سب سے بڑا بُت: خواہشِ نفس


 

سب سے بڑا بُت: خواہشِ نفس

"یہ ایک حقیقت ہے کہ سب سے بڑا بُت آدمی کی خواہشِ نفس ہے۔"

سبق نمبر 23

آیاتِ مبارکہ

أَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَٰهَهُ هَوَاهُ ۚ أَفَأَنتَ تَكُونُ عَلَيْهِ وَكِيلًا (٤٣) أَمْ تَحْسَبُ أَنَّ أَكْثَرَهُمْ يَسْمَعُونَ أَوْ يَعْقِلُونَ ۚ إِنْ هُمْ إِلَّا كَالْأَنْعَامِ ۖ بَلْ هُمْ أَضَلُّ سَبِيلًا (٤٤) (سورۃ الفرقان: آیات ۴۳-۴۴)


ترجمہ

"کیا تم نے اُس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہش کو اپنا معبود بنا رکھا ہے؟ پس کیا تم اس کا ذمے دار بن سکتے ہو؟ یا تم خیال کرتے ہو کہ ان میں سے اکثر سنتے اور سمجھتے ہیں؟ وہ تو محض جانوروں کی طرح ہیں بلکہ وہ ان سے بھی زیادہ بے راہ ہیں۔"


تشریح و مطالعہ

ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"آسمان کے سائے کے نیچے اللہ کے سوا جن کی پوجا کی جاتی ہے، ان میں اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ سنگین وہ خواہش ہے جس کی پیروی کی جائے۔" مَا تُحْتَ ظِلِّ السَّمَاءِ مِنْ يُعْبَدُ مِنْ دُونِ اللَّهِ تَعَالَى أَعْظَمُ عِندَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ هَوًى يُتَّبَعُ (طبرانی، عن ابی اُمامہ رضی اللہ عنہ)


بنیادی نکات

  • اصل بُت: یہ ایک حقیقت ہے کہ سب سے بڑا بُت آدمی کی خواہشِ نفس ہے، بلکہ یہی اصل بُت ہے۔ بقیہ تمام بُت صرف خواہش پرستی کے دین کو جائز ثابت کرنے کے لیے وضع کیے گئے ہیں۔

  • انسان اور جانور کا فرق: خواہش کو اپنا رہبر بنانے کے بعد انسان اسی سطح پر آ جاتا ہے جو جانوروں کی سطح ہے۔ جانور سوچ کر کوئی کام نہیں کرتے بلکہ صرف جبلی تقاضے کے تحت کرتے ہیں۔

  • عقل کا استعمال: اب اگر انسان بھی اپنی سوچنے کی صلاحیت کو کام میں نہ لائے اور صرف خواہشِ نفس کے تحت چلنے لگے تو اس میں اور جانور میں کیا فرق باقی رہا؟


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں