🌹 سلسلہ اسماءُ المصطفیٰ ﷺ 🌹
قسط نمبر 25
✦ اسماءِ مبارکہ: الصَّادِقُ ﷺ — الْمَصْدُوقُ ﷺ ✦
(بطورِ وصفی القاب — حدیث سے ثابت اوصاف)
✦ تمہید
صدق (سچائی) نبوت کی بنیاد ہے۔ نبی کریم ﷺ کی بعثت سے پہلے بھی آپ ﷺ “الصادق الأمین” کے لقب سے معروف تھے۔
آج کی قسط میں ہم دو مربوط اوصاف کا جائزہ لیتے ہیں:
-
الصَّادِقُ (سچ بولنے والے)
-
الْمَصْدُوقُ (جن کی تصدیق کی گئی، یا جو سچے قرار دیے گئے)
ہم اپنے طے شدہ تحقیقی معیار کے مطابق ان کا درجہ متعین کریں گے۔
✦ اوّل: الصَّادِقُ ﷺ
◾ لغوی معنی
الصادق
مادہ: ص د ق
معنی: سچا، قول و فعل میں یکساں، جس کی بات حقیقت کے مطابق ہو۔
◾ قرآنی تحقیق
قرآنِ مجید میں نبی ﷺ کو براہِ راست “الصادق” بطورِ لقب نہیں کہا گیا، لیکن آپ ﷺ کی صداقت کی تصریح متعدد مقامات پر موجود ہے:
﴿وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَىٰ إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَىٰ﴾
(النجم: 3–4)
یہ آیت آپ ﷺ کی مطلق صداقت کی دلیل ہے۔
◾ سیرت کی شہادت
بعثت سے پہلے قریش آپ ﷺ کو “الصادق الأمین” کہتے تھے۔
اعلانِ نبوت کے وقت جب آپ ﷺ نے صفا پہاڑی پر پوچھا:
“اگر میں کہوں کہ پہاڑ کے پیچھے لشکر ہے تو کیا تم تصدیق کرو گے؟”
سب نے کہا:
“ہم نے آپ کو کبھی جھوٹا نہیں پایا”
✦ دوم: الْمَصْدُوقُ ﷺ
◾ لغوی معنی
المصدوق
مادہ: ص د ق
معنی: جس کی تصدیق کی گئی ہو، جسے سچا مانا گیا ہو۔
◾ حدیثی تصریح
صحیح بخاری و صحیح مسلم میں حدیثِ مشہور (حدیثِ تخلیقِ جنین) میں الفاظ ہیں:
«وَهُوَ الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ»
ترجمہ:
“اور وہ (نبی ﷺ) سچے اور سچے قرار دیے گئے ہیں۔”
📌 یہ الفاظ صحابہؓ کی روایت میں بطورِ وصف وارد ہوئے ہیں، اور محدثین نے انہیں نبی ﷺ کی شان کے بیان کے طور پر نقل کیا ہے۔
✦ درجہ (تحقیقی نتیجہ)
الصَّادِقُ ﷺ
الْمَصْدُوقُ ﷺ
❌ قرآن میں بطورِ مستقل لقب صراحتاً وارد نہیں
✔️ حدیثِ صحیح میں بطورِ وصف وارد (وہو الصادق المصدوق)
✔️ سیرت و اجماعِ امت سے قطعی طور پر ثابت اوصاف
📌 درجہ: حدیث سے ثابت وصفی القاب
✦ مفہوم کی گہرائی
1️⃣ الصادق
آپ ﷺ:
-
کبھی جھوٹ نہ بولنے والے
-
وحی میں سچے
-
معاملات میں سچے
-
وعدوں میں سچے
2️⃣ المصدوق
آپ ﷺ:
-
اللہ کی طرف سے تصدیق شدہ
-
جبریلِ امین کی گواہی یافتہ
-
صحابہؓ کی گواہی سے مزین
-
تاریخ کے امتحان میں سچے ثابت
✦ روحانی پیغام
اگر نبی ﷺ “الصادق المصدوق” ہیں،
تو امت کی پہچان بھی صدق ہونی چاہیے:
-
گفتار میں سچائی
-
معاملات میں دیانت
-
وعدوں میں وفاداری
صدق ایمان کی بنیاد ہے۔
✦ خلاصہ
“الصادق” اور “المصدوق” بطورِ مستقل نصّی اسم قرآن میں وارد نہیں،
لیکن صحیح حدیث میں صراحت کے ساتھ بطورِ وصف آئے ہیں،
اور سیرتِ نبوی ﷺ کی بنیادی اور قطعی صفات میں سے ہیں۔
لہٰذا انہیں واضح تنبیہ کے ساتھ وصفی القاب (حدیث سے ثابت) کے درجے میں شامل کیا جاتا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں