سبق نمبر 34 خلاصۂ قرآن رکوع بہ رکوع


سبق نمبر 34: خلاصۂ قرآن رکوع بہ رکوع

سورہ نمل کا خلاصہ

عذاب کا نشتر بھی ضروری ہے اتمامِ حجت کے بعد معاندینِ حق پر عذاب نازل ہو سکتا ہے، اور اس کی مثال بالکل ایسے ہے جیسے مادّۂ فاسد کہ جب تک وہ مکمل پَک نہ جائے، جرّاح نشتر نہیں لگاتا۔ اسی طرح مُصلح و طبیبِ روحانی عذاب کا نشتر اس وقت لگائے گا جب مادّۂ فساد مکمل طور پر پختہ ہو جائے گا۔ گویا معاندین کا کفر زہریلے پھوڑے کی طرح ہے، اور یہ قانون رائج ہے کہ جس عضو میں کوئی زہریلا پھوڑا پیدا ہو، اسے کاٹ دیا جاتا ہے تاکہ باقی جسم اس کے اثراتِ بد سے محفوظ رہ سکے۔ اسی طرح کفر و شرک کے بیماروں کا ایک مدت تک علاج کرنے کے بعد ان کی رگِ حیات ہی کو کاٹ دیا جاتا ہے تاکہ بقیہ ملت کی روحانی زندگی اس کے اثراتِ بد سے محفوظ ہو جائے۔

رکوع نمبر ۱ کا خلاصہ: اتمامِ حجت ضروری ہے معاندین پر عذابِ الٰہی کا نزول اتمامِ حجت سے قبل نہیں ہوتا۔ ہاں! جب اتمامِ حجت ہو جائے تو پھر رکتا بھی نہیں۔ جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا واقعہ ہے کہ آپ نے دربارِ فرعون میں دندان‌شکن تقریر اور باطل‌شکن معجزات سے اتمامِ حجت فرما دی اور انہیں اپنی صداقت کا یقین دلانے میں بھی کامیاب ہو گئے، لیکن اس کے باوجود انہوں نے اپنی اصلاح نہ کی، راہِ حق سے منہ موڑا اور سرکشی پر کمر باندھی، تو انہیں تباہ و برباد کر دیا گیا۔

رکوع نمبر ۲ اور ۳ کا خلاصہ: ملکہ سبا کو دعوتِ اسلام حضرت سلیمان علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے بڑی وسیع و عریض سلطنت سے نواز رکھا تھا۔ آپ کی حکومت انسانوں کے علاوہ جنّات، چرند پرند، وحوش و طیور اور ہواؤں تک وسیع تھی۔ پرندوں میں ایک مشہور پرندہ ہُدہُد بھی ہے جو بہت بڑا انجینئر ہے۔ جہاں پانی کی ضرورت محسوس ہوتی، یہ اپنی چشمِ دوربین سے دیکھ کر حضرت سلیمان علیہ السلام کو خبر کرتا اور جنّات کے ذریعے پانی نکال لیا جاتا۔

الغرض! ایک دن یہ پرندہ ملکِ سبا کے متعلق ایک اہم خبر لایا۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے اسے آزمانے کے لیے ایک خط لکھ کر دیا کہ اس ملک کی حاکمہ تک پہنچا دو۔ خفیہ طریقے سے جب وہاں خط پہنچا تو پورے ایوانِ سلطنت میں کھلبلی مچ گئی۔ خط پڑھ کر تو مزید گھبراہٹ بڑھ گئی۔ مشورہ ہوا کہ تحائف بھیجے جائیں۔ مگر دربارِ سلیمانی میں یہ تحائف نامقبول قرار پائے اور ارشاد ہوا کہ:

"اتمامِ حجت ہو چکی، اب تمہارے اندر سے مادّۂ فاسد کے اخراج کے لیے میں ایک زبردست لشکر کے ساتھ آرہا ہوں۔"

یہ دھمکی سن کر سب کے سب مرعوب ہو گئے، مسلمان ہوئے اور حضرت سلیمان علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوگئے۔

رکوع نمبر ۴ کا خلاصہ: قومِ صالح و لوط علیہما السلام پر اتمامِ حجت قومِ صالح علیہ السلام میں بغاوت و سرکشی کا لاوا اس طرح پک چکا تھا کہ وہ اپنے نبی کو — العیاذ باللہ — منحوس تک سمجھنے لگے اور یہاں تک کہ اُنہیں قتل کرنے کی سازشیں شروع کر دیں۔ حضرت صالح علیہ السلام نے بہت سمجھایا، مگر نہ مانے اور تباہ ہوئے۔

اسی طرح قومِ لوط علیہ السلام نے بدکاری اور بدفعلی کی تمام حدوں کو پار کر لیا تھا، اور مردوں سے اپنی جنسی خواہش پوری کرنے لگے تھے۔ حضرت لوط علیہ السلام کے سمجھانے پر نہ رکے اور نتیجہ یہ ہوا کہ وہ بھی تباہ و برباد ہوئے۔

رکوع نمبر ۵ کا خلاصہ: تذکیر بالآء اللہ اس رکوع میں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا ذکر کر کے سمجھایا گیا کہ جس ذات نے اتنے بڑے احسانات کیے، اگر کوئی قوم اس کی نافرمانی کرے تو کیا اس کو سزا دینا خلافِ انصاف ہے؟ ہرگز نہیں! بلکہ یہ عین انصاف و رحمت ہے۔

غور کرو:

  • زمین کو بچھونا، آسمان کو چھت، پینے کو پانی، کھانے کو سبزیاں کس نے دیں؟

  • زمین کو قرار کس نے بخشا؟

  • بے کس کی دعائیں کون سنتا ہے؟

  • سمندر کی تاریکیوں میں راستہ کون دکھاتا ہے؟

اتنے احسانات کے بعد بھی نافرمانی احمقانہ حرکت نہیں تو اور کیا ہے؟

رکوع نمبر ۶ کا خلاصہ: قیامت کا ناحق انکار معاندین قرآن کی دعوت کو ٹھکرا کر خوفناک نتائج کا شکار ہو رہے ہیں۔ کہیں وہ قرآن کے واقعات کو ’’اساطیر الاولین‘‘ کہہ دیتے ہیں اور کہیں حضور ﷺ کو — نعوذ باللہ — ساحر، شاعر اور مجنون کہتے ہیں۔

ان کے دل، کان اور آنکھیں بند ہو چکی ہیں۔ مردوں کی مانند ہو چکے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ انہوں نے قیامت کا بھی انکار کر دیا، حالانکہ قیامت ضرور قائم ہو کر رہے گی اور اس کی نشانیاں جیسے خروجِ دابۃ الارض بھی ضرور ظاہر ہوں گی۔

رکوع نمبر ۷ کا خلاصہ: عود الی المقصود ان لوگوں پر اتمامِ حجت ہو چکی۔ قیامت کے دن جب مادّۂ فاسدہ کے اخراج کا وقت آئے گا تو یہ گونگے ہو جائیں گے۔ زبان بھی ساتھ نہیں دے گی اور نہ ہی جسم کا کوئی عضو۔ پھر انہیں جہنم کی بھڑکتی آگ میں پھینک دیا جائے گا۔

البتہ نیک اعمال والوں کو ایک کے بدلے دس ملیں گے۔ اصل بات یہ ہے کہ ہدایت آچکی ہے — جو مان لے اُس کا فائدہ اور جو انکار کرے وہ اپنا نقصان کرے گا۔

"آج الحمدللہ سورة نمل کی 07 رکوعات کا خلاصہ مکمل ہوا، کل ان شاء اللہ سورة قصص شروع کرینگے۔"

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں