داعیِ حق: قول اور عمل کا سنگم
"داعی دعوت بھی دے اور خود بھی دیندار ہو"
سبق نمبر 24
آیتِ مبارکہ
وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِمَّنْ دَعَا إِلَى اللَّهِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَقَالَ إِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ (سورہ حم السجدہ، آیت ۳۳)
ترجمہ
"اور اس سے بہتر کس کی بات ہوگی جس نے اللہ کی طرف بلایا، نیک عمل کیا اور کہا کہ میں فرماں برداروں میں سے ہوں۔"
تشریح و بصیرت
قرآن کی دعوت، اللہ کی طرف بلانے کی دعوت ہے۔ یہ انسان کو اس کے رب سے جوڑتا ہے، انسان کو اللہ کی یاد میں جینے والا بناتا ہے، انسان کے اندر یہ شعور اُبھارتا ہے کہ وہ ایک اللہ کو اپنا مرکزِ توجہ بنالے۔ یہی قرآنی دعوت کا اصل نشانہ ہے، اور بلا شبہ اس پکار سے بہتر کوئی چارہ نہیں۔
داعی کی خصوصیات:
اللہ کا داعی صرف وہ شخص بنتا ہے جو اپنی دعوت میں اس حد تک سنجیدہ ہو کہ جو کچھ وہ دوسروں سے منوانا چاہتا ہے، اس کو وہ خود سب سے پہلے مان چکا ہو۔
وہ دوسروں سے جو کچھ کرنے کے لیے کہہ رہا ہے، خود سب سے پہلے اس کا کرنے والا بن جائے۔
دعوت کا سب سے بڑا ہتھیار: یکطرفہ حسنِ سلوک
داعی کا سب سے بڑا ہتھیار یہ ہے کہ وہ لوگوں کے ساتھ یکطرفہ حسنِ سلوک کرے۔
دوسرے لوگ برائی کریں تب بھی وہ دوسروں کے ساتھ بھلائی کرے۔
وہ اشتعال کے مقابلے میں اعراض، اور اذیت رسانی کے مقابلے میں صبر کا طریقہ اختیار کرے۔
یکطرفہ حسنِ سلوک میں اللہ تعالیٰ نے زبردست تسخیری طاقت رکھی ہے۔ اللہ کا داعی اللہ کی بنائی ہوئی اس فطرت کو جانتا ہے اور اس کو آخری حد تک استعمال کرتا ہے، خواہ اس کے لیے اسے اپنے جذبات کو کچلنا پڑے، خواہ اس کی خاطر اپنے اندر پیدا ہونے والے ردِّعمل کو ذبح کرنے کی نوبت آجائے Boat۔
شیطانی وساوس سے بچاؤ
جب بھی داعی کے اندر اس قسم کا خیال آئے کہ:
فلاں بات کا جواب دینا ضروری ہے...
فلاں قلم کے خلاف ضرور کارروائی کی جانی چاہیے...
ورنہ دشمن دلیر ہو کر اور زیادہ زیادتیاں کرے گا...
<u>تو سمجھ لینا چاہیے کہ یہ ایک شیطانی وسوسہ ہے۔</u> مؤمن اور داعی کا فرض ہے کہ وہ ایسے خیال سے اللہ کی پناہ مانگے، نہ کہ وہ اس کے پیچھے دوڑنا شروع کر دے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں