گرافک ڈیزائنر بننے کی ایک معصوم سی داستان
آج سے کوئی دس برس پہلے گرافک ڈیزائننگ ایک ایسی پُرمغز، پُراسرار اور پُرمہارت چیز سمجھی جاتی تھی کہ اسے دیکھ کر میرے جیسے سادہ دل آدمی کے ہاتھ پاؤں پھول جاتے تھے۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے یہ کام عام انسانوں کے لیے نہیں بلکہ کسی خاص قبیلے کے لوگوں کے لیے مخصوص ہے، جو کی بورڈ پر انگلیاں بھی اس طرح چلاتے ہیں جیسے ستار بجا رہے ہوں، اور ماؤس کو ایسے گھماتے ہیں جیسے مصور برش پھیر رہا ہو۔
خاص طور پر ایڈوبی فوٹو شاپ اور السٹریٹر جیسے پروگرام تو میرے نزدیک ایسے تھے جیسے کسی نو آموز سپاہی کے سامنے ایک دم توپ، بندوق، تلوار، زرہ، خود اور گھوڑا سب اکٹھا لا کھڑا کیا جائے۔ میں دل ہی دل میں ان سے مرعوب بھی تھا اور ذرا خائف بھی۔ چنانچہ اپنی جھینپ مٹانے کے لیے میں ایک فلسفیانہ جملہ بڑے اعتماد سے کہا کرتا تھا:
“جب سیب چھری سے کٹ جاتا ہے تو تلوار استعمال کیوں کریں؟”
یہ جملہ سننے میں بڑا دانائی بھرا لگتا تھا، مگر حقیقت یہ تھی کہ بندہ تلوار اٹھانے کے قابل ہی نہیں تھا۔ سو ہم نے چھری ہی کو غنیمت جانا۔ چھوٹے موٹے ٹولز کی مدد سے تصویروں میں ادھر سے کاٹا، اُدھر سے جوڑا، کہیں رنگ ہلکا کیا، کہیں تحریر چپکا دی — اور دل کو تسلی دے لی کہ یہی بھی ایک فن ہے۔ گویا ہم ایڈیٹنگ کی حد تک تو کچھ نہ کچھ کر لیتے تھے، مگر کری ایشن کے میدان میں ہماری حالت وہی تھی کہ:
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے مرے ارماں، لیکن پھر بھی کم نکلے
فوٹو شاپ میرے لیے ایک ایسا شہر تھا جس کا راستہ تو معلوم تھا، مگر اندر جا کر ہر گلی اجنبی لگتی تھی۔ ایک ٹول کھولو تو چار اور منہ نکال لیتے تھے، ایک مینو سمجھو تو دوسرا آنکھیں دکھانے لگتا تھا۔ یوں لگتا تھا کہ یہ سافٹ ویئر نہیں، داخلہ امتحان ہے۔
البتہ کمپیوٹر سے میرا رشتہ اُس زمانے سے ضرور قائم تھا جب ایم ایس ڈاس 6.22 کا دور دورہ تھا اور ونڈوز ابھی پوری شان سے منظر عام پر نہیں آئی تھی۔ اُس دور میں میرا ایک ایسا تاریخی کارنامہ بھی ہے جسے میں آج تک اپنی کمپیوٹری زندگی کا سنگِ میل سمجھتا ہوں۔ ہوتا یوں تھا کہ اگر ڈاس میں کوئی غلط کمانڈ دے دی جائے تو جواب میں ایک پیغام نمودار ہوتا تھا:
Bad command or file name
اب عام لوگ اس پیغام سے گھبرا جاتے ہوں گے، مگر ہم نے اس میں بھی تخلیقی امکانات تلاش کر لیے۔ نہ جانے کیسے، مگر میں نے اس لائن کو ایڈٹ کرکے وہاں اپنا نام لکھ دیا۔ چنانچہ اب جب بھی غلطی ہوتی، کمپیوٹر بڑے ادب سے میرا نام دکھاتا:
Mian Muhammad Shahid Sharif
یہ گویا میری ابتدائی گرافک ڈیزائننگ تھی — فرق صرف یہ تھا کہ اُس زمانے میں تصویر نہیں، ایرر میسج ایڈٹ کیا جاتا تھا۔ آج کے لوگ اسے کچھ بھی کہیں، مگر میں اسے اپنی فنی زندگی کا پہلا “پرسنلائزڈ انٹرفیس” سمجھتا ہوں۔ بعض لوگ لوگو بناتے ہیں، میں نے پورا ایرر اپنے نام کر لیا تھا۔
یہ الگ بات ہے کہ یہ مہارت دنیا کے کسی نصاب میں شامل نہیں تھی۔
خیر، وقت گزرتا گیا۔ دنیا بدلتی گئی۔ سافٹ ویئر مزید ذہین ہوتے گئے اور میں حسبِ توفیق ان کے قریب سے گزرتا رہا۔ لیکن پھر ایک ایسا زمانہ آیا جس نے ہم جیسے لوگوں کی قسمت ہی بدل دی — اے آئی کا زمانہ۔
یہ وہ مبارک دور ہے جس میں محنت اپنی جگہ، مگر کاپی پیسٹ جیسی مظلوم صلاحیتوں کو بھی عزت مل گئی۔ اور یہاں آ کر مجھے پہلی بار محسوس ہوا کہ بندہ زندگی بھر خود کو کم نہ سمجھے، کیا خبر کل زمانہ اسی ہنر کو سر آنکھوں پر بٹھا لے۔ جو کام کبھی کمزوری سمجھا جاتا تھا، آج وہی مہارت بن کر سامنے آگیا۔
مجھے اعتراف ہے کہ کاپی پیسٹ میری پرانی، پختہ اور آزمودہ مہارت ہے۔ میں اس فن میں یوں طاق رہا ہوں جیسے پرانے زمانے کا کاتب خوشخطی میں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ وہاں قلم چلتا تھا، یہاں Ctrl+C اور Ctrl+V۔ اور اب اے آئی کے دور میں یہی ہنر میرے بہت کام آ رہا ہے۔ آج میں ایک مناسب سا پرامپٹ لکھوں، دو لفظ اِدھر کے اُدھر کروں، ذرا سی نوک پلک سنواروں، اور ایک گھنٹے میں درجن بھر ایسی تصاویر تیار ہو جاتی ہیں کہ دیکھنے والا پوچھے: “بھئی، یہ سب تم نے بنایا ہے؟”
اور میں دل میں کہتا ہوں: “جی، بنایا تو ہے… بس ہاتھ کچھ کم اور عقلِ پرامپٹ کچھ زیادہ لگی ہے!”
اب معاملہ یہ ہے کہ جو فوٹو شاپ کبھی مجھے آنکھیں دکھایا کرتی تھی، آج اے آئی میرے ساتھ نہایت شائستگی سے تعاون کرتی ہے۔ میں کہتا ہوں: “حضرت، ایک شاندار منظر بنا دیجیے، تھوڑی روشنی ادھر سے، کچھ وقار اُدھر سے، رنگت ایسی کہ دیکھنے والا سبحان اللہ کہہ اٹھے” — اور وہ چند لمحوں میں مسودہ حاضر کر دیتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پہلے میں اوزاروں کے پیچھے بھاگتا تھا، اور اب اوزار میری ہدایات کے منتظر کھڑے ہیں۔
ایک زمانہ تھا کہ کری ایشن میرے بس سے باہر تھی، اب زمانہ ایسا آیا ہے کہ ہدایات میری ہیں اور کری ایشن مشین کر رہی ہے۔ گویا پہلے ہم مزدور تھے، اب سپروائزر ہو گئے ہیں۔ پہلے ہم سافٹ ویئر کے رحم و کرم پر تھے، اب سافٹ ویئر ہمارے پرامپٹ کے رحم و کرم پر ہے۔
اس سارے سفر میں مجھے ایک بات ضرور سمجھ آئی کہ دنیا میں ہنر کی شکلیں بدلتی رہتی ہیں۔ کبھی ہاتھ سے کام لینے والے آگے ہوتے ہیں، کبھی ذہن سے، اور کبھی صرف صحیح جملہ لکھ دینے والے۔ سو اب اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ آپ گرافک ڈیزائنر کیسے بنے؟ تو میں بڑے اطمینان سے عرض کروں گا:
“بھائی، ہم نے پہلے زمانے کی مشکل ڈیزائننگ سے دامن بچائے رکھا، پھر وقت نے ایسا پلٹا کھایا کہ ڈیزائننگ خود ہمارے دروازے پر آ کھڑی ہوئی۔”
اور سچ پوچھیے تو آج بھی میرا پرانا فلسفہ کچھ غلط نہیں۔
“جب سیب چھری سے کٹ جائے تو تلوار کیوں استعمال کی جائے؟”
البتہ اب فرق یہ ہے کہ میرے ہاتھ میں چھری بھی جدید ہو گئی ہے، اور سیب بھی خود آ کر کہتا ہے: “حضور، کاٹنا کہاں سے ہے؟”
آخر میں بس اتنا ہی کہ انسان کو اپنی کسی صلاحیت کو حقیر نہیں سمجھنا چاہیے۔ کیا معلوم، آج جس چیز پر لوگ ہنس رہے ہوں، کل وہی آپ کی پہچان بن جائے۔ میں نے تو زندگی سے یہی سیکھا ہے کہ کبھی کبھی بڑے ہنر سے زیادہ قیمت صحیح وقت پر صحیح بٹن دبانے کی ہوتی ہے۔
اور ہمارے حال پر یہ مصرع خوب صادق آتا ہے:
زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا
ہم ہی سو گئے داستاں کہتے کہتے
البتہ ہمارے معاملے میں ذرا ترمیم یوں ہوگی:
زمانہ بڑے شوق سے دیکھ رہا ہے
ہم کاپی پیسٹ سے فن بنا رہے ہیں

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں