سبق نمبر 49: خلاصۂ قرآن رکوع بہ رکوع


 

سبق نمبر 49: خلاصۂ قرآن رکوع بہ رکوع

سورۂ حشر کا خلاصہ

بقاءِ سلطنت اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ان کی ظاہری بے سروسامانی کے باوجود حکومت و سلطنت عطا فرمائی ہے، اس لئے اس کی حفاظت کرنا ان کی ذمہ داری ہے اور اس سلطنت کی بقاء انتظامی امور میں کسی بھی قسم کی خلل اندازی سے بچاؤ پر ہی ممکن و استوار ہے، ورنہ استحکام و بقاءِ سلطنت کی کوئی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔

رکوع نمبر ۱ کا خلاصہ: حضور ﷺ کی شانِ رسالت حضور ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے یہ خصوصی شان عطا فرمائی ہے کہ آپ جس کام کا کسی کو حکم دیں، اسے اس پر بلا کھٹکے اور بغیر سوچے عمل کرنا ضروری ہے اور جس کام سے روکیں، اس سے باز رہنا بھی نہایت ضروری ہے۔ اس موقع پر ہر قسم کی قال و قیل اور لیت و لعل سے گریز کیا جائے۔ مالِ فے اور غنیمت کی تقسیم بھی آپ کی مرضی پر منحصر ہے، اس میں اپنا استحقاق جتانا ٹھیک نہیں۔

رکوع نمبر ۲ کا خلاصہ: منافقین کے احوال مسلمانوں کے درمیان باہمی عداوت، شقاوت اور زوالِ سلطنت کا سب سے بڑا سبب ’’منافقین‘‘ ہیں جو بظاہر مسلمانوں کے بہی خواہ اور وفاداروں کی فہرست میں اپنا نام درج کرواتے ہیں، لیکن پس پردہ مسلمانوں کے خلاف اپنے دلوں میں کینہ اور عداوت بھرے ہوئے ہیں اور کفار سے معاہدہ کر رہے ہیں۔ مسلمانوں کو ان سے خوب بچ کر رہنا چاہئے۔

رکوع نمبر ۳ کا خلاصہ: قرآنِ کریم کی عظمت و شان اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو بلا استحقاق قرآنِ کریم جیسی اتنی عظیم نعمت سے سرفراز فرمایا ہے کہ اگر اس کا نزول پہاڑوں پر بھی ہوتا تو وہ اللہ کے خوف سے ریزہ ریزہ ہو کر غبارِ راہ بن جاتے۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ اس کتابِ لاریب سے خوب استفادہ کریں اور اللہ تعالیٰ کی طاقت و شوکت کے علم کو ہمیشہ ملحوظ خاطر رکھیں۔


سورۂ ممتحنہ کا خلاصہ

کفار کا بائیکاٹ اس سورت میں مسلمانوں کو کفار کے ساتھ دوستی سے منع کیا جا رہا ہے، نیز وہ اسباب اور وجوہات بھی زیرِ تکلّم آئی ہیں جن کی بنا پر کفار سے مقاطعہ (بائیکاٹ) اور الگ رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔

رکوع نمبر ۱ کا خلاصہ: اسبابِ مقاطعہ اس رکوع میں کفار کے ساتھ مقاطعہ کے چار اہم اسباب پر روشنی ڈالی جا رہی ہے:

  1. یہ اللہ کے دشمن ہیں۔

  2. حضور ﷺ کے دشمن ہیں۔

  3. قرآن کریم اور اس کی تعلیمات کے دشمن ہیں۔

  4. خود تمہارے بھی دشمن ہیں۔

رکوع نمبر ۲ کا خلاصہ: اقسامِ کفار اس رکوع میں کفار کی دو قسمیں بیان کی جا رہی ہیں:

  1. جن کے ساتھ دوستی ناجائز ہے: جن لوگوں نے مسلمانوں کو جلا وطن کیا اور ان سے قتال کیا۔

  2. جن کے ساتھ لڑائی ناجائز ہے: جن لوگوں نے اس قسم کے معاملات میں اوّل الذکر گروہ کا ساتھ نہیں دیا، ان سے لڑائی ناجائز ہے جب تک وہ اپنے حال پر برقرار رہیں۔


سورۂ صف کا خلاصہ

فرائضِ مجاہدین ہر قوم میں تین جماعتوں کی ضرورت ہوتی ہے: اہلِ علم، اہلِ دولت، اور سرفروش و مجاہدین۔ اگر یہ تینوں جماعتیں اپنے اپنے فرائض صحیح طور پر سرانجام دیتی رہیں تو وہ قوم زندہ جاوید رہتی ہے۔ اس سورت میں مجاہدین اور سرفروشوں کے فرائض بیان کیے جا رہے ہیں۔

رکوع نمبر ۱ کا خلاصہ: احبّ الاعمال اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ عمل ’’جہاد فی سبیل اللہ‘‘ ہے جس کا میدان مخالفینِ اسلام کے سر ہیں۔ جب تک اسلام کو مکمل غلبہ حاصل نہ ہو جائے اس وقت تک جماعتِ سرفروشان کو چین سے نہ بیٹھنا چاہئے بلکہ اعلاءِ کلمۃ اللہ کے لئے جہاد میں مشغول رہنا چاہئے۔

رکوع نمبر ۲ کا خلاصہ: جزاء احبّ الاعمال ایمان باللہ اور ایمان بالرسول کے بعد تیسرے نمبر پر جہاد فی سبیل اللہ ایک ایسی چیز ہے جس پر عمل پیرا ہونے کے بعد نجات قطعی اور یقینی ہے ان شاء اللہ۔ اور اس کے ساتھ جناتِ عدن اور دشمنوں کے مقابلے میں فتح و نصرت اللہ کی رضا کا لازمی ثمرہ ہیں۔


سورۂ جمعہ کا خلاصہ

فرائضِ اہلِ علم جیسا کہ سورۂ صف میں گزرا، اس سورت میں اہلِ علم کے فرائض اور ان کی ذمہ داریاں واضح کی جا رہی ہیں۔

رکوع نمبر ۱ کا خلاصہ: علماء کرام کی ذمہ داریاں اس رکوع میں حضور ختمی مرتبت ﷺ کے چار فرائض بیان کیے گئے ہیں:

  1. تلاوتِ آیات

  2. تعلیمِ کتاب

  3. تزکیۂ نفوس

  4. تعلیمِ حکمت علماء کرام، جو کہ انبیاء کرام علیہم السلام کے وارث ہوتے ہیں، ان کے بھی یہی فرائض ہیں۔

رکوع نمبر ۲ کا خلاصہ: یومِ تبلیغِ قرآن قرآن کریم کے احکامات کی تبلیغ اور اشاعت کا دن جمعۃ المبارک ہے، جس میں عقائد، فضائل اور مسائل سے مسلمانوں کو روشناس کرایا جائے گا۔ اس لئے ہر مسلمان کو اس میں شریک ہو کر ان احکامات کو سیکھنا چاہئے۔

"آج الحمدللہ سورة حشر سورۃ ممتحنہ سورۃ صف سورۃ جمعہ کی رکوعات کا خلاصہ مکمل ہوا، کل ان شاء اللہ سورة منافقون شروع کرینگے۔"

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں