سبق نمبر 50: خلاصۂ قرآن رکوع بہ رکوع


 

سبق نمبر 50: خلاصۂ قرآن رکوع بہ رکوع

سورۂ منافقون کا خلاصہ

اہلِ دولت کے فرائض اس سورت میں مالداروں اور دولت مندوں کے فرائض اور ذمہ داریاں متعین کی جا رہی ہیں، جیسا کہ عنقریب گزرا۔

رکوع نمبر ۱ کا خلاصہ: منافقین کی علامت جو لوگ دولت و ثروت سے مالا مال ہونے کے باوجود وسعت اور گنجائش کے باوجود راہِ خداوندی میں اپنا مال خرچ کرنے سے دریغ کرتے ہیں، ان پر نفاق کا حکم عائد ہوتا ہے۔ ورنہ مؤمنینِ مخلصین تو اللہ کے راستے میں خرچ کرنے سے نہیں ڈرتے۔

رکوع نمبر ۲ کا خلاصہ: تلقینِ بیداری اس رکوع میں مسلمانوں کو ہوشیار کیا جا رہا ہے کہ وہ مال و دولت اور اولاد کے چکر میں پھنس کر اپنے آپ کو ہلاکت کے تباہی خیز گڑھے میں گرنے سے بچائیں اور ہمیشہ اپنے آپ کو بیدار رکھیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ شیطان حملہ کرے اور کامیاب ہو جائے، پھر بعد میں تم اللہ سے مہلت کی درخواست کرتے پھرو، جو ظاہر ہے کہ قبول نہیں ہو سکتی۔


سورۂ تغابن کا خلاصہ

فوزِ عظیم حضور ﷺ کی کامل و مکمل اتباع میں اللہ تعالیٰ نے دین و دنیا کی کامیابیوں کا راز پنہاں فرما رکھا ہے۔ دنیا میں تو ہر ایک کی زندگی گزر ہی جاتی ہے، اصل زندگی تو آخرت کی زندگی ہے۔ جو وہاں کامیاب ہو گیا وہ کبھی ناکام نہیں ہوگا، اور جو وہاں ناکام رہا وہ کبھی کامیاب نہ ہو سکے گا۔

رکوع نمبر ۱ کا خلاصہ: فیصلے کا دن اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات ہونے کا شرف تو عطا کیا ہی ہے، احسن المخلوقات ہونے کا تمغہ بھی اس کی پیشانی پر سجایا ہے، لیکن محض اتنی بات سے اسے عنداللہ کوئی مقبولیت اور فضیلت حاصل نہیں ہو سکتی، بلکہ قیامت کے دن — جو کہ فیصلے کا دن ہے — اصل دار و مدار اتباعِ رسول ﷺ پر ہوگا۔ جن لوگوں نے اپنی زندگیوں کو اتباعِ رسول ﷺ سے سجایا، ان کے لئے بڑی کامیابی کی خوشخبری ہے، اور جن لوگوں نے آیاتِ الٰہیہ کی تکذیب کی اور اطاعتِ رسول ﷺ سے منہ موڑا، وہ ہمیشہ کے لئے جہنم کا تر نوالہ بن گئے۔

رکوع نمبر ۲ کا خلاصہ: مال و اولاد کی آزمائش مسلمانوں کو حکم دیا جا رہا ہے کہ دنیا اور اس کی آرائش و زیبائش میں جی مت گاؤ، ورنہ جب تم بھی اس دنیا کے حملوں سے زخمی ہو کر عالمِ جاودانی کی طرف کوچ کرو گے تو ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس لئے مال و دولت اور بیوی بچے، جو کہ ایک امتحان اور آزمائش کے طور پر تم پر مسلط کئے گئے ہیں، ان کے متعلقہ حقوق ادا کرتے رہو، اسی میں تمہاری کامیابی ہے۔


سورۂ طلاق کا خلاصہ

حقوقُ اللہ میں ترمیم روا نہیں اس سورت میں یہ واضح کیا جا رہا ہے کہ حقوقُ اللہ میں کسی طرح کی ترمیم و تنسیخ کا حق سوائے شارع کے اور کسی کو حاصل نہیں، نیز حقوقُ العباد کا بھی یہی حکم ہے۔ اس لئے اس سورت میں جو احکام و مسائل بتائے جا رہے ہیں ان پر پورا پورا عمل ضروری ہے۔

رکوع نمبر ۱ کا خلاصہ: مسائلِ طلاق اس رکوع میں طلاق کے متعدد اور مختلف احکام و مسائل ذکر کئے جا رہے ہیں:

  1. طلاق طُہر میں دی جائے اور عدّت خاوند کے گھر میں بسر کی جائے۔

  2. جب طلاقِ رجعی کی عدّت ختم ہونے کے قریب ہو تو رجوع کر لیا جائے یا پھر عزت کے ساتھ رخصت کر دیا جائے، اوّل صورت میں گواہ مقرر کر لئے جائیں/

  3. آئسہ عورت کی عدّت تین ماہ، حاملہ کی عدّت وضعِ حمل، اور حائضہ کی عدّت تین حیض ہے۔

رکوع نمبر ۲ کا خلاصہ: حقوقُ اللہ میں ترمیم کا نتیجہ قبل ازیں جن اممِ سابقہ نے اللہ اور رسول ﷺ کے احکامات سے روگردانی کی، ان میں تحریف اور ترمیم و تنسیخ کے درپے ہوئے، انہیں سخت عذاب سے دوچار ہونا پڑا۔ اسی طرح جو لوگ حقوقُ العباد میں ایسا کریں گے وہ بھی عذابِ الیم کے مستحق ہوں گے۔


سورۂ تحریم کا خلاصہ

فرائضِ منصبی کی ادائیگی انسان کو جو فرائضِ منصبی سپرد کئے جائیں، اسے وہ انتہائی خوش دلی اور پوری تندہی کے ساتھ انجام دینے چاہئیے اور اس میں کسی چیز کو بھی مخل نہ ہونے دینا چاہئیے، جیسا کہ انبیاء علیہم السلام کا طریقہ رہا ہے۔

رکوع نمبر ۱ کا خلاصہ: جہنم کی آگ سے بچو اور بچاؤ اگر حضور ﷺ کی ازواجِ مطہرات بھی منصبی فرائض کی ادائیگی میں رکاوٹ بنیں — جو کبھی نہ ہوا — تو انہیں بھی طلاق دے دی جائے، کیونکہ منصبِ نبوت انتہائی رفیع مقام ہے، اس کی ذمہ داریاں اور قربانیاں بھی بہت ہیں۔ پھر مسلمانوں کو حکم دیا جا رہا ہے کہ خود بھی جہنم کا ایندھن بننے سے بچو اور اپنے اہل و عیال کی حفاظت کا بھی انتظام کرو۔

رکوع نمبر ۲ کا خلاصہ: دنیاوی رشتہ داری مدارِ نجات نہیں اس رکوع میں مسلمانوں سے کہا جا رہا ہے کہ تم خود ہی نیک اعمال پر کمربستہ ہو جاؤ، گزشتہ گناہوں والی زندگی سے پکی سچی توبہ کرو، ورنہ آخرت میں کوئی نسبی تعلق اور کوئی رشتہ داری کام نہ آئے گی۔ حضرت نوح اور لوط علیہما السلام کی بیویاں اس کی واضح مثالیں ہیں جو پیغمبر کی شریکِ حیات ہونے کے باوجود بخشش کا پروانہ حاصل نہ کر سکیں۔


سورۂ ملک کا خلاصہ

شہنشاہِ عالم مخالفین و معاندین سے کہا جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ بادشاہِ مطلق، فرمانروائے کائنات اور شہنشاہِ عالم ہے، اس کے اس نظامِ عالم پر بادشاہت، فرمانروائی اور شہنشاہیت کو تسلیم کر کے اپنی وفاداری کا عملی ثبوت پیش کرو۔

رکوع نمبر ۱ کا خلاصہ: باغی اور وفادار کارخانۂ عالم ایک حکیم و خبیر اور علیم و قدیر ہستی کے وجود کی خبر دیتا ہے، جس نے اس قدر پختہ اور مضبوط نظام پیدا کر رکھا ہے، وہی ہستی اس کارخانۂ عالم کی فرمانروا ہے۔ اس سے بغاوت نہ کرو، جو لوگ اللہ تعالیٰ کو اس کائنات کا مدبّر و فرمانروا تسلیم نہیں کرتے، ان کے لئے جیل (جہنم) تیار ہے، اور وفاداروں کے لئے مغفرت اور اجرِ کبیر کا وعدہ ہے۔

رکوع نمبر ۲ کا خلاصہ: لشکرِ خداوندی جو لوگ بغاوت کے جرم کے مرتکب ہو رہے ہیں وہ یہ نہ سمجھیں کہ خدا انہیں سزا نہیں دے سکتا۔ یقیناً اللہ آسمان سے ان پر گوناگوں عذاب لانے پر قادر ہے، اور خدائی لشکر اور اس کی فوج اتنی زیادہ ہے کہ اس کا مقابلہ ناممکن ہے۔ پھر کس بل بوتے پر یہ لوگ جلدی عذاب کا تقاضا کرتے رہتے ہیں؟

"آج الحمدللہ سورة منافقون سورۃ تغابن سورۃ طلاق سورۃ تحریم سورۃ ملک کی رکوعات کا خلاصہ مکمل ہوا، کل ان شاء اللہ سورة قلم شروع کرینگے۔"

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں