سبق نمبر 43: خلاصۂ قرآن رکوع بہ رکوع
سورہ شوریٰ کا خلاصہ
دعوت الی القرآن اس سورت اور اس جیسی دوسری سورتوں کے درمیان وجہِ امتیاز اس سورت کا عنوانِ خصوصی ہے اور وہ یہ کہ آنحضرت ﷺ کی وحی دیگر انبیاء کرام علیہم السلام کی وحی کے مشابہ و مماثل ہے، کوئی انوکھی اور نئی چیز نہیں۔ لہٰذا جس طرح گزشتہ انبیاء کرام علیہم السلام کی وحی سے انکار کی گنجائش نہیں، اسی طرح اس سے بھی مفر ممکن نہیں۔
رکوع نمبر ۱ کا خلاصہ: نزولِ قرآن کی وجہ قرآن کریم کو اللہ تعالیٰ نے لغتِ عربیہ میں نازل فرمایا ہے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ مکہ مکرمہ کے باشندے یہ اعتراض نہ کرسکیں کہ ’’اگر قرآن غیر عربی میں ہو‘‘ تو ہمیں تو اس کی سمجھ ہی نہیں آتی کہ یہ کیا چیز ہے؟ اور دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ اُمّ القریٰ (مکہ مکرمہ) کے باشندوں اور باسیوں کو ڈرانا آسان ہوجائے۔ اور یاد رہے کہ آپ ﷺ کے ڈرانے پر لوگ دو گروہوں میں بٹ جائیں گے:
قبول کرنے والے
رد کرنے والے اوّل الذکر جنت کے حقدار اور مؤخر الذکر جہنم کے وارث ہوں گے۔
رکوع نمبر ۲ کا خلاصہ: طبائعِ مشرکین کی ناسازی حضورِ اکرم ﷺ جس چیز کی طرف لوگوں کو دعوت دے رہے ہیں، وہ بعینہٖ وہی دعوت ہے جو حضرت نوح، ابراہیم، موسیٰ اور اسماعیل علیہم السلام کی توجہات کا مرکز بنی رہی۔ پھر حضور ﷺ ہی کی دعوت کیوں مشرکین کی نازک طبیعتوں پر گراں گزرتی ہے؟ اگر یہ نہیں مانتے تو کوئی بات نہیں، ان کے اعمال کا ضرر انہیں ہی کو ہوگا اور تمہارے اعمال کا نفع تم ہی کو ہوگا۔
رکوع نمبر ۳ کا خلاصہ: دنیا اور آخرت کے طلبگار جو لوگ دنیا کی کھیتی ہی کی پیداوار چاہتے ہیں، آخرت میں کسی ثواب کے طالب نہیں— بالفاظِ دیگر وہ منکرینِ قیامت ہیں۔ انہیں دنیا ہی میں سب کچھ مل جاتا ہے۔ اور جن لوگوں کا مطمحِ نظر آخرت کی کھیتی اور اس کی پیداوار ہوتی ہے، انہیں اس دن جبکہ منکرینِ قیامت انتہائی سہمے ہوئے ہوں گے، اور قرآنِ کریم کو افتراء علی اللہ قرار دینے والے اپنے گناہوں کو یاد کر رہے ہوں گے— اس دن مومنین کو خوشی کا اعلیٰ مقام حاصل ہوگا۔ ان پر نہ خوف ہوگا نہ غم۔
رکوع نمبر ۴ کا خلاصہ: اوصافِ مؤمنین انسانوں پر جو تکالیف، مصائب اور پریشانیاں آتی ہیں وہ اس کی اپنی کرتوتوں کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ انہیں دیکھ کر بعض لوگ قرآن کریم کی دعوت کو قبول کر کے زمرۂ مومنین میں داخل ہوتے ہیں اور بعض لوگ اسے رد کر کے اپنی شقاوت اور ازلی بدبختی پر مہرِ تصدیق ثبت کرتے ہیں۔ اوّل الذکر گروہ کے اوصافِ حمیدہ یہ ہیں:
گناہوں اور بے حیائی کے کاموں سے اجتناب۔
غصہ آنے پر مدّ مقابل کو معاف کرنے کا جذبہ۔
احکامِ رب کی بجا آوری و تعمیل۔
اقامتِ صلوٰۃ و ایتاءِ زکوٰۃ کی زبردست پابندی۔
باہمی مشاورت و استخارہ۔
انفاق فی سبیل اللہ کا اہتمام۔
ظلم کا بدلہ اگر لینا پڑ جائے تو ظلم و عدوان سے بچتے ہوئے ’’مساوات‘‘ کا خیال رکھنا۔
رکوع نمبر ۵ کا خلاصہ: انسان کی خود غرضی انسان باوجود یکہ اشرف المخلوقات ہے، اعلیٰ درجے کا خودغرض بھی ہے۔ مصیبت کے وقت اسے خدائے کل جہاں و ربِّ کائنات یاد آتا ہے، اور جوں ہی اس کی مہربانی سے وہ مصیبت سر سے ٹلتی ہے تو ’’کون خدا؟ اور کون بندہ؟‘‘ اولاد کی ضرورت ہوتی ہے تو دربدر کی ٹھوکریں کھاتا پھرتا ہے اور منتیں مرادیں مانتا ہے، حالانکہ یہ تو رب کی تقسیم ہے— کسی کو بیٹا اور بیٹی دونوں دیتا ہے، کسی کو صرف بیٹا، کسی کو صرف بیٹی، اور کسی کو کچھ بھی نہیں دیتا۔
سورہ زخرف کا خلاصہ
دعوت الی القرآن اس سورت میں اس موضوع کی یہ شق لے کر اپنے مخصوص اسلوب و طرزِ بیان میں واضح کیا جا رہا ہے کہ قرآن کریم کو محض تمہارے انکار کی وجہ سے زمین سے اٹھایا نہیں جا سکتا۔ یہ تو بہت اعلیٰ اور ذِیشان کتاب ہے۔ بجائے اس کے کہ اس کی دعوت پر لبیک کہا جائے، اس کا انکار کرتے ہوئے شرم کے مارے مر نہیں جاتے۔
رکوع نمبر ۱ کا خلاصہ: گزشتہ امتوں کا اپنے انبیاء علیہم السلام سے رویہ اس امت سے قبل جتنی امتیں بھی گزری ہیں، انہوں نے اپنے اپنے انبیاء کی تکذیب کی ہے اور ان کا مذاق اڑایا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی سخت پکڑ سے وہ بچ نہ سکے۔ یہ لوگ بھی قرآن کریم اور اس کی تعلیمات سے اعراض کر رہے ہیں۔ انہیں اس اعراض و انکار کی بہت بھیانک سزا ملے گی۔
رکوع نمبر ۲ کا خلاصہ: معززین کی گواہی کفار و مشرکین اللہ تعالیٰ کے لئے تو فرشتوں کو بیٹیاں تجویز کرتے ہیں، لیکن جب خود ان کے یہاں بیٹی کی پیدائش ہو جائے تو اسے اس قدر منحوس خیال کرتے ہیں کہ یہ خبر سنتے ہی ان کے چہرے کالے سیاہ ہو جاتے ہیں۔ ان سے اگر پوچھا جائے: تم تو بڑے معزز لوگ ہو کہ اللہ کے لئے بیٹیوں کی تخلیق کے گواہ بنتے ہو؟ کوئی بات نہیں— تمہاری گواہی قلم بند کرلی گئی ہے، عنقریب اس پر جرح ہوگی/
رکوع نمبر ۳ کا خلاصہ: تقسیمِ رحمتِ رب نبوت تو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا خصوصی فضل و کرم ہے۔ یہ کفار و مشرکین جو اعتراض کرتے ہیں کہ قرآن کریم مکہ مکرمہ اور طائف کے کسی بڑے آدمی پر کیوں نازل نہیں ہوتا؟ گویا وہ اپنی حیثیت سے بڑھ کر پروردگارِ عالم کی رحمت تقسیم کرنا چاہتے ہیں، جو کہ ایک غیر محسوس اور وہی چیز ہے۔
رکوع نمبر ۴ کا خلاصہ: شیطان کا دوست جو شخص اللہ تعالیٰ کے ذکر سے اعراض کرے، قرآن کریم اور اس کی تعلیمات کی خلاف ورزی کرے تو وہ شیطان کا دوست بن جاتا ہے، شیطان اس کا ہم نشین بن جاتا ہے۔ قیامت کے دن وہ یہ تمنا کرے گا کہ کاش! میرے اور اس شیطان کے درمیان بُعد بین المشرقین ہوتا۔
رکوع نمبر ۵ کا خلاصہ: فرعون کا فخر و غرور دنیا کی زیب و زینت پر فریفتہ ہونا، اس کے حصول کو اپنا نصب العین بنانا اور اس کے حاصل ہوجانے پر اپنے آپ کو خوش نصیب اور بخت آور سمجھنا انتہائی بے وقوفی ہے۔ فرعون ملکِ مصر اور اس کی بہتی ہوئی انہار و اشجار کی وجہ سے غرور میں مبتلا ہوا، اور بعد میں غرقاب ہو کر ہمیشہ ہمیش کے لیے نشانِ عبرت بن گیا۔
رکوع نمبر ۶ کا خلاصہ: ایک اعتراض اور اس کا جواب عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا سمجھتے تھے، اس لیے جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکرِ خیر قرآن کریم میں آیا تو کفارِ مکہ نے اعتراض شروع کر دیا کہ یہ عجیب نبی ہیں؛ نصاریٰ کے معبود کی تو عزت کرتے ہیں اور ہمارے معبودوں کو برا بھلا کہتے ہیں؟ اس کا جواب یہ دیا گیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام خدا نہیں، خدا کے بندے ہیں اور علاماتِ قیامت میں سے ایک اہم علامت ہیں۔
رکوع نمبر ۷ کا خلاصہ: اگر اللہ کی اولاد ہوتی تو؟ اہلِ جنّت و اہلِ جہنم کا تذکرہ سنا کر حضور ﷺ سے کہا جا رہا ہے کہ آپ لوگوں میں یہ اعلان فرما دیں کہ اگر اللہ کی کوئی اولاد ہوتی تو سب سے پہلے میں اس کی عبادت کرنے والا ہوتا۔ لیکن چونکہ یہ لوگ اتنی بڑی بات اور مضبوط دلیل کو بھی ماننے والے نہیں، اس لیے انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیا جائے۔
"آج الحمدللہ سورة شوری اور سورۃ زخرف کی رکوعات کا خلاصہ مکمل ہوا، کل ان شاء اللہ سورة دخان شروع کرینگے۔"

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں