🌼
سبق نمبر 27
خلاصۂ قرآن رکوع بہ رکوع
سورہ کہف کا خلاصہ
تعلّق باللہ کی اہمیت
زندگی کے شعبوں میں اللہ سے تعلق=عزت/راحتیں۔ مخلوق سے=اطمینان نہ۔
اقسامِ زندگی:
ادنیٰ دیندار: اصحاب کہف
ادنیٰ دنیا دار: اصحاب الجنتین
اعلیٰ دیندار: موسیٰ/خضر
اعلیٰ دنیا دار: ذوالقرنین
رکوع 1: اصحابِ کہف کی روپوشی
نوجوان امیرزادے ایمان کی حفاظت کو غار میں روپوش۔ اللہ نے نیند اور کتے پر بھی طاری، دنیا سے محفوظ۔
رکوع 2: روپوشی کا سبب
جان نہ، ایمان کی حفاظت—ملک میں برقرار رہنا ناممکن۔
رکوع 3: بہت کچھ ہوگیا
طویل نیند: کفریہ سے اسلامی حکومت، ہر چیز بدلی (عمارات/سکے/بریں)۔ بھوک، کھانا لانے والا، پرانا سکہ—بعث بعد الموت حل، دوبارہ سوئے، منتقلی۔
رکوع 4: غار کی مدت، جزا/سزا
300 شمسی/309 قمری سال۔ مومنین بہترین بدلہ، کفار بدترین—فرشتوں کے ہتھوڑے/گرز۔
رکوع 5: دو بھائی
مشرک مالدار باغ دکھایا، غرور: "قیامت نہ، زوال نہ"۔ موحد: اللہ کی عطا، ما شاء اللہ کہو—آفت آئی، تباہ، افسوس۔
رکوع 6: متاعِ دنیا کی حقیقت
دنیا ختم ہونے والی، اعمال باقی—دنیا کے پیچھے آخرت نہ برباد کرو۔
رکوع 7-8: شیطان کے چیلے
کفر/شرک=شیطان کی معیت اللہ پر ترجیح۔ شیطان اللہ کا دوست نہ، دشمن—بدبختی۔
رکوع 9-10: موسیٰ/خضر
تحصیلِ علم سفر: مچھلی، ملاقات، شرائط توڑیں، حکمتیں (تفصیل تفسیر میں)۔ علم کی اہمیت، کلی علم نہ۔
رکوع 11: ذوالقرنین
دنیا فتح: مغرب/مشرق، شمال—یاجوج/ماجوج دیوار۔ فرمانبردار، غرور نہ۔
رکوع 13: شرک کی قباحت
بت پرست ظالم۔ نیک عمل بیکار، جہنم—مومن جنت/حمد۔ آمین!
آج الحمدللہ سورة کہف کی 13 رکوعات مکمل، کل ان شاء اللہ سورة مریم۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں