تخلیقِ انسانی اور شکر گزاری کا تقاضا
"انسان کا آغاز ایک حقیر مادہ سے ہوتا ہے"
سبق نمبر 41
آیتِ مبارکہ
خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ فَإِذَا هُوَ خَصِيمٌ مُّبِينٌ (سورۃ النحل: آیت ۴)
ترجمہ
"اس نے انسان کو ایک بوند سے بنایا، پھر وہ اچانک کھلم کھلا جھگڑنے لگا۔"
تشریح و بصیرت
انسان کا آغاز ایک حقیر مادہ سے ہوتا ہے مگر بڑا ہو کر وہ اللہ کا مدّ مقابل بننے کی کوشش کرتا ہے۔
سرکشی کی نفی: وہ اللہ کی کائنات میں بے خدا بن کر رہنا چاہتا ہے۔ اگر انسان اپنی ابتدائی حقیقت کو نظر میں رکھے تو کبھی زمین میں سرکشی کا رویہ اختیار نہ کرے۔
کائنات کی نعمتیں اور چوپائے
اللہ تعالیٰ نے انسان کی ضروریات کے لیے بے شمار نعمتیں مہیا کی ہیں:
زندہ مشینیں: چوپائے قدرت کی وہ مشینیں ہیں جو گھاس کھا کر اسے دودھ اور گوشت میں تبدیل کرتی ہیں۔
لباس اور اثاثہ: ان کے بال اور اون انسانی پوشاک بنتے ہیں اور ان کا غلہ (ریوڑ) انسان کی شان اور اثاثے میں اضافہ کرتا ہے۔
سواری اور باربرداری: وہ انسان اور اس کے سامان کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچاتے ہیں۔
اللہ ایسی چیزیں پیدا کرتا ہے جن کو تم نہیں جانتے: اس سے مراد وہ جدید ذرائع اور مشینیں ہیں جو آج انسان کے زیرِ استعمال ہیں۔ یہ سب اس بات کی دلیل ہیں کہ خالق بے حد مہربان ہے اور انسان پر لازم ہے کہ وہ اپنے رب کا شکر گزار بنے۔
سیدھا راستہ اور بھٹکتی پگڈنڈیاں
جس طرح منزل تک پہنچنے کے لیے ایک متعین اور سیدھی سڑک ہوتی ہے، اسی طرح اللہ تک پہنچنے کا بھی ایک ہی راستہ ہے:
شاہراہِ توحید: یہ توحید اور تقویٰ کا راستہ ہے۔
بھٹکاو: اگر کوئی شخص اصل سڑک چھوڑ کر اطراف کی پگڈنڈیوں (خود ساختہ راستوں) پر چل پڑے گا، تو وہ کبھی اپنی منزلِ مقصود (اللہ) تک نہیں پہنچ سکے گا۔
اختیار کا امتحان اور قرآن کا اعجاز
دنیا کی ہر چیز اللہ کے حکم کی پابند ہے، مگر انسان کا معاملہ مختلف ہے:
اختیاری پابندی: اللہ نے انسان کو مجبورِ محض بنانے کے بجائے "اختیار" دیا ہے تاکہ وہ اپنی مرضی سے صحیح راستے کا انتخاب کرے۔
نور بمقابلہ ظلمات: قرآن میں "نور" (روشنی) کا لفظ واحد استعمال ہوا ہے، یعنی اللہ تک پہنچنے کا راستہ صرف ایک ہے۔ جبکہ "ظلمات" (اندھیرے) جمع کا صیغہ ہے، جس کا مطلب ہے کہ بھٹکنے کے راستے بہت سے ہیں۔
عقلمند کے لیے اشارہ کافی ہے اور یہ قرآن کا اعجاز ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں