یہی وہ شاہراہ ہے جو تمام انسانوں کو اللہ اور اس کی جنت کی طرف لے جانے والی ہے


 

سبق نمبر ۳: یہی وہ شاہراہ ہے جو تمام انسانوں کو اللہ اور اس کی جنت کی طرف لے جانے والی ہے، مگر آسمانی کتاب کی حامل کسی قوم میں جب بگاڑ آتا ہے تو وہ اس شاہراہ سے دائیں بائیں مڑ جاتی ہے۔ اب یہ ہوتا ہے کہ خود ساختہ تشریحات کے ذریعے دین کا تصور بدل دیا جاتا ہے

قرآنی آیات (سورۃ المائدہ: ۱۲-۱۳)

وَلَقَدْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَبَعَثْنَا مِنْهُمُ اثْنَيْ عَشَرَ نَقِيبًا ۖ وَقَالَ اللَّهُ إِنِّي مَعَكُمْ ۖ لَئِنْ أَقَمْتُمُ الصَّلَاةَ وَآتَيْتُمُ الزَّكَاةَ وَآمَنتُم بِرُسُلِي وَعَزَّرْتُمُوهُمْ وَأَقْرَضْتُمُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا لَأُكَفِّرَنَّ عَنكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَلَأُدْخِلَنَّكُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ ۚ فَمَن كَفَرَ بَعْدَ ذَٰلِكَ مِنكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَاءَ السَّبِيلِ ۝ فَبِمَا نَقْضِهِم مِّيثَاقَهُمْ لَعَنَّاهُمْ وَجَعَلْنَا قُلُوبَهُمْ قَاسِيَةً ۖ يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَن مَّوَاضِعِهِ وَنَسُوا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوا بِهِ ۚ وَلَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلَىٰ خَائِنَةٍ مِّنْهُمْ إِلَّا قَلِيلًا مِّنْهُمْ ۖ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاصْفَحْ ۚ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ ۝

اردو ترجمہ

اور اللہ نے بنی اسرائیل سے عہد لیا، اور ہم نے ان میں سے بارہ سردار مقرر کیے۔ اور اللہ نے فرمایا: میں تمہارے ساتھ ہوں، اگر تم نماز قائم کرو گے اور زکوٰۃ ادا کرو گے اور میرے رسولوں پر ایمان لاؤ گے اور ان کی مدد کرو گے اور اللہ کو قرض حسن دو گے، تو میں تمہارے گناہوں کو ضرور معاف کر دوں گا اور تمہیں ان باغوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔

پھر تم میں سے جو کوئی اس کے بعد کفر کرے گا، تو وہ یقیناً سیدھے راستے سے بھٹک گیا۔

پس ان کی عہد شکنی کی بنا پر ہم نے ان پر لعنت کر دی اور ان کے دل سخت کر دیے۔ وہ کلام کو اس کے محل سے ہٹا دیتے ہیں اور جو کچھ ان کو نصیحت کی گئی تھی اس کا بڑا حصہ بھلا بیٹھے۔

اور تم ان کی خیانتوں کا برابر مشاہدہ کرتے رہو گے، سوائے چند کے۔

پس ان سے درگزر کرو اور معاف کرو، بے شک اللہ احسان کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔


تشریح

بنی اسرائیل سے ان کے پیغمبر کے ذریعے خدا پرستانہ زندگی گزارنے کا عہد لیا گیا، اور ان کے بارہ قبائل سے بارہ سردار ان کی نگرانی کے لیے مقرر کیے گئے۔

عہد کے بنیادی مطالبات

  • نماز کے ذریعے اللہ سے تعلق مضبوط کریں
  • زکوٰۃ کے ذریعے بندوں کے حقوق ادا کریں
  • پیغمبروں پر ایمان لا کر ان کی تائید و مدد کریں
  • اللہ کے دین کی جدوجہد میں اپنا مال خرچ کریں (قرضِ حسن)

ان کاموں کی ادائیگی اور اجتماعی نگرانی کا نظام قائم کرنے کے بعد ہی وہ اللہ کی رفاقت کے مستحق بن سکتے تھے۔ اس طرح اللہ ان کو پاک صاف کر کے جنت کی لطیف فضاؤں میں داخل کرنے کے قابل بنا دیتا۔

جنت کسی کو عمل سے ملتی ہے، نہ کہ صرف نسلی تعلق سے۔

سیدھا راستہ (شاہراہِ دین)

ان عہد میں مذکور اعمال ہی دین کے اساسی اعمال ہیں۔

یہی وہ شاہراہ ہے جو تمام انسانوں کو اللہ اور اس کی جنت کی طرف لے جانے والی ہے۔

مگر جب آسمانی کتاب کی حامل کسی قوم میں بگاڑ آتا ہے تو وہ اس شاہراہ سے بھٹک جاتی ہے۔

بگاڑ کی شکلیں

  • خود ساختہ تشریحات کے ذریعے دین کا اصل تصور بدل دیا جاتا ہے
  • عبادت کے نام پر غیر متعلق چیزیں شامل ہو جاتی ہیں
  • نجات کے ایسے راستے تلاش کیے جاتے ہیں جو بندوں کے حقوق ادا کیے بغیر بھی منزل تک لے جانے کا دعویٰ کرتے ہیں
  • دعوتِ حق کے نام پر بے معنی دنیوی ہنگامے کیے جاتے ہیں
  • دنیوی اخراجات کی کئی مدات بنا لی جاتی ہیں، جنہیں "دین کے لیے خرچ" کا نام دے دیا جاتا ہے

یوں وہ لوگ اپنے دنیوی مفادات کے مطابق ایک نیا دین گھڑتے ہیں اور اسے "اللہ کا دین" قرار دیتے ہیں۔

عہد شکنی کا انجام

جب کسی گروہ میں بگاڑ اس حد تک پہنچ جائے تو اللہ ان سے اپنی توجہ ہٹا لیتا ہے۔

  • وہ اللہ کی توفیق سے محروم ہو جاتے ہیں
  • اپنی خواہشات ہی کو دین سمجھ کر زندگی گزارتے ہیں
  • یہاں تک کہ موت آ جاتی ہے، تاکہ انہیں اللہ کی عدالت میں پیش کیا جائے

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں