🌹 بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ 🌹
سلسلہ مسائل فقہیہ
احکام النکاح
پوسٹ نمبر 05
سالی سے برا فعل کیا تو بیوی سے نکاح برقرار رہا یا ختم ہوا؟
سالی اجنبیہ کے حکم میں ہے، اس سے پیار محبت کی باتیں کرنا یا بوس و کنار اور زنا سب ناجائز اور حرام ہے، جیسے عام اجنبیہ کے ساتھ یہ چیزیں حرام ہیں۔ سالی سے زنا کی وجہ سے بیوی سے نکاح ختم تو نہیں ہوتا، مگر جب تک سالی ایک ماہواری سے پاک نہ ہوجائے، اس وقت تک اپنی بیوی سے ہم بستری کی شرعاً اجازت نہیں ہوگی۔ اور اگر سالی اس زنا کی وجہ سے حاملہ ہو گئی تو جب تک ولادت نہ ہوجائے، زانی کے لیے اپنی بیوی سے ہم بستری کی شرعاً اجازت نہ ہوگی۔
احادیث مبارکہ میں ان رشتوں (سالی بہنوئی، دیور بھابھی) کے حوالے سے پردے کی زیادہ تاکید آئی ہے، کیونکہ یہاں فتنے میں ابتلا کا اندیشہ زیادہ ہے۔ اگر کسی سے مذکورہ گناہ سرزد ہوا ہو تو اس پر سچی توبہ اور پردے کا اہتمام لازم ہوگا۔
📚 حوالہ جات
الدر المختار مع رد المحتار 6/380 سعید
النتف فی الفتاوی 189
فتاوی عثمانی 2/252
فتاوی دارالعلوم زکریا 3/590
فتوی جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی 144202201287
مرتب: ✍
مفتی عرفان اللہ درویش ہنگو عفی عنہ

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں