🦉 محاورہ: "اپنا الو سیدھا کرنا"


 

🦉 محاورہ: "اپنا الو سیدھا کرنا"

🦉 تلفظ (Apnā ullū sīdhā karnā) 🗣️🎙️

📖 معانی و مفہوم یہ محاورہ اس صورتحال کی عکاسی کرتا ہے جب کوئی شخص:

  • صرف اپنے ذاتی مفاد یا غرض کے لیے دوسروں کو استعمال کرے۔ 😏

  • کسی کو دھوکہ دے کر یا باتوں میں الجھا کر اپنا کام نکال لے۔

  • اخلاقیات کو بالائے طاق رکھ کر صرف اپنی مطلب برآری کرے۔

🔹 سادہ الفاظ میں: خود غرضی دکھانا اور دوسروں کے نقصان کی پروا کیے بغیر اپنا کام بنا لینا۔ 💸

📍 موقع و محل یہ محاورہ ان مواقع پر بولا جاتا ہے جہاں:

  • کوئی شخص ضرورت کے وقت تو چاپلوسی کرے لیکن کام نکلتے ہی غائب ہو جائے۔

  • کسی کی چالاکی اور خود غرضی کو طنزیہ بیان کرنا مقصود ہو۔

  • جب کوئی سیاست دان یا افسر عوام کو بیوقوف بنا کر اپنا فائدہ حاصل کرے۔

مثال: "آج کل کے لوگ مخلص نہیں ہوتے، بس میٹھی باتیں کر کے اپنا الو سیدھا کرنا جانتے ہیں۔" 🕵️‍♂️

📜 تاریخ و واقعہ قدیم زمانے میں الو کو ایک بیوقوف پرندہ سمجھا جاتا تھا جسے آسانی سے قابو کیا جا سکتا ہے۔ شکاری یا مداری الو کو سدھانے (سیدھا کرنے) کے لیے اسے خاص طریقے سے بٹھاتے تھے تاکہ اسے چارے کے طور پر استعمال کر کے دوسرے پرندوں کا شکار کر سکیں۔ یعنی الو کی اپنی کوئی اہمیت نہیں تھی، بس اسے "سیدھا" کر کے اپنا مقصد (شکار) حاصل کیا جاتا تھا۔ وہیں سے یہ محاورہ خود غرضی کے معنوں میں مشہور ہو گیا۔ 🕰️📜

🎭 پُر لطف قصہ ایک صاحب کو سرکاری دفتر میں اپنا ایک پھنسا ہوا کام نکلوانا تھا۔ وہ ایک "سفارشی" بندے کے پاس گئے جو بڑا چرب زبان تھا۔ اس بندے نے صاحب سے خوب خاطر تواضع کروائی، ہوٹل میں کھانا کھایا اور آخر میں کہا: "بھائی! آپ کا کام تو ہو گیا سمجھیں، بس مجھے ایک چھوٹی سی رقم 'خرچے' کے لیے دے دیں تاکہ میں متعلقہ افسر کو خوش کر سکوں۔" رقم ملتے ہی وہ غائب ہو گیا۔ ہفتے بعد جب صاحب اسے ملے اور کام کا پوچھا تو وہ بولا: "بھائی! افسر تو چھٹی پر ہے، لیکن آپ کی دی ہوئی رقم سے میں نے اپنے گھر کا راشن ڈلوا لیا ہے!" صاحب سر پکڑ کر بولے: "واہ جی واہ! تم نے تو میرا کام کروانے کے بجائے اپنا الو ہی سیدھا کر لیا!" 😂

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں