🛍️ مالِ تجارت کی زکوٰۃ: قیمتِ فروخت کا تعین کہاں کی مارکیٹ سے ہوگا؟


 

🛍️ مالِ تجارت کی زکوٰۃ: قیمتِ فروخت کا تعین کہاں کی مارکیٹ سے ہوگا؟

مرتب: ✍️ مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو (عفی عنہ)

سلسلہ: مسائلِ زکوٰۃ | پوسٹ نمبر: 23


اصلاحِ اغلاط: ایک اہم تجارتی مسئلہ

عام طور پر تاجر حضرات اس الجھن کا شکار رہتے ہیں کہ اگر ان کا مالِ تجارت کسی دوسرے شہر یا گاؤں میں موجود ہو، تو زکوٰۃ نکالتے وقت قیمت کہاں کی مارکیٹ کے حساب سے لگائی جائے گی؟۔

شرعی اصول اور ضابطہ

مالِ تجارت کی زکوٰۃ ادا کرتے وقت قیمتِ فروخت (Market Value) کے حوالے سے شرعی ضابطہ درج ذیل ہے:

  • مقامِ مال کا اعتبار: جس جگہ مالِ تجارت (Stock) موجود ہے، وہیں کی قیمتِ فروخت کا اعتبار کیا جائے گا۔

  • مثال: اگر آپ کا مال شہر کے گودام یا دکان میں ہے، تو شہر کی قیمتِ فروخت کے حساب سے زکوٰۃ ادا کی جائے گی۔ اگر وہی مال کسی گاؤں یا دور دراز علاقے میں موجود ہے، تو وہاں کی مقامی قیمتِ فروخت دیکھی جائے گی۔

  • ویرانہ یا جنگل: اگر مال کسی ایسی جگہ (مثلاً جنگل یا ویرانے) میں ہو جہاں مارکیٹ نہ ہو، تو اس کے قریب ترین شہر یا آبادی کی قیمت کا اعتبار ہوگا۔


📚 فقہی و علمی حوالہ جات

  • التنویر مع شرحہ: زکوٰۃ، عشر، فطرہ اور نذر وغیرہ میں قیمت کی ادائیگی جائز ہے، اور اس جگہ کی قیمت کا اعتبار ہوگا جہاں مال موجود ہے۔

  • رد المحتار (شامی): اگر کوئی شخص اپنا مالِ تجارت کسی دوسرے شہر بھیج دے، تو اسی شہر کی قیمتِ فروخت معتبر ہوگی جہاں وہ مال (یا غلام برائے تجارت) موجود ہے۔

  • ماخذ: فتویٰ دار الافتاء والتحقیق، جامعۃ الابرار، کراچی۔


📢 علمی و تحقیقی پلیٹ فارم

دینی و فقہی مسائل کی مستند معلومات کے لیے ہمارے پلیٹ فارمز سے وابستہ رہیں: 🌐 آن لائن بلاگ: [www.alkamunia.com] 🏛️ آئی ٹی درسگاہ فورم: [www.itdarasgah.pk]


🌐 ایس ای او (SEO) اور ٹیگز

  • Meta Description: مالِ تجارت کی زکوٰۃ نکالتے وقت قیمت کہاں کی مارکیٹ سے لگائی جائے؟ شہر اور گاؤں کے فرق کے حوالے سے اہم فقہی وضاحت اور علامہ شامی کا مستند قول۔

  • Keywords: مالِ تجارت کی زکوٰۃ، قیمتِ فروخت کا تعین، مسائلِ زکوٰۃ، مفتی مبین الرحمٰن، مفتی عرفان اللہ درویش، Zakat on Business Stock.

  • Hashtags: #Zakat #مسائل_زکوٰۃ #مال_تجارت #شرعی_احکام #مفتی_عرفان_اللہ #رمضان_2026 #اصلاح_اغلاط


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں