منافقت کا فریب اور غلبۂ حق کا فیصلہ


 

منافقت کا فریب اور غلبۂ حق کا فیصلہ

"منافق آدمی اپنے موقف کو صحیح ثابت کرنے کے لیے بڑھ بڑھ کر باتیں کرتا ہے، حتیٰ کہ وہ قسمیں کھا کر اپنے اخلاص کا یقین دلاتا ہے"

سبق نمبر 39

آیاتِ مبارکہ

لَنْ تُغْنِيَ عَنْهُمْ أَمْوَالُهُمْ وَلَا أَوْلَادُهُمْ مِّنَ اللَّهِ شَيْئًا ۚ أُولَٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ ۝ يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ جَمِيعًا فَيَحْلِفُونَ لَهُ كَمَا يَحْلِفُونَ لَكُمْ وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ عَلَىٰ شَيْءٍ ۗ أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ الْكَاذِبُونَ ۝ اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطَانُ فَأَنْسَاهُمْ ذِكْرَ اللَّهِ ۚ أُولَٰئِكَ حِزْبُ الشَّيْطَانِ ۚ أَلَا إِنَّ حِزْبَ الشَّيْطَانِ هُمُ الْخَاسِرُونَ ۝ إِنَّ الَّذِينَ يُحَادُّونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ أُولَٰئِكَ فِي الْأَذَلِّينَ ۝ كَتَبَ اللَّهُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِي ۚ إِنَّ اللَّهَ قَوِيٌّ عَزِیزٌ ۝ (سورۃ المجادلہ: آیات ۱۷ تا ۲۱)


ترجمہ

"ان کے مال اور ان کی اولاد ان کو ذرا بھی اللہ سے نہ بچا سکیں گے۔ یہ لوگ دوزخ والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ جس دن اللہ ان سب کو اٹھائے گا تو وہ اس سے بھی اسی طرح قسم کھائیں گے جس طرح تم سے قسم کھاتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ وہ کسی چیز پر ہیں۔ سن لو کہ یہی لوگ جھوٹے ہیں۔ شیطان نے ان پر قابو حاصل کر لیا ہے، پھر اس نے ان کو اللہ کی یاد بھلا دی ہے۔ یہ لوگ شیطان کا گروہ ہیں، سن لو کہ شیطان کا گروہ ضرور برباد ہونے والا ہے۔ جو لوگ اللہ اور اُس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وہی ذلیل لوگوں میں ہیں۔ اللہ نے لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے رسول ہی غالب رہیں گے۔ بے شک اللہ قوت والا، زبردست ہے۔"


تشریح و بصیرت

مفاد پرست آدمی جب دعوتِ حق کی مخالفت کرتا ہے تو وہ سمجھتا ہے کہ اس طرح وہ اپنے آپ کو محفوظ کر رہا ہے۔

  • ناکام سہارے: وہ وقت انتہائی دہشت ناک ہوگا جب آخرت میں وہ دیکھے گا کہ جن چیزوں (مال اور اولاد) پر اُس نے بھروسہ کر رکھا تھا، وہ فیصلے کی اس گھڑی میں ذرہ برابر بھی کام آنے والی نہیں۔

  • شیطانی غلبہ: شیطان جب انسان پر قابو پاتا ہے تو سب سے پہلے اسے اللہ کی یاد بھلا دیتا ہے، جس کے بعد وہ "حزب الشیطان" (شیطان کے گروہ) میں شامل ہو کر خسارہ پانے والوں میں شامل ہو جاتا ہے۔


منافقانہ نفسیات اور قسموں کا سہارا

منافق آدمی اپنے موقف کو صحیح ثابت کرنے کے لیے یہ طریقے اختیار کرتا ہے:

  1. مبالغہ آرائی: وہ سچائی کا یقین دلانے کے لیے بڑھ بڑھ کر باتیں کرتا ہے۔

  2. جھوٹی قسمیں: وہ قسمیں کھا کر اپنے اخلاص کا یقین دلاتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ اس نے اپنے حق میں کوئی ٹھوس بنیاد فراہم کر لی ہے۔

  3. قیامت میں رویہ: اس کی یہ عادت اتنی پختہ ہو جاتی ہے کہ وہ اللہ کے سامنے بھی اسی طرح قسمیں کھائے گا جیسے دنیا میں لوگوں کے سامنے کھاتا تھا۔

قیامت کا دھماکہ جب حقیقتوں کو کھولے گا، اُس وقت وہ جان لے گا کہ یہ محض شیطان کے سکھائے ہوئے جھوٹے الفاظ تھے جن کو وہ اپنا یقینی ثبوت سمجھتا رہا۔


غلبۂ الٰہی کا ابدی قانون

اللہ تعالیٰ نے یہ اٹل فیصلہ لکھ دیا ہے کہ:

  • ذلت: اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والے ہی درحقیقت ذلیل ترین لوگ ہیں۔

  • کامیابی: غلبہ ہمیشہ اللہ اور اس کے رسولوں کے لیے مقدر ہے، کیونکہ اللہ ہی کائنات کی اصل قوت اور زبردست اقتدار والا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں