سبق نمبر 47: خلاصۂ قرآن رکوع بہ رکوع


 

سبق نمبر 47: خلاصۂ قرآن رکوع بہ رکوع

سورۂ طور کا خلاصہ

دعوت و تبلیغ کی اہمیت سورۂ طور میں جہاں یہ بات ثابت کی گئی ہے کہ ہر ایک کو اپنے کئے کا بدلہ ملے گا، وہیں دعوت و تبلیغ کا تاکیدی حکم بھی اس سورت کا حصہ ہے، اور اس میں وہ امور بھی بیان کئے گئے ہیں جو کفار و مشرکین کے خیال میں عذر شمار ہوتے ہیں۔

رکوع نمبر ۱ کا خلاصہ: عذاب اور یومِ عذاب اللہ تعالیٰ پانچ قسمیں کھا کر فرما رہے ہیں کہ عذابِ الٰہی واقع ہو کر رہے گا۔ یومِ عذاب وہ ہوگا جب آسمان تھر تھرانے اور لرزنے لگیں گے، پہاڑ اپنی فطرت کے خلاف چلنا شروع ہو جائیں گے۔ وہ دن کفار و مشرکین کیلئے کوئی خیر و برکت نہ لائے گا بلکہ انہیں جہنم کی آگ میں بے یارو مددگار دھکیل دیا جائے گا۔ اور یہی دن متقین کیلئے یادگار ہوگا جب وہ جنت میں داخل ہوں گے، تختوں پر بادشاہوں کی طرح ٹیک لگائے بیٹھے ہوں گے، بیویاں حورِ عین ہوں گی، اور ربِّ رحیم کی خوشنودی تمام نعمتوں پر بھاری ہوگی/

رکوع نمبر ۲ کا خلاصہ: حکمِ تبلیغ اور موانعِ ایجاب حضور نبی کریم ﷺ سے کہا جا رہا ہے کہ آپ دعوت و تبلیغ کا کام جاری رکھیں۔ اس کام کے کرنے سے نہ آپ کا ذہنی توازن متاثر ہوگا اور نہ ہی آپ مجنون کہلائیں گے۔ کفار تو اپنی عادت کے مطابق کبھی آپ ﷺ کو شاعر کہتے ہیں، کبھی قرآن کو گھڑی ہوئی کتاب قرار دیتے ہیں، کبھی وجودِ خالق کے منکر ہو جاتے ہیں اور کبھی اللہ کیلئے اولاد ثابت کرتے ہیں۔ یاد رکھیں! ان کا ہر داؤ انہی پر الٹا پڑے گا، اور اللہ تعالیٰ اسلام کی راہ کی تمام رکاوٹیں دور فرما کر اپنے دین کو سربلندی عطا فرمائے گا۔


سورۂ نجم کا خلاصہ

حضور نبی کریم ﷺ کی رفعتِ مرتبہ رسول کریم ﷺ اللہ تعالیٰ کے یہاں انتہائی بلند و بالا رتبہ رکھتے ہیں۔ آپ ﷺ کو اسی جسمِ اطہر کے ساتھ معراج کا شرف عطا ہوا اور آپ ﷺ نے اپنی آنکھوں سے دیدارِ رب العالمین کا مشاہدہ کیا۔ اس بنا پر آپ ﷺ کے اقوال بھی اعلیٰ درجے کے حامل ہیں، اور چونکہ ان میں معانی اللہ کی طرف سے اور الفاظ آپ ﷺ کی زبانِ مبارک سے نکلتے ہیں، اس لئے وہ بھی وحی کی قسم میں شمار ہوتے ہیں۔

رکوع نمبر ۱ کا خلاصہ: ارشاداتِ نبوی ﷺ حضور نبی کریم ﷺ کے ارشادات کو معمولی نہ سمجھا جائے۔ وہ بھی وحی ہیں جن میں معانی اللہ کی طرف سے ہوتے ہیں اور الفاظ رسول اللہ ﷺ زبانِ اقدس سے جاری فرماتے ہیں۔ جبکہ کفار کے عقائد محض ظنی، تخمینی اور بے بنیاد ہیں جن کی علمی دنیا میں کوئی حیثیت نہیں۔

رکوع نمبر ۲ کا خلاصہ: کفار کا مبلغِ علم آیاتِ قرآنیہ سے منہ موڑ کر اور احکامِ الٰہیہ سے روگردانی کر کے کفار کے علم میں کچھ اضافہ نہیں ہوا بلکہ وہ مزید گمراہی میں پڑ گئے۔ ان کے عجیب ”انکشافات“ یہ ہیں کہ فرشتے عورتیں ہیں یا بعض نے فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دے دیا اور اس بڑے دعوے پر ان کے پاس ایک تنکا برابر دلیل بھی نہیں۔

رکوع نمبر ۳ کا خلاصہ: محنت کا بدلہ مل کر رہے گا انسان جس عمل میں جس قدر کوشش کرے گا، اسی کے مطابق بدلہ پائے گا — چاہے نیکی ہو یا بدی۔ حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ علیہما السلام کی مثال بھی موجود ہے، اور عاد و ثمود کی ہلاکت ناک انجام بھی۔ جو جیسا راستہ اختیار کرے گا، ویسا ہی نتیجہ پائے گا۔


سورۂ قمر کا خلاصہ

دفعِ استبعادِ قیامت اس سورت میں یہ بتایا جا رہا ہے کہ قیامت دراصل نظامِ عالم کے درہم برہم ہونے کا نام ہے۔ اگر حضور نبی کریم ﷺ کے معجزہ شقُّ القمر سے اس نظامِ عالم کا ایک انتہائی اہم اور بڑا رکن (چاند) شق ہو سکتا ہے تو پوری کائنات کے نظام میں اختلال کا پیدا ہونا کوئی بعید بات نہیں۔

رکوع نمبر ۱ اور ۲ کا خلاصہ: معجزہ شقُّ القمر قربِ قیامت کی ایک بڑی دلیل چاند کا دو ٹکڑے ہو کر پھر دوبارہ جُڑ جانا ہے، جو حضور نبی کریم ﷺ کی نبوت کی بھی روشن دلیل ہے۔ اس کے علاوہ بھی بہت سے معجزات آپ ﷺ سے صادر ہوئے مگر کفار انہیں جادو کہہ کر گزر جاتے ہیں اور آخرت کے انجام سے بے خوف و بے خبر رہتے ہیں۔ ان سے پہلے قومِ نوح، عاد، ثمود اور قومِ لوط نے بھی اپنے انبیاء کی تکذیب کی تھی، اور دنیا میں ہی کچھ سزا کا مزہ چکھ لیا تھا۔ اور ابھی آخرت کا عذاب باقی ہے۔

رکوع نمبر ۳ کا خلاصہ: ہزیمتِ کفار کا وعدہ آلِ فرعون کے پاس بھی بہت سے انبیاء و رسل آئے تھے۔ انہوں نے سب کی تکذیب کی، تو اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی مضبوط گرفت میں لے کر سزا دی۔ اسی طرح موجودہ کفار بھی جلد شکست کھا کر بھاگیں گے، مگر بھاگ کر جائیں گے کہاں؟ قیامت کوئی دور نہیں—وہ تو دو انگلیوں کے درمیان فاصلے کی طرح بہت قریب ہے۔


سورۂ رحمن کا خلاصہ

نعمائے الٰہیہ اس سورت میں جن و انس کو اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتیں یاد دلائی جا رہی ہیں تاکہ وہ سرکشی اور نافرمانی چھوڑ کر ایمان، عملِ صالح اور اطاعت کی طرف راغب ہوں۔ تاکہ دنیا کے ساتھ ساتھ آخرت کی نعمتوں سے بھی لطف اندوز ہو سکیں۔

رکوع نمبر ۱ کا خلاصہ: اللہ تعالیٰ کی قدرتِ عظیمہ سورج اور چاند کا حساب کے ساتھ چلنا، ستاروں اور درختوں کا اللہ کے حضور سجدہ، آسمان کی بلندی، زمین کی پیداوار، مشرقین و مغربین کی ملکیت، دو سمندروں کا سنگم، ان میں سے موتی اور مرجان کا نکلنا، پہاڑوں جیسی بڑی بڑی کشتیاں ان میں رواں دواں ہونا؛ یہ سب اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت کی نشانیاں ہیں۔

رکوع نمبر ۲ کا خلاصہ: کُلُّ مَنْ عَلَیْهَا فَانٍ زمین پر بسنے والا کوئی بھی زندہ جاندار باقی نہیں رہے گا۔ ہر ایک نے موت کا مزہ چکھنا ہے۔ پھر مجرموں کو پیشانی کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ چہروں سے ہی ان کی شناخت ہو جائے گی، اور ان پر پھٹکار برس رہی ہوگی۔

رکوع نمبر ۳ کا خلاصہ: انعامِ الٰہی جو لوگ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو صحیح جگہ استعمال کرتے ہیں اور ان سے ناجائز فائدہ نہیں اٹھاتے، وہ قیامت کے دن اعلیٰ شان والے باغات میں ہوں گے: بلند و بالا خیموں میں رہنے والی پاکیزہ حوریں، دلوں کو ٹھنڈک دینے والی نعمتیں، ہر خواہش پوری اور رب کی رضا ہر نعمت پر بھاری۔

"آج الحمدللہ سورة طور سورۃ نجم سورۃ قمر اور سورۃ رحمٰن کی رکوعات کا خلاصہ مکمل ہوا، کل ان شاء اللہ سورة واقعہ شروع کرینگے۔"

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں