سبق نمبر 38: خلاصۂ قرآن رکوع بہ رکوع
سورہ احزاب کا خلاصہ
اللہ تعالیٰ کی ذات پر کامل بھروسہ حضور ﷺ سے کہا جا رہا ہے کہ آپ اپنے فرائضِ منصبی مکمل تندہی اور اللہ کامل توکل کے ساتھ ادا کرتے رہیں اور کفار و منافقین کی پرواہ بالکل نہ کریں بلکہ اپنے عزیز و اقارب بھی ادائیگیِ فرائض میں خلل انداز نہیں ہونے چاہئیے اور یہ اس وجہ سے نہیں کہا گیا کہ معاذ اللہ آپ ﷺ میں کسی قسم کی کمی کوتاہی تھی بلکہ یہ آپ کو کہہ کر امت کو سکھانا اور سمجھانا مقصود ہے کہ جب انہیں حکم تھا تو تمہیں بطریقِ اولیٰ ہوگا۔
رکوع نمبر ۱ کا خلاصہ : مسائلِ ثمانیہ بالا اجمال اس رکوع میں اجمالی طور پر آٹھ مسائل ذکر کئے جا رہے ہیں اور اگلے رکوعات میں ان کی تفصیل بیان کی جا رہی ہے۔ وہ آٹھ مسائل حسبِ ذیل ہیں:
تقویٰ، توکل اور اتباعِ وحی کے ساتھ کفار و منافقین کی پرواہ نہ کرنا.
کسی بھی شخص کے دو دل نہیں ہو سکتے.
متبنّٰی (لے پالک بیٹا) حقیقی بیٹا نہیں ہو سکتا.
نبی مکرم سرورِ دو عالم ﷺ مسلمانوں کے معاملات میں دخل دے کر جو بھی حکم ارشاد فرمائیں، وہ واجبُ الاطاعت ہے.
نبی مکرم سرورِ دو عالم ﷺ کی ازواجِ مطہرات امت کی مائیں ہیں.
میراث میں قریبی رشتہ دار حقِ وراثت رکھتے ہیں.
انبیاء کرام علیہم السلام سے اخذِ میثاق.
مخالفینِ حق کی سزا.
رکوع نمبر ۲ کا خلاصہ: تقویٰ و توکل اور اتباعِ وحی غزوہ احزاب کا پیش آمدہ واقعہ ان تینوں چیزوں کی بھرپور عکاسی کرتا ہے، اس میں آپ ﷺ کو تقویٰ کا سبق بھی ملے گا، نبی علیہ السلام پیٹ پر پتھر باندھے ہوئے بھی دکھائی دیں گے اور پتھر توڑتے ہوئے بھی نظر آئیں گے، کبھی کفار کے نرغے میں پھنسے ہوئے دکھائی دیں گے اور کبھی جہاد میں مشغول نظر آئیں گے۔ اسی طرح توکل کا اعلیٰ نمونہ بھی اس سورت کا حصہ ہے اور اتباعِ وحی الٰہی کا تو کہنا ہی کیا؟
رکوع نمبر ۳ کا خلاصہ: اجمالِ اوّل کی تفصیل حضور اقدس ﷺ کی ذات منبعِ فیوض و برکات، سرچشمہ ہدایت و رحمت اور امتِ مسلمہ کیلئے راہِ علم و عمل میں اسوہ حسنہ ہے۔ آپ کی زندگی میں کوئی دن ایسا نہیں آیا جس میں وہ اللہ کے علاوہ کسی اور سے ڈرے ہوں۔ توکل کے بغیر ان کی زندگی کا ایک لمحہ بھی نہیں بنتا، حتیٰ کہ اللہ کے بھروسے پر ہی بنو قریظہ کو سزا دینے کیلئے منصل چھوڑ کر روانہ ہو گئے۔ اور اتباعِ وحی کا ایسا کامل نمونہ کہ جبریل کے صرف اتنا کہنے کی دیر تھی: "ہم نے تو ابھی تک ہتھیار نہیں اتارے"، فوراً کوچ کا حکم اور منادی کروا دی۔
رکوع نمبر ۴ کا خلاصہ: اجمال دوم کی تفصیل اللہ تعالیٰ نے کسی انسان کے سینے میں دو دل نہیں رکھے کہ ایک سے خالق کو راضی کرے اور دوسرے سے مخلوق کی رضا کیلئے ساعی و کوشاں رہے۔ حضور ﷺ بھی انسان (بلکه باعثِ فخرِ انسانیت) ہیں۔ ان کے بھی دو دل نہیں کہ ایک سے اللہ کو راضی کریں اور دوسرے سے اپنی ازواج کو خوش کریں، انہیں مال و دولت فراوانی سے عطا کریں بلکہ ان کا بھی ایک ہی دل ہے جسے انہوں نے اپنے خدا کی رضا حاصل کرنے میں لگا رکھا ہے۔ اس لئے اگر ازواجِ مطہرات نفقہ و سالانہ خرچ میں اضافے کا مطالبہ واپس نہیں لیتیں تو پھر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے یہاں اس کی کوئی گنجائش نہیں۔
رکوع نمبر ۵ کا خلاصہ: اجمالِ سوم کی تفصیل کسی کو منہ بولا بیٹا بنا لینے سے وہ حقیقی بیٹے کی طرح نہیں ہو جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی بیوی سے نکاح کرنا جائز ہے، جبکہ حقیقی بیٹے کی بیوی (اپنی بہو) سے نکاح کرنا جائز نہیں ہے۔ عرب میں متبنّٰی بیٹے کو حقیقی بیٹے کا درجہ دیتے ہوئے اس کی بیوی سے نکاح کرنا ناجائز اور حرام سمجھا جاتا تھا۔ حضور ﷺ نے اسلام کے ذریعے اس رسم کو ختم کروا دیا اور حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، جو آپ ﷺ کے متبنّٰی تھے، کی بیوی حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو مطلقہ ہونے اور عدت گزارنے کے بعد آپ ﷺ کے نکاح میں دے دیا گیا تاکہ یہ رواج ختم ہو جائے۔
رکوع نمبر ۶ کا خلاصہ: اجمال چہارم کی تفصیل حضور اقدس ﷺ مومنین کے مفاد اور بھلائی کو ان سے زیادہ جانتے ہیں۔ اس لئے اگر وہ کسی عورت کو اپنے نکاح میں لے آئیں یا کسی کے نکاح میں دے دیں یا اپنی ازواج میں کسی قسم کی نوبت اور تقسیم مقرر کر دیں یا نہ کریں، تب بھی آپ ﷺ کو مکمل اختیار ہے۔ یہ اختیارات آپ کے ساتھ ہی خاص ہیں، امت ان احکام میں آپ کی شریک نہیں۔
رکوع نمبر ۷ کا خلاصہ: اجمال پنجم و ششم کی تفصیل حضور ﷺ کی ازواجِ مطہرات امت کی روحانی مائیں ہیں اور ان کی عزت، توقیر اور احترام بمنزلہ اپنی جسمانی والدہ کے (بلکہ اس سے بھی زیادہ) واجب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان سے نکاح کرنا ابدالآباد تک حرام ہے کہ ماں سے نکاح جائز نہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ چونکہ ازواجِ مطہرات نسبی اور جسمانی مائیں نہیں اس لئے:
میراث میں ان کا کوئی حصہ نہیں
ان سے پردہ کرنا بھی ضروری ہے
اور خود ان کیلئے بھی پردہ ضروری ہے
رکوع نمبر ۸ کا خلاصہ: اجمال ہفتم کی تفصیل قیامت کے دن انبیاء کرام علیہم السلام سے ان کی تبلیغی سرگرمیوں کی بابت سوال ہوگا کہ انہوں نے اپنی امتوں کو کیا تبلیغ کی اور اس کا کیا نتیجہ برآمد ہوا؟ امتِ مسلمہ کے متعلق بھی یہی سوال ہوگا۔ اس لئے اس امت کو چاہئے کہ وہ احکامِ الٰہی مثلاً حجاب اور پردے وغیرہ کی پاسداری کرے تاکہ حضور ﷺ قیامت کے دن اس امت کے حق میں بہترین گواہی دے سکیں۔ ورنہ کفار تو ایک دوسرے پر الزام لگائیں گے، وڈیروں اور لیڈروں پر ماتحتوں کی طرف سے لعن طعن کی بوچھاڑ ہوگی، اور درخواست پیش کی جائے گی کہ انہوں نے ہمیں گمراہ کیا، اس لئے انہیں دوگنا عذاب دیا جائے۔ اور وڈیروں کی طرف سے کہا جائے گا کہ ہم نے ان کا ہاتھ پکڑ کر یہ کام کرنے کو کب کہا تھا؟
رکوع نمبر ۹ کا خلاصہ: اجمال ہشتم کی تفصیل اے مسلمانو! اپنے نبی کی ایذا دہی سے بچو اور بنی اسرائیل کی طرح نہ بنو جنہوں نے اپنے نبی حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ایذا پہنچائی تھی۔ بلکہ حضور ﷺ سے اپنے منصبی فرائض سے سبکدوشی کا احسن طریق سیکھو اور اس کے مطابق اپنی زندگی بسر کرو۔ جو شخص اس حکم کی مخالفت پر کمر باندھے گا اس کے لئے عذابِ الیم تیار ہے اور بس اس کے وہاں پہنچنے کا منتظر ہے۔
"آج الحمدللہ سورۃ احزاب کی 09 رکوعات کا خلاصہ مکمل ہوا، کل ان شاء اللہ سورة سبا شروع کرینگے۔"

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں