⚠️ تحقیق: کیا رمضان میں نئی چیزوں کے استعمال کا حساب نہیں ہوگا؟
مرتب: ✍️ مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو (عفی عنہ)
سلسلہ: مسائلِ رمضان المبارک | پوسٹ نمبر: 08
عوامی سطح پر گردش کرنے والا سوال
عام طور پر لوگوں میں یہ بات مشہور ہے کہ:
"رمضان المبارک کے مہینے میں نئے کپڑے پہننے، جوتے خریدنے یا کوئی بھی نئی چیز استعمال کرنے پر قیامت کے دن حساب نہیں لیا جائے گا۔" کیا اس بات کی کوئی حقیقت قرآن و حدیث میں موجود ہے؟
شرعی و تحقیقی جواب
اس دعوے کی شرعی حیثیت درج ذیل ہے:
بے بنیاد بات: یہ ایک بالکل من گھڑت اور خود ساختہ بات ہے۔
قرآن و حدیث سے عدم ثبوت: ایسی کوئی بھی فضیلت نہ تو قرآن کریم میں ذکر ہے اور نہ ہی نبی کریم ﷺ کی کسی صحیح یا ضعیف حدیث میں اس کا کوئی سراغ ملتا ہے۔
اصولِ حساب: اللہ تعالیٰ نے نعمتوں کے بارے میں جو عمومی ضابطہ بیان فرمایا ہے (ثُمَّ لَتُسْئَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيْمِ)، اس کے تحت ہر حلال نعمت کا حساب اور سوال ہونا برحق ہے، چاہے وہ کسی بھی مہینے میں استعمال کی جائے۔
خلاصہ تحقیق
رمضان المبارک میں خریداری یا نئی چیزوں کے استعمال کو "حساب سے استثنیٰ" کا ذریعہ سمجھنا غلط ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ ایسی بے بنیاد باتوں کو آگے پھیلانے سے گریز کریں اور دین کی وہی بات بیان کریں جو مستند ہو۔
📚 حوالہ و فتویٰ
ماخذ: دار الافتاء، جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتویٰ نمبر: 143909200473
📢 علمی و تحقیقی پلیٹ فارم
مستند دینی معلومات اور اصلاحِ عقائد کے لیے ہمارے پلیٹ فارمز وزٹ کریں:
🌐 آن لائن بلاگ:
🏛️ آئی ٹی درسگاہ فورم:
🌐 ایس ای او (SEO) اور ٹیگز
Meta Description: کیا رمضان میں نئے کپڑوں کا حساب نہیں ہوگا؟ جانئے اس مشہور عوامی قول کی حقیقت اور جامعہ بنوری ٹاؤن کا فتویٰ۔
Keywords: رمضان کی من گھڑت فضیلت، نئے کپڑوں کا حساب، مفتی عرفان اللہ درویش، جامعہ بنوری ٹاؤن فتاویٰ، اصلاحِ معاشرہ، Ramadan Myths Urdu.
Hashtags:
#RamadanMyths #اصلاح_معاشرہ #رمضان_المبارک #تحقیق #مسائل_رمضان #اسلامی_تعلیمات #جامعہ_بنوری_ٹاؤن

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں