سبق نمبر 39: خلاصۂ قرآن رکوع بہ رکوع
سورۂ سبا کا خلاصہ
تصفیۂ مسئلۂ مجازاة منکرینِ قیامت کے بیہودہ اور لایعنی انکار کی تردید کی جا رہی ہے اور قومِ سبا کے واقعے کے ذریعے انہیں یہ یقین دہانی کروائی جا رہی ہے کہ قیامت واقع ہو کر رہے گی، اس سے مفر ہرگز ممکن نہیں۔
رکوع نمبر ۱ کا خلاصہ: انکارِ مسئلۂ مجازاة کافر و مشرک لوگ قیامت کے وقوع کا انکار کرتے ہیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات کی قسم کھا کر فرما رہے ہیں کہ قیامت بہرحال آکر رہے گی۔ اللہ تعالیٰ پر کوئی چیز مخفی نہیں اور وہ ہر ایک کو اس کے کیے کا بدلہ ضرور دے گا۔ کفار بعث بعد الموت کے سلسلے میں حضورِ اکرم ﷺ کو جو مفتری یا مجنون قرار دے رہے ہیں، اس کی ہولناک سزا انہیں بھگتنا ہوگی۔
رکوع نمبر ۲ کا خلاصہ: شکر گزار اور ناشکرے اگر یہ کفار و مشرکین شکر گزار بندے بن جائیں، اللہ تعالیٰ کی توحید، حضورِ اکرم ﷺ کی رسالت اور یومِ مجازاة کے وقوع کا دل کی گہرائیوں اور گیرائیوں کے ساتھ یقین کر لیں تو انہیں حضرت داؤد و سلیمان علیہما السلام کی طرح سرفراز کیا جائے گا۔ دنیا میں بھی وہ خلافتِ ارضی اور نعماءِ الہیہ کے مستحق ہوں گے اور آخرت میں جنت کے حقدار بنیں گے۔ اور اگر انہوں نے ناشکری کی راہ اختیار کی اور یومِ مجازاة کا انکار کیا تو قومِ سبا کی طرح انہیں ان نعمتوں سے محروم کر دیا جائے گا جن پر آج وہ اتراتے پھرتے ہیں۔
رکوع نمبر ۳ کا خلاصہ: سفارش کا بھی کوئی فائدہ نہ ہوگا اگر خوفِ مجازاة کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے اپنا تعلق صحیح و درست نہ رکھا، اس تعلق میں دراڑ پڑنے پر کوئی نوٹس نہ لیا، غیر اللہ سے تعلقات استوار کیے، شیطان کا کہا مان کر اپنی آخرت برباد کی— تو قیامت کے دن یہ غیر اللہ ان کی کوئی سفارش نہ کر سکیں گے، اور اگر بالفرض سفارش ہو بھی جائے تب بھی اس کا کوئی فائدہ نہ ہوگا۔
رکوع نمبر ۴ کا خلاصہ: قیامت کے دن جھگڑا دنیا کی زندگی میں تو یہ لوگ قرآن کریم پر ایمان نہیں لا رہے، مگر یومِ مجازاة میں جب سب جمع ہوں گے تو ماتحت اپنے لیڈروں سے جھگڑیں گے اور تمام الزام ان پر ڈال دیں گے۔ وہ لیڈر اس الزام کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے اصل مجرم انہی ماتحتوں کو ٹھہرائیں گے، لیکن اس سے بھی انہیں کوئی فائدہ نہ ہوگا بلکہ ان کے غم و رنج میں اضافہ ہی ہوگا۔
رکوع نمبر ۵ کا خلاصہ: معبودانِ باطلہ کی بیزاری ان کے غم پر مزید اضافہ اس وقت ہوگا جب وہ خود ساختہ معبود اور مضل جنہیں وہ معبود سمجھ بیٹھے تھے، قیامت کے دن ان سے بیزاری کا اظہار کریں گے۔ فرشتے بارگاہِ خداوندی میں عرض کریں گے:
سُبْحَانَكَ أَنتَ وَلِيُّنَا مِنْ دُونِهِمْ، بَلْ كَانُوا يَعْبُدُونَ الْجِنَّ، أَكْثَرُهُمْ بِهِمْ مُؤْمِنِينَ لہٰذا اس دن کے غم و ہول سے بچنے کے لیے بہتر یہی ہے کہ یومِ مجازاة کو تسلیم کیا جائے۔
رکوع نمبر ۶ کا خلاصہ: تبلیغ پر معاوضہ مطلوب نہیں حضور ﷺ سے کہا جا رہا ہے کہ آپ فرما دیں: میں تو ایک نصیحت کی بات تمہیں کہہ رہا ہوں، تمہیں یومِ مجازاة سے ڈرا رہا ہوں، علّام الغیوب کے سامنے پیشی سے خبردار کر رہا ہوں۔ اس میں کوئی ذاتی غرض شامل نہیں، صرف تمہارا فائدہ مقصود ہے۔ میں تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتا، اگر مانگوں تو تم اسے اپنے پاس رکھو۔ البتہ میری اس دعوت پر ضرور کان دھرو تاکہ تم عذابِ آخرت سے بچ جاؤ۔
سورۂ فاطر کا خلاصہ
تنبیہ قبل از مجازات یومِ مجازاة میں بدلہ دینے سے پہلے ایک تنبیہ کی ضرورت ہے تاکہ کفار و مشرکین یہ اعتراض نہ کرسکیں کہ ہمیں بلا اطلاع اور بلا مہلت کے سزا دی گئی ہے اور یہ تو صریح ظلم ہے۔ لہٰذا اس ضرورت کو ارسالِ رُسل (پیغمبروں کو بھیج کر) پورا کیا جا رہا ہے۔ اس کے بعد اگر کوئی ان رسولوں کا انکار کرے گا تو اس کا خمیازہ اسے بھگتنا ہوگا۔
رکوع نمبر ۱ کا خلاصہ: تعلیمِ سماوی بذریعہ ملائکہ علیہم السلام اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود نہیں۔ اس نے آسمان و زمین کو وجود اور بقا بخشی ہے۔ اس نے رسولوں کی تکذیب کرنے والوں پر سزا و گرفت کا جو وعدہ فرما رکھا ہے وہ وعدہ سچا ہے، کیونکہ وہ اپنے کسی وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔ لہٰذا اگر تم اپنی اصلاح کر کے اس سزا و گرفت سے بچنا چاہو تو ملائکہ علیہم السلام کے ذریعے جو آسمانی تعلیم آرہی ہے، اس پر عمل کرو اور اپنی آخرت کو سنوارو۔
رکوع نمبر ۲ اور ۳ کا خلاصہ: دو متضاد تصویریں جس طرح کھاری اور شیریں پانی، رات اور دن، شمس و قمر، بینا اور نابینا، اندھیرا اور روشنی، سایہ اور دھوپ، زندہ اور مردہ برابر نہیں ہوسکتے، اسی طرح جو لوگ وحیِ الٰہی سے مستفید ہوتے ہیں وہ اور جو لوگ وحیِ الٰہی سے اعراض کرتے ہیں وہ برابر نہیں ہوسکتے، اور ان میں زمین آسمان کا فرق ہے۔
رکوع نمبر ۴ کا خلاصہ: ایک ہی چیز کے مختلف نتائج جس طرح پانی ایک ہی ہے اور اس سے مختلف ذائقوں، مختلف رنگوں اور مختلف خاصیتوں والی اشیاء پیدا ہوتی ہیں، اسی طرح رحمتِ الٰہی کا دروازہ بھی ایک ہی ہے۔ لیکن جب یہ قلوب سے وابستہ ہوتا ہے تو اس سے مختلف کیفیات کا صدور ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی کمال قدرت اور کاریگری کا اعلیٰ نمونہ ہے، اور پکار پکار کر وجود و توحیدِ باری تعالیٰ کا نکتہ سنا رہا ہے۔
رکوع نمبر ۵ کا خلاصہ: خلافتِ الٰہی اللہ تعالیٰ جو عالم الغیب ہیں، انہوں نے انسان کو زمین میں اپنا خلیفہ بنا کر بھیجا ہے اور یوں اپنی رحمت کا دروازہ چوپٹ کھول دیا ہے۔ پھر اسباب بھی مہیا کر رکھے ہیں، زمین و آسمان کو ان کی اپنی اپنی جگہ جما اور تھما دیا ہے۔ اس لئے اگر تم نے اس شاندار پیشکش سے فائدہ اٹھا لیا تو یہ تمہارے ہی نفع کا باعث ہوگا، ورنہ ہمارا کچھ نقصان نہیں، بلکہ تمہارا اپنا نقصان ہوگا۔
"آج الحمدللہ سورة سبا اور سورۃ فاطر کی رکوعات کا خلاصہ مکمل ہوا، کل ان شاء اللہ سورۃ یٰس شروع کرینگے۔"

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں