🚫 کسی کی منکوحہ (شادی شدہ) سے نکاح کا شرعی حکم
مرتب: ✍️ مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو (عفی عنہ)
سلسلہ: احکام النکاح | پوسٹ نمبر: 16
بنیادی شرعی مسئلہ
اگر کوئی شادی شدہ عورت (خواہ وہ صاحبِ اولاد ہو یا نہ ہو) اپنے گھر سے نکل جائے اور کسی دوسرے شخص سے نکاح کر لے، تو اس حوالے سے شریعتِ مطہرہ کا حکم نہایت واضح ہے:
نکاح کی حیثیت: جب تک عورت اپنے پہلے شوہر کے نکاح میں ہے، اس کا کسی دوسرے مرد سے نکاح کرنا بالکلیہ باطل ہے۔
حرمت کا سبب: کسی دوسرے شخص سے نکاح اس وقت تک منعقد نہیں ہو سکتا جب تک کہ:
پہلا شوہر اسے طلاق نہ دے دے یا خلع کی صورت نہ بن جائے۔
یا شوہر کا انتقال نہ ہو جائے۔
اور ان دونوں صورتوں کے بعد اس کی عدت مکمل نہ ہو جائے۔
تعلق کی نوعیت: عدت ختم ہوئے بغیر کیا گیا دوسرا نکاح شرعاً منعقد ہی نہیں ہوتا، لہذا ان کا باہمی تعلق ناجائز اور حرام تصور ہوگا۔
📚 مستند حوالہ جات
قرآنِ کریم: سورۃ النساء، آیت نمبر 24
بدائع الصنائع: 2/548
الدرالمختار مع ردالمحتار: 4/274
الفتاویٰ الہندیہ: 1/280
فتویٰ جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی: 144203201363
📢 علمی و تحقیقی پلیٹ فارم
جدید فقہی مسائل اور مستند دینی رہنمائی کے لیے ہمارے پلیٹ فارمز سے وابستہ رہیں:
🌐 آن لائن بلاگ: [
🌐 ایس ای او (SEO) اور ٹیگز
Meta Description: کیا شادی شدہ عورت کا دوسرا نکاح جائز ہے؟ منکوحہ کے نکاح کی حرمت اور عدت کے احکام جانئے مفتی عرفان اللہ درویش کی اس اہم فقہی تحریر میں۔
Keywords: منکوحہ سے نکاح، دوسرا نکاح، عدت کے مسائل، طلاق اور خلع، مفتی عرفان اللہ درویش، جامعہ بنوری ٹاؤن، Marriage with a married woman.
Hashtags:
#Nikah #احکام_نکاح #فقہی_مسائل #حرمت_نکاح #عدت #مفتی_عرفان_اللہ #اصلاح_معاشرہ

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں