عقل، خواہش اور انسانیت کی پستی


 

عقل، خواہش اور انسانیت کی پستی

"انسان کو اپنی خواہشوں کے پیچھے چلنے سے جو چیز روکتی ہے وہ عقل ہے، مگر جب آدمی پر ضد اور عداوت کا غلبہ ہوتا ہے تو اُس کی عقل اُس کی خواہش کے نیچے دب کر رہ جاتی ہے۔"

سبق نمبر 22

آیاتِ مبارکہ

يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الَّذِينَ اتَّخَذُوا دِينَكُمْ هُزُوًا وَلَعِبًا مِّنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِن قَبْلِكُمْ وَالْكُفَّارَ أَوْلِيَاءَ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ۔ وَإِذَا نَادَيْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ اتَّخَذُوهَا هُزُوًا وَلَعِبًا ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَعْقِلُونَ۔ قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ هَلْ تَنقِمُونَ مِنَّا إِلَّا أَنْ آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْنَا وَمَا أُنزِلَ مِن قَبْلُ وَأَنَّ أَكْثَرَكُمْ فَاسِقُونَ۔ قُلْ هَلْ أُنَبِّئُكُم بِشَرٍّ مِّن ذَٰلِكَ مَثُوبَةً عِندَ اللَّهِ ۚ مَن لَّعَنَهُ اللَّهُ وَغَضِبَ عَلَيْهِ وَجَعَلَ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَالْخَنَازِيرَ وَعَبَدَ الطَّاغُوتَ ۚ أُو۟لَـٰٓئِكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَأَضَلُّ عَن سَوَاءِ السَّبِيلِ (سورۃ المائدہ: آیات ۵۷ تا ۶۰)


ترجمہ

اے ایمان والو! ان لوگوں کو اپنا دوست نہ بناؤ جنہوں نے تمہارے دین کو مذاق اور کھیل بنا لیا ہے، ان لوگوں میں سے جن کو تم سے پہلے کتاب دی گئی، اور نہ کافروں کو۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو اگر تم ایمان والے ہو۔ اور جب تم نماز کے لیے پکارتے ہو تو وہ لوگ اس کو مذاق اور کھیل بنا لیتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ عقل نہیں رکھتے۔ کہو کہ اے اہل کتاب! تم ہم سے صرف اس لیے ضد رکھتے ہو کہ ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس پر جو ہماری طرف اُتارا گیا اور اس پر جو ہم سے پہلے اُترا۔ اور تم میں سے اکثر لوگ نافرمان ہیں۔ کہو: کیا میں تم کو بتاؤں وہ جو اللہ کے یہاں انجام کے اعتبار سے اس سے بھی زیادہ برا ہے؟ وہ جس پر اللہ نے لعنت کی اور جس پر اس کا غضب ہوا، اور جن میں سے بندر اور سور بنا دیے گئے اور جنہوں نے شیطان کی پرستش کی۔ ایسے لوگ مقام کے اعتبار سے بدتر اور راہ راست سے بہت دور ہیں۔


تشریح و بصیرت

وہ لوگ جو خود ساختہ دین کی بنیاد پر خدا پرستی کے اجارہ دار بنے ہوئے ہوں، ان کے درمیان جب سادہ اور بے آمیز دین کی دعوت اُٹھتی ہے تو اُس کے خلاف وہ اتنی شدید نفرت میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ اپنی معقولیت تک کھو بیٹھتے ہیں۔ حتیٰ کہ ایسی چیزیں جو بلا اختلاف قابل احترام ہیں، ان کا بھی مذاق اُڑانے لگتے ہیں۔ یہی مدینہ کے یہود کا حال تھا۔ چنانچہ وہ مسلمانوں کی اذان کا مذاق اُڑانے سے بھی نہیں رکتے تھے۔

<u>جو لوگ اتنے بے حس اور اتنے غیر سنجیدہ ہو جائیں، ان سے ایک مسلمان کا تعلق دعوت کا تو ہو سکتا ہے، مگر دوستی کا نہیں ہو سکتا۔</u>

نفسانی گراوٹ کے مراحل:

  • ان لوگوں کی اللہ سے بے خوفی کا یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ وہ سچے مسلمانوں کو مجرم سمجھتے ہیں اور اپنے تمام جرائم کے باوجود اپنے متعلق یہ یقین رکھتے ہیں کہ ان کا معاملہ اللہ کے یہاں بالکل درست ہے۔

  • جب وہ اپنی اس کیفیت کی اصلاح نہیں کرتے تو بالآخر ان کی بے حسی ان کو اس نوبت تک پہنچا دیتی ہے کہ ان کی عقل حق و باطل کے مقابلے میں کند ہو جاتی ہے۔ وہ شکل کے اعتبار سے انسان، مگر باطن کے اعتبار سے بدترین جانور بن جاتے ہیں۔

  • وہ لطیف احساسات جو آدمی کے اندر خدا کے چوکیدار کی طرح کام کرتے ہیں، جو اس کو برائیوں سے روکتے ہیں، وہ ان کے اندر ختم ہو جاتے ہیں۔ مثلاً:

    • حیاء

    • شرافت

    • وسعتِ ظرف

    • پاکیزہ طریقوں کو پسند کرنا وغیرہ۔


حاصلِ کلام

اس گراوٹ کا آخری درجہ یہ ہے کہ آدمی کی پوری زندگی شیطانی راستوں پر چل پڑے۔ جب کوئی گروہ اس نوبت کو پہنچتا ہے تو وہ لعنت کا مستحق بن جاتا ہے، وہ اللہ کی رحمت سے آخری حد تک دور ہو جاتا ہے۔ اس کی انسانیت مسخ ہو جاتی ہے، وہ فطرت کے سیدھے راستے سے بھٹک کر جانوروں کی طرح جینے لگتا ہے۔

انسان کو اپنی خواہشوں کے پیچھے چلنے سے جو چیز روکتی ہے وہ عقل ہے، مگر جب آدمی پر ضد اور عداوت کا غلبہ ہوتا ہے تو اُس کی عقل اُس کی خواہش کے نیچے دب کر رہ جاتی ہے۔

اب وہ ظاہر میں انسان، مگر باطن میں حیوان ہوتا ہے، حتیٰ کہ صاحبِ بصیرت آدمی اس کو دیکھ کر جان لیتا ہے کہ اس کے ظاہری انسانی ڈھانچے کے اندر کون سا حیوان چھپا ہوا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں