🌙 کیا تراویح ترک کرنا گناہ ہے؟ (ایک اہم وضاحت)
مرتب: ✍️ مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو (عفی عنہ)
سلسلہ: مسائلِ رمضان المبارک | پوسٹ نمبر: 19
سوال
ایک صاحب کا کہنا ہے کہ "نمازِ تراویح پڑھ لو تو ثواب ہے، اور اگر نہ پڑھو تو کوئی گناہ نہیں ہے"۔ کیا شرعی طور پر ان کی یہ بات درست ہے؟
شرعی جواب
تراویح کے حوالے سے یہ نظریہ کہ اسے چھوڑنے پر گناہ نہیں ہوتا، شرعاً درست نہیں ہے:
شرعی حیثیت: نمازِ تراویح سنتِ مؤکدہ ہے۔
ترک کرنے کا حکم: کسی معقول شرعی مجبوری (عذر) کے بغیر تراویح کو چھوڑنا جائز نہیں ہے۔
گناہ اور ملامت: جو شخص بغیر کسی عذر کے تراویح ترک کرتا ہے، وہ گناہ گار ہوگا۔ اگر کوئی شخص اسے چھوڑنے کی عادت بنا لے، تو وہ سخت ملامت کا مستحق ہے۔
📚 حوالہ و فتویٰ
ماخذ: دار الافتاء، جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتویٰ نمبر: 144209200973
📢 علمی و تحقیقی پلیٹ فارم
رمضان المبارک کے مسنون اعمال اور فقہی مسائل کی مستند معلومات کے لیے ہمارے پلیٹ فارمز وزٹ کریں:
🌐 آن لائن بلاگ: [
🌐 ایس ای او (SEO) اور ٹیگز
Meta Description: کیا تراویح چھوڑنے پر گناہ ہوتا ہے؟ جانئے سنتِ مؤکدہ کی اہمیت اور بلا عذر تراویح ترک کرنے کے حوالے سے جامعہ بنوری ٹاؤن کا مستند شرعی فیصلہ۔
Keywords: تراویح کی شرعی حیثیت، سنتِ مؤکدہ، تراویح ترک کرنے کا گناہ، مفتی عرفان اللہ درویش، جامعہ بنوری ٹاؤن، رمضان کے مسائل، Importance of Taraweeh.
Hashtags:
#Ramadan2026 #تراویح #مسائل_رمضان #سنت_مؤکدہ #عبادت #فقہی_مسائل #جامعہ_بنوری_ٹاؤن #مفتی_عرفان_اللہ

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں