👶 ضرب المثل: "اپنا پوت اور پرایا ڈھینگرا"


 

👶 ضرب المثل: "اپنا پوت اور پرایا ڈھینگرا"

🗣️ تلفظ (Apnā pūt aur parāyā ḍhēṅgar) 🎙️

📖 معانی و مفہوم اس ضرب المثل کا مطلب ہے کہ:

  • انسان کو اپنی ہر چیز (خواہ وہ کیسی ہی کیوں نہ ہو) بہت عزیز اور اچھی معلوم ہوتی ہے۔ ❤️

  • دوسروں کی اچھی اور قیمتی چیز بھی انسان کو حقیر یا خراب نظر آتی ہے۔

  • اپنی اولاد یا اپنی بنائی ہوئی شے کی خامیاں نظر نہیں آتیں، جبکہ دوسروں میں کیڑے نکالنا آسان ہوتا ہے۔

🔹 سادہ الفاظ میں: اپنی چیز سونا، دوسرے کی مٹی۔ ✨

📍 موقع و محل یہ ضرب المثل ان مواقع پر بولی جاتی ہے جہاں:

  • کوئی شخص اپنی معمولی سی چیز کی تعریفیں کر رہا ہو اور دوسروں کی اچھی چیز کو برا کہہ رہا ہو۔

  • والدین اپنی اولاد کی غلطیوں پر پردہ ڈالیں لیکن دوسروں کے بچوں پر تنقید کریں۔ 🤐

  • جب کسی کی جانبداری (Biasness) کو طنزیہ بیان کرنا مقصود ہو۔

مثال: "خاتونِ خانہ اپنے بیٹے کی ہر شرارت کو 'ذہانت' کہتی ہیں، لیکن پڑوسی کا بچہ ذرا شور مچائے تو اسے 'بدتمیز' کہتی ہیں، سچ ہے اپنا پوت اور پرایا ڈھینگرا!" 🏠🤨

📜 تاریخ و پس منظر لفظ "پوت" ہندی اور قدیم اردو میں 'بیٹے' کو کہا جاتا ہے (جیسے سپوت یا کپوت)، جبکہ "ڈھینگرا" سے مراد سوکھی لکڑی، ٹہنی یا کوئی بے کار سی چیز ہے۔ یہ کہاوت دیہی زندگی کی عکاسی کرتی ہے جہاں ممتا اور ملکیت کا احساس اتنا شدید ہوتا ہے کہ انسان کو اپنی کمزور چیز بھی 'اولاد' کی طرح پیاری اور دوسرے کی کارآمد چیز بھی 'سوکھے تنکے' جیسی بے وقعت لگتی ہے۔ 🕰️📜

🎭 پُر لطف قصہ دو پڑوسنیں اپنے اپنے صحن میں کپڑے سکھا رہی تھیں۔ ایک نے دوسری سے کہا: "بہن! دیکھو تمہاری دھوبی نے کپڑے کتنے میلے دھوئے ہیں، کالر پر اب بھی نشان باقی ہیں۔" دوسری پڑوسن نے غور سے دیکھا اور مسکرا کر بولی: "نہیں بہن! دراصل تمہاری کھڑکی کا شیشہ میلا ہے جس کی وجہ سے تمہیں میرے صاف کپڑے دھندلے نظر آ رہے ہیں!" 🧼🖼️ اسی کو کہتے ہیں کہ جب تک عینک اپنی نہ ہو، انسان کو اپنا پوت اور پرایا ڈھینگرا ہی نظر آتا ہے! 😂

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں