🌙 روزے کی نیت: شرائط، وقت اور ضروری مسائل
مرتب: ✍️ مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو (عفی عنہ) سلسلہ: مسائلِ رمضان المبارک | پوسٹ نمبر: 04
نیت کی حقیقت کیا ہے؟
نیت دراصل دل کے ارادے اور قصد کا نام ہے۔
اگر آپ کے دل میں یہ ارادہ ہے کہ آپ کل روزہ رکھیں گے، تو یہ نیت کہلائے گی۔
نیت کے لیے زبان سے الفاظ ادا کرنا (مثلاً: "میں نے اللہ کے لیے روزے کی نیت کی") ضروری نہیں ہے، بلکہ اصل چیز دل کا پختہ ارادہ ہے۔
کیا نیت کے بغیر روزہ ہو جاتا ہے؟
روزہ درست ہونے کے لیے نیت شرط ہے۔
اہم نکتہ: اگر کسی شخص نے روزے کا ارادہ نہیں کیا اور اتفاقاً پورا دن کچھ کھایا پیا بھی نہیں، تب بھی شرعی طور پر اس کا روزہ شمار نہیں ہوگا کیونکہ اس میں "عبادت کی نیت" موجود نہیں تھی۔
نیت کا وقت کب تک ہے؟
رمضان المبارک کے روزوں کی نیت کے حوالے سے دو صورتیں ہیں:
بہترین طریقہ: روزے کی نیت رات ہی سے (یعنی فجر سے پہلے کسی بھی وقت) کر لی جائے۔ یہ سب سے افضل ہے۔
دن میں نیت: اگر رات کو نیت کرنا بھول گئے ہوں، تو دن میں بھی نیت کی جا سکتی ہے۔ اس کے لیے دو شرائط ہیں:
صبح صادق کے بعد کچھ کھایا پیا نہ ہو۔
نیت کا یہ ارادہ زوال سے تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ پہلے (ضحوہ کبریٰ) تک کر لیا جائے۔
خلاصہ مسائل
نیت دل کے ارادے کا نام ہے۔
زبان سے الفاظ کہنا ضروری نہیں۔
بغیر نیت کے فاقہ کشی روزہ نہیں کہلاتی۔
رات سے نیت کرنا بہتر ہے، لیکن ضرورت پڑنے پر دن میں (زوال سے پہلے تک) بھی نیت کی گنجائش ہے۔
🌐 ایس ای او (SEO) اور ٹیگز
Meta Description: روزے کی نیت کب اور کیسے کریں؟ کیا زبان سے نیت کرنا ضروری ہے؟ جانئے نیت کے اوقات اور شرعی مسائل اس مختصر اور جامع تحریر میں۔
Keywords: روزے کی نیت، رمضان کے مسائل، نیت کا وقت، مفتی عرفان اللہ درویش، اسلامی فقہ، fasting intention rules.
Hashtags:
#RamadanRules #روزہ #مسائل_رمضان #نیت #اسلامی_تعلیمات #RamadanFasting

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں