سبق نمبر 52: خلاصۂ قرآن رکوع بہ رکوع
سورۂ مدثر کا خلاصہ
حضور ﷺ کا کام فقط تبلیغ ہے حضور ﷺ سے کہا جا رہا ہے کہ آپ دعوت و تبلیغِ حق کا فریضہ سرانجام دیتے رہیں، اور اس راہ میں جو لوگ آپ کی تکذیب کریں، ان کی مطلق پرواہ نہ کیجئے اور انہیں میرے سپرد کر دیجئے، میں ان سے خود ہی بدلہ لے لوں گا۔
رکوع نمبر ۱ کا خلاصہ: فرائضِ تبلیغ حضور ﷺ کو بالخصوص اور تمام مبلغین کو بالعموم یہ فرائض بتائے جا رہے ہیں کہ:
لوگوں کو ڈراتے رہیں۔
رب کی کبریائی اور عظمتِ شان بیان کرتے رہیں۔
اپنے کپڑوں کی پاکیزگی کا خصوصی اہتمام کریں۔
بدلہ پانے کی غرض سے کسی پر احسان نہ کریں۔
پیش آمدہ تکالیف پر رب کی خاطر صبر کریں۔
رکوع نمبر ۲ کا خلاصہ: انکار پر اصرار کی سزا جو لوگ مخالفت، تکذیب اور تکفیر کا علمِ بغاوت بلند کیے ہوئے ہیں، اور عباداتِ بدنیہ و مالیہ سے راہِ تنفر اختیار کیے ہوئے ہیں، ان کے لیے جہنم کا داخلہ قطعی اور یقینی ہو چکا ہے۔
سورۂ قیامہ کا خلاصہ
اثباتِ قیامت جس طرح ہر انسان کے اندر ایک نفسِ لوامہ ہے جو اسے گناہوں پر ملامت کرتا رہتا ہے، اسی طرح نوعِ انسانی کا بھی ایک نفسِ لوامہ ہے جو افرادِ انسانی کو قیامت کے دن ان کے گناہوں اور غلطیوں پر ملامت کرے گا۔
رکوع نمبر ۱ کا خلاصہ: قیامت سے مفر ممکن نہیں قیامت ایک ایسا حادثۂ فاجعہ ہے جو واقع ہو کر رہے گا۔ اس دن بعض لوگوں کے چہرے انتہائی روشن ہوں گے اور وہ اپنے رب کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے، اور بعض چہرے انتہائی غمگین اور پریشان ہوں گے، یہ وہ لوگ ہوں گے جو منکرینِ قیامت تھے۔
رکوع نمبر ۲ کا خلاصہ: رفعِ استبعادِ قیامت جس اللہ نے انسان کو منی کے ایک ناپاک قطرے سے پیدا فرما دیا اور اسے جیتا جاگتا انسان بنا دیا، کیا وہ خدا اس بات پر قادر نہیں کہ انسان کو دوبارہ زندہ کر سکے؟ وہ قیامت کے دن تمام مردوں کو زندہ کر کے جزا و سزا کا قانون نافذ فرمائے گا۔
سورۂ دہر کا خلاصہ
نفیِ دھریت اس سورت میں یہ بتایا جا رہا ہے کہ عالم کے اندر ہونے والے تغیرات کا دار و مدار زمانہ پر نہیں بلکہ ہر چیز کی ساخت و پرداخت میں مشیتِ ایزدی کارفرما ہے۔
رکوع نمبر ۱ کا خلاصہ: اثباتِ صانع اللہ تعالیٰ یہ بیان فرما رہے ہیں کہ انسان پر کوئی لمحہ مشیتِ ایزدی کے بغیر نہیں گزرتا۔ شکر گزار بندوں کے لیے جنت میں شرابِ طہور کے مزے ہیں؛ یہ وہ لوگ ہوں گے جو مسکینوں کو کھانا کھلاتے ہیں اور اس پر کسی بدلے یا شکریے کے طالب نہیں ہوتے۔
رکوع نمبر ۲ کا خلاصہ: مطیعینِ صانع کا طریقہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے وجود کے قائل ہیں، ان کے لیے طریقۂ عمل یہ ہے کہ وہ رب کے احکامات پر سختی سے عمل پیرا رہیں، صبح و شام رب کے ذکر میں مشغول رہیں، اور راتوں کو اٹھ کر بارگاہِ ایزدی میں سجدوں کا نذرانہ پیش کریں۔
سورۂ مرسلات کا خلاصہ
مسئلۂ مجازات اور یومِ قیامت کی تیاری کی ترغیب اس سورت میں قیامت اور جزائے اعمال کے بارے میں بتایا جا رہا ہے اور انسان کو یومِ حساب کی تیاری کی ترغیب دلائی جا رہی ہے۔
رکوع نمبر ۱ کا خلاصہ: منکرینِ قیامت کا انجامِ بد منکرین کا فیصلہ یومُ الفصل تک مؤخر کیا جا رہا ہے۔ اس دن ان کے لیے ہلاکت کے سوا کچھ نہ ہوگا۔ کوئی مکر و فریب یا حیلہ و تدبیر انہیں عذابِ جہنم سے بچا نہ سکے گی، اس لیے انہیں ابھی سوچ لینا چاہیے۔
رکوع نمبر ۲ کا خلاصہ: اقرارِ قیامت کی جزاء جو لوگ عقیدۂ قیامت پر ایمان رکھتے ہیں، ایسے لوگ باغات اور چشموں میں سیر کریں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ یہ تمہارے اعمال کا صلہ اور بدلہ ہے۔
سورۂ نبأ کا خلاصہ
یومُ المجازاة کی تشریح اس سورت میں قیامت کے دن کی تشریح نہایت اچھوتے اسلوب اور قابلِ فہم مثالوں کے ذریعے کی جا رہی ہے۔
رکوع نمبر ۱ کا خلاصہ: نظامِ عالم میں انسان مقصود بالذات ہے نظامِ عالم میں مقصود بالذات صرف انسان ہے اور باقی تمام نظام (زمین، آسمان، سورج) اسی کی خاطر مہیا کیے گئے ہیں۔ جس طرح کھیتی کی کٹائی کا دن مقرر ہوتا ہے، اسی طرح انسان کے اعمال کا بدلہ دینے کے لیے بھی ایک دن مقرر ہے، جس میں متقین بمنزلۂ اناج ہوں گے اور مجرمین بمنزلۂ بھوسہ۔
رکوع نمبر ۲ کا خلاصہ: متقین کی جزاء جو لوگ تقویٰ اختیار کر کے بمنزلۂ اناج بن گئے، ان کے لیے کامیابی، باغات، اور نعمتوں کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ اس دن اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر کوئی بات کرنے کی جرأت نہیں کر سکے گا۔
"آج الحمدللہ سورة مدثر سورۃ قیامہ سورۃ دہر سورۃ مرسلات سورۃ نبا کی رکوعات کا خلاصہ مکمل ہوا، کل ان شاء اللہ سورة نازعات شروع کرینگے۔"

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں