سبق نمبر 54: خلاصۂ قرآن رکوع بہ رکوع سورۃ الفجر تا سورۃ القدر


 

سبق نمبر 54: خلاصۂ قرآن رکوع بہ رکوع

سورۂ غاشیہ کا خلاصہ

جماعتِ مسلمین کی صفات اس سورۂ مبارکہ میں اولاً قیامت کے دن مؤمنین و مجرمین کی کیفیات ذکر کر کے ان کا انجام واضح کیا گیا ہے، اور اس کے بعد یہ بیان کیا گیا ہے کہ جو لوگ راہِ خدا میں اپنی متاعِ حیات کو وقف کیے ہوں، ہر شعبے سے وابستہ افراد میں یہ چار خصلتیں ہونی چاہئیں:

  1. اونٹ جیسی سادگی

  2. آسمان کی بلندیوں جیسے بلند و رفیع مقاصد و عزائم

  3. پہاڑوں جیسی استقامت

  4. زمین جیسی عاجزی


سورۂ فجر کا خلاصہ

مصائب، انسان کی بداعمالی کا نتیجہ جزا و سزا اور گزشتہ اقوام کے درسِ عبرت کو ذکر کر کے یہ بتایا جا رہا ہے کہ اعمال کی جزا و سزا کا سلسلہ دنیا ہی میں شروع ہو جاتا ہے۔ انسان پر دنیا میں جو مصائب و آلام آتے ہیں، وہ عام طور پر اس کی بداعمالی کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نفسِ مطمئنہ اپنی موت کے وقت اس بشارت سے اپنے کانوں کو محظوظ کرے گا:

﴿اِرْجِعِي إِلٰى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً ۝ فَادْخُلِي فِي عِبَادِي ۝ وَادْخُلِي جَنَّتِي﴾


سورۂ بلد کا خلاصہ

فرائضِ انسانی انسان اس دنیا میں آرام و راحت کے حصول اور مال و دولت جمع کرنے کے لیے نہیں آیا، بلکہ وہ یہاں کام کرنے کے لیے آیا ہے۔ اس کی مثال اس مسافر کی سی ہے جو دورانِ سفر ایک درخت کے نیچے سستانے کے لیے بیٹھ جائے، اور کچھ دیر بعد اسے چھوڑ کر اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہو جائے۔


سورۂ شمس کا خلاصہ

مظاہرِ قدرت کا مشاہدہ نظامِ عالم کے بڑے ارکان اور خود نفسِ انسانی اس بات پر گواہ ہیں کہ انسان تزکیہ سے فلاح پاتا ہے، اور تباہی و خسران اس وقت راہ بناتے ہیں جب انسان اپنے آپ کو فسق و فجور میں غرق کر لے۔ جیسے قومِ ثمود کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ قعرِ مذلت میں گر پڑی۔


سورۂ لیل کا خلاصہ

ہر انسان کی کوشش کا طریقہ مختلف ہے طبائعِ انسانی کے اختلاف کی وجہ سے انسان کے اعمال میں بھی اختلاف ہونا فطری بات ہے۔ چنانچہ بعض انسانوں کے اعمال تقویٰ کے آئینہ دار اور رشکِ ملائک ہوتے ہیں، جبکہ بعض کے اعمال کفر و طغیان کے عکاس۔ اول الذکر گروہ کے لیے جنت کا وعدہ ہے اور مؤخر الذکر کے لیے جہنم کی بشارت۔


سورۂ ضحیٰ کا خلاصہ

زمانۂ فترت کی حیثیت ابتدائے وحی میں التوائے وحی حضور ﷺ کی تقویتِ ایمانی اور اعلیٰ اخلاقی اقدار کی تکمیل کے لیے تھا۔ اس کا مقصد ہرگز یہ نہ تھا کہ اللہ نے آپ ﷺ کو تنہا چھوڑ دیا ہے۔ کیا اللہ نے یتیمی اور تنگ دستی میں آپ ﷺ کو ٹھکانہ اور غنا دیے بغیر چھوڑ دیا تھا؟ ہرگز نہیں! اس لیے آپ ﷺ پریشان نہ ہوں۔


سورۂ انشراح کا خلاصہ

احساناتِ رب بر پیغمبرِ اسلام ﷺ یہ سورت سورۂ ضحیٰ کا تتمہ ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ رب نے آپ ﷺ کا سینہ کشادہ فرمایا، بوجھ ہلکا کیا اور آپ ﷺ کے ذکر کو بلند فرمایا۔ اس لیے آپ ﷺ مکمل مطمئن رہیں، آپ ﷺ کا رب آپ ﷺ سے ہرگز ناراض نہیں۔


سورۂ تین کا خلاصہ

فرائضِ منصبی کی اہمیت اگر انسان اپنے فرائضِ منصبی خوش دلی اور کامل توجہ سے ادا کرتا رہے تو یہ "احسن المخلوقات" کے تمغے سے معظم ہو جائے، ورنہ "ابغض المخلوقات" کے گڑھے میں جا گرے۔ دوسرے لفظوں میں انسان اپنے فرائض صحیح ادا کرے تو رشکِ ملائک ہے، ورنہ عارِ شیطان۔


سورۂ علق کا خلاصہ

پیغمبرِ اسلام ﷺ کی ذمہ داری تبلیغ و تفویض ہے اس پہلی وحی میں حضور ﷺ کو حکم دیا جا رہا ہے کہ آپ ﷺ اپنی ذمہ داریوں کو جس طرح انجام دے رہے ہیں، اسی راہ پر گامزن رہیں۔ مخالفین اور باغیوں کی سرکوبی ہمارے ذمے ہے، ہم انہیں جہنم کے فرشتوں (زبانیہ) کے حوالے کر دیں گے۔


سورۂ قدر کا خلاصہ

نزولِ قرآنِ کریم قرآنِ کریم شبِ قدر میں لوحِ محفوظ سے آسمانِ دنیا پر نازل کیا گیا، پھر وہاں سے صاحبِ قرآن ﷺ پر 23 سال کے عرصے میں ضرورت کے مطابق تھوڑا تھوڑا نازل ہوا۔ شبِ قدر وہ بابرکت رات ہے جس میں فرشتے مسلمانوں کے قلوب کو سکینت سے بھرپور کرنے کا فریضہ سرانجام دیتے ہیں۔


"آج الحمدللہ سورة غاشیہ، فجر، بلد، شمس، لیل، ضحی، انشراح، تین، علق، قدر کی رکوعات کا خلاصہ مکمل ہوا، کل ان شاء اللہ سورة بینہ شروع کرینگے۔"



کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں