🛡️ وہ شرعی اعذار جن میں روزہ نہ رکھنا یا توڑنا جائز ہے
مرتب: ✍️ مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو (عفی عنہ)
سلسلہ: مسائلِ رمضان المبارک | پوسٹ نمبر: 09
انسانی جان کی حفاظت اور شرعی سہولت
دینِ اسلام میں انسانی زندگی کی حفاظت کو انتہائی اہمیت حاصل ہے۔ درج ذیل مخصوص صورتوں میں شریعتِ مطہرہ نے روزہ نہ رکھنے یا توڑنے کی اجازت دی ہے:
1. جان کا خطرہ یا بیماری میں اضافہ
اگر اچانک ایسی صورتحال پیدا ہو جائے کہ روزہ نہ توڑنے کی صورت میں جان جانے کا خطرہ ہو، تو روزہ توڑنا جائز ہے۔
اسی طرح اگر غالب گمان ہو کہ روزہ جاری رکھنے سے بیماری میں شدید اضافہ ہو جائے گا، تو بھی روزہ افطار کیا جا سکتا ہے۔
ایسی صورت میں بعد میں صرف اس روزے کی قضا لازم ہوگی۔
2. حاملہ عورت کے لیے حکم
اگر حاملہ عورت کو دورانِ روزہ ایسی کیفیت پیش آئے جس سے اس کی اپنی جان یا پیٹ میں موجود بچے کی جان کو خطرہ لاحق ہو، تو اس کے لیے روزہ توڑنا جائز ہے۔
3. دودھ پلانے والی عورت کے لیے رعایت
اگر دودھ پلانے والی عورت کو یہ اندیشہ ہو کہ روزہ رکھنے سے دودھ خشک ہو جائے گا جس سے شیر خوار بچہ ہلاک ہو سکتا ہے، یا عورت خود شدید کمزوری کی وجہ سے ہلاکت کے قریب پہنچ جائے گی، تو اسے روزہ افطار کرنے کی اجازت ہے۔
ایسی خواتین رمضان کے بعد ان روزوں کی قضا کر لیں۔
4. بھوک اور پیاس کی بے تابی
اگر کسی کام یا حادثے کی وجہ سے اتنی شدید بھوک یا پیاس لگ جائے کہ جان جانے کا حقیقی خوف ہو، تو روزہ توڑنا درست ہے۔
تنبیہ: اگر کسی نے جان بوجھ کر خود کو ایسے مشقت والے کام میں ڈالا جس سے یہ حالت ہوئی، تو وہ گناہ گار ہوگا، البتہ جان بچانے کے لیے روزہ توڑنا پھر بھی ضروری ہوگا۔
📚 مستند حوالہ جات
الدر المختار مع رد المحتار: کتاب الصوم، جلد: 2، صفحہ: 421، طبع: سعید۔
الفتاویٰ الہندیہ: کتاب الصوم، باب الاعذار التی تبیح الافطار، جلد: 1، صفحہ: 206، طبع: سعید۔
📢 علمی و تحقیقی پلیٹ فارم
مستند فقہی مسائل اور دینی رہنمائی کے لیے ہماری ویب سائٹس وزٹ کریں:
🌐 آن لائن بلاگ: [
🌐 ایس ای او (SEO) اور ٹیگز
Meta Description: کن صورتوں میں رمضان کا روزہ توڑنا جائز ہے؟ حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین کے لیے روزے کے احکام۔ جانئے فتاویٰ عالمگیری کی روشنی میں اہم مسائل۔
Keywords: روزہ توڑنے کے اعذار، حاملہ عورت کا روزہ، دودھ پلانے والی عورت کا روزہ، مسائل رمضان، مفتی عرفان اللہ درویش، فقہ حنفی، Fasting Exemptions Islam.
Hashtags:
#Ramadan2026 #مسائل_رمضان #روزہ #شرعی_رعایت #اسلامی_فقہ #مفتی_عرفان_اللہ #عورتوں_کے_مسائل

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں