکھا۔

  2. مؤمنین کی نظر: انہوں نے پیغام میں حق کے دلائل اور سچائی کی جھلکیاں دیکھ لیں۔

سچائی ہمیشہ دلائل کے زور پر ظاہر ہوتی ہے، نہ کہ دنیوی عظمتوں کے زور پر۔ جو لوگ دلائل کے روپ میں حق کو دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، وہ فوراً اسے پا لیتے ہیں۔


اجتماعی ذمہ داری اور جرم

حضرت صالحؑ کی اونٹنی کو مارنے والا اگرچہ قوم کا ایک سرکش آدمی تھا، مگر قرآن نے فرمایا: "فَعَقَرُوا النَّاقَةَ" (ان لوگوں نے اونٹنی کو ہلاک کر دیا)۔

  • اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر کسی گروہ کا ایک شخص برا عمل کرے اور باقی لوگ اس پر راضی ہوں، تو سب مجرمانہ فعل میں شریک قرار دیے جاتے ہیں۔


خلاصہ: حقیقت پسندی اور خواہش پرستی

جو قوم خواہش پرستی کا شکار ہو، اُس کو حقیقت پسندی کی باتیں اپیل نہیں کرتیں۔

  • سنجیدہ عمل سے دوری: وہ ایسے شخص کا ساتھ دینے کے لیے تیار نہیں ہوتی جو اسے سنجیدہ عمل کی طرف بلاتا ہو۔

  • جھوٹی امیدیں: اس کے برعکس، جو لوگ خوش نما الفاظ بولیں اور جھوٹی امیدوں کی تجارت کریں، ان کے گرد بھیڑ جمع ہو جاتی ہے۔

بچے خیر خواہ کے لیے کشش نہیں رکھتے، البتہ اُن لوگوں کی طرف تیزی سے لپکتے ہیں جو اُن کا استحصال کرنے کے لیے اٹھے ہوں۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں