💍 سونے چاندی کے استعمالی زیورات پر زکوٰۃ کا حکم
مرتب: ✍️ مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو (عفی عنہ)
سلسلہ: مسائلِ زکوٰۃ | پوسٹ نمبر: 20
عام غلط فہمی کا ازالہ
معاشرے میں یہ غلط فہمی عام ہے کہ خواتین کے زیرِ استعمال سونے چاندی کے زیورات پر زکوٰۃ فرض نہیں ہوتی۔ شرعی تحقیق کے مطابق یہ بات درست نہیں ہے۔ درست مسئلہ یہ ہے کہ سونے چاندی کے زیورات خواہ وہ روزمرہ استعمال میں آتے ہوں یا نہ آتے ہوں، بہرصورت وہ قابلِ زکوٰۃ مال ہیں۔
وجوبِ زکوٰۃ کی شرائط
نصاب: یہ زیورات انفرادی طور پر یا دیگر اموال (نقد رقم، مالِ تجارت) کے ساتھ مل کر نصاب تک پہنچ جائیں تو ان پر زکوٰۃ واجب ہوگی۔
نوعیت: چاہے وہ مباح استعمال کے لیے ہوں، محض بناؤ سنگھار کے لیے ہوں یا بطورِ اثاثہ رکھے گئے ہوں، ان کی زکوٰۃ ادا کرنا لازم ہے۔
حدیثِ مبارکہ اور وعید
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی، اس کی بیٹی کے ہاتھ میں سونے کے دو موٹے کنگن تھے۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: "کیا تم ان کی زکوٰۃ دیتی ہو؟" اس نے عرض کیا: "نہیں"۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"کیا تمہیں یہ پسند ہے کہ ان دو کنگنوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ تمہیں قیامت کے دن آگ کے دو کنگن پہنا دے؟"
یہ سن کر اس عورت نے فوراً وہ کنگن اتار کر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے لیے پیش کر دیے۔ یہ روایت اس بات کی قاطع دلیل ہے کہ زیورات اگر استعمال میں ہوں تب بھی ان کی زکوٰۃ فرض ہے۔
📚 فقہی و علمی حوالہ جات
سنن ابی داؤد: حدیث نمبر 1565 (روایت صحیح اور معتبر ہے)۔
بذل المجہود: علامہ زیلعی اور امام منذری رحمہ اللہ نے اس کے اسناد کو صحیح اور لائقِ حجت قرار دیا ہے۔
الدر المختار مع رد المحتار: سونے چاندی کو اللہ نے قیمت (ثمن) کے طور پر پیدا کیا ہے، اس لیے وہ جس حال میں بھی ہوں (ڈلی ہو یا زیور)، ان پر زکوٰۃ لازم ہے۔
📢 علمی و تحقیقی پلیٹ فارم
زکوٰۃ کے مسائل اور مستند شرعی رہنمائی کے لیے ہمارے پلیٹ فارمز وزٹ کریں:
🌐 آن لائن بلاگ: [
🌐 ایس ای او (SEO) اور ٹیگز
Meta Description: کیا پہننے والے زیورات پر زکوٰۃ ہے؟ استعمالی سونے چاندی کے احکام اور احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں مستند شرعی حل جانئے مفتی عرفان اللہ درویش کی تحریر میں۔
Keywords: استعمالی زیورات کی زکوٰۃ، نصابِ سونا چاندی، سنن ابی داؤد، مفتی مبین الرحمٰن، مفتی عرفان اللہ درویش، Zakat on Jewelry.
Hashtags:
#Zakat #مسائل_زکوٰۃ #سونے_کی_زکوٰۃ #شرعی_احکام #حدیث_مبارکہ #مفتی_عرفان_اللہ #رمضان_2026

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں