سبق نمبر 36 خلاصۂ قرآن رکوع بہ رکوع


سبق نمبر 36: خلاصۂ قرآن رکوع بہ رکوع

سورہ عنکبوت کا خلاصہ

ضرورتِ جہاد و ہجرت در اصل سورۂ عنکبوت، سورۂ قصص کے مضامین کا تتمہ اور تکملہ ہے۔ چنانچہ سورۂ قصص میں اس امت کی کامیابی و کامرانی اور سرفرازی کا جو وعدہ فرمایا گیا ہے، اس کی تکمیل ہجرت اور جہاد سے ہوگی۔ گویا ہجرت اور جہاد مسلمانوں کی سربلندی کا سبب ہیں، نہ کہ ذلت و عار کا، جیسا کہ آج کل کچھ لوگ سمجھتے ہیں۔

چونکہ بنی اسرائیل تازہ تازہ غلامی کی زنجیروں سے آزاد ہوئے تھے اور ان میں حریت اور غیرت کا وہ جذبہ اور مادّہ باقی نہ رہا تھا جس سے ان کے جسم میں زندگی کی لہر دوڑ جاتی، اس لئے ان کی کامیابی کا سامان غیبی طور پر مہیا کیا گیا، جبکہ مسلمانوں میں غیرت و حمیت کا جذبہ چونکہ پہلے سے سوا ہو کر پروان چڑھ رہا ہے اس لئے یہاں قوتِ بازو سے کام لینا پڑے گا جس کے پس پردہ در حقیقت امانت و نصرتِ الٰہی کارفرما ہوگی۔

رکوع نمبر ۱ کا خلاصہ: مسلمانوں کا امتحان کھرے اور کھوٹے، سچے اور جھوٹے، مخلص اور ریاکار میں امتیاز کے لئے اللہ تعالیٰ مسلمانوں سے بھی ضرور امتحان لیں گے، اور یہ امتحان جہاد کے پرچے کے ذریعے لیا جائے گا۔ جو اس پرچے میں کامیاب ہو گیا وہ اپنے نیک اعمال کا بہترین بدلہ پالے گا، اور جو اس پرچے میں فیل ہو گیا اس کی زندگی اجیرن ہو جائے گی، وہ گھٹ گھٹ کر مر جائے گا، اور اس کے پاس نظر آنے والا ساز و سامان اس کے لئے سانپ اور بچھو کی شکل اختیار کر جائے گا۔

رکوع نمبر ۲ تا ۴ کا خلاصہ: تذکیر بأیّامِ اللہ مسلمانوں سے کہا جا رہا ہے کہ جہاد و ہجرت کا جو امتحانی پرچہ تمہارے لئے تیار کیا گیا ہے وہ کوئی اس قدر مشکل نہیں ہے کہ اس میں صحیح نیت والا کوئی شخص فیل ہو جائے۔ تم سے پہلے بھی امتوں کا امتحان ہوا، اور ان کا امتحانی پرچہ بھی یہی تھا، جس میں انبیاء کرام علیہم السلام اور ان پر ایمان لانے والے کامیاب ہوئے اور نہ ماننے والے فیل ہو کر جہنم کا راستہ اختیار کر گئے۔ چنانچہ حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم سے ساڑھے نو سو سال تبلیغی جہاد کیا، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے پیرانہ سالی میں اپنے بھتیجے حضرت لوط علیہ السلام کے ساتھ مل کر ہجرت کی، حضرت شعیب علیہ السلام نے اپنی قوم سے ناپ تول میں کمی بیشی ختم کرانے کا ایک مسلسل جہاد کیا، اسی طرح حضرت ہود و صالح علیہما السلام کے واقعات ہیں۔ لیکن راہِ حق میں کہیں قارون نے روڑے اٹکائے اور کہیں فرعون نے کانٹے بچھائے، کہیں نمرود نے رکاوٹیں کھڑی کیں اور کہیں شدّاد سرکشی و بغاوت پر آمادہ رہا، اور ایسا بھی ہوا کہ کبھی پوری قوم یا چند افراد گناہوں کی دلدل میں ڈوب کر اپنا اور پوری قوم کا بیڑہ غرق کرتی رہی۔

آخر میں ایک مختصر سا تبصرہ پیش کیا جا رہا ہے، اور وہ یہ کہ جن معبودانِ باطلہ کی یہ پرستش کرتے ہیں ان کی مثال تو مکڑی کے جالے کی سی ہے جو سب سے زیادہ کمزور ہوتا ہے، پھر نہ جانے کیوں یہ لوگ ان کے در پر ماتھے ٹکتے ہیں؟

رکوع نمبر ۵ کا خلاصہ: تعلق مع اللہ مضبوط کرنے کی تاکید اعتراضات کرنا اور لوگوں کو شکوک و شبہات کی اندھیر نگری میں دھکیلنا معاندینِ حق کا ہمیشہ سے وطیرہ اور پسندیدہ مشغلہ رہا ہے، اس لئے حضورِ اکرم ﷺ سے بالخصوص اور تمام مسلمانوں سے بالعموم کہا جا رہا ہے کہ آپ قرآنِ کریم کی تلاوت، اقامتِ صلوٰۃ اور ایتاءِ زکوٰۃ کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے ساتھ اپنے تعلق کو مضبوط سے مضبوط تر بنا لیں، اور اہلِ کتاب کو منہ بھی نہ لگائیں، ہاں! اگر وہ کھلم کھلا مجادلت پر اتر آئیں تو آپ بھی احسن طریقے سے جواب دے کر انہیں خاموش کروا دیں۔

رکوع نمبر ۶ کا خلاصہ: ارضِ خدا تنگ نیست جہاد فی سبیل اللہ یا حفاظتِ ایمان کے لئے اگر ہجرت بھی کرنا پڑے تو وطن کو چھوڑنے میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہ کرنا۔ اللہ تعالیٰ کی زمین بہت وسیع ہے، اس لئے جہاں چاہو ہجرت کر کے چلے جاؤ۔ اور دیکھو! رزق کی فکر نہ کرنا۔ ذرا سوچو تو سہی کہ کتنے جانور اپنی روزی اٹھائے پھرتے ہیں؟ جب اللہ انہیں رزق دے سکتا ہے تو تمہیں کیوں نہیں دے سکتا؟ یہ اور بات ہے کہ کسی کو کم اور کسی کو زیادہ عطا ہوتا ہے، لیکن یہ تقسیم بھی حکمت اور مصلحت سے خالی نہیں۔

رکوع نمبر ۷ کا خلاصہ: اعادہ دعویٰ ابتداء سورت میں کئے جانے والے دعویٰ کو دوبارہ دہرایا جا رہا ہے کہ جب مسلمان حق کی حمایت کے لئے جہاد کریں گے تو ہماری معیت اور نصرت ان کے شاملِ حال ہوگی۔ کامیابی ان کے قدم چومے گی، فتح ان کا مقدر ہوگی، غلبہ ان کا حاصلِ نتیجہ ہوگا، اور غنیمت مفت میں ہاتھ آئے گی۔ اللہ مسلمانوں کی مدد تو کرتا ہی ہے، کفار و مشرکین جب سمندری سفر میں بھنور میں پھنس جاتے ہیں تو ان کی مدد بھی اللہ ہی کرتا ہے۔


سورہ روم کا خلاصہ

غلبۂ اسلام کا اعلان اس سورت میں اوّلاً تو اسلام کے غالب اور کفر کے مغلوب ہونے کا اعلان و دعویٰ کیا جا رہا ہے، ثانیاً دلائلِ غلبہ ذکر کئے جا رہے ہیں، اور ثالثاً اصولِ غلبہ سمجھائے جا رہے ہیں۔

رکوع نمبر ۱ کا خلاصہ: دعویٰ غلبۂ اسلام رومیوں کا عقیدہ ایرانیوں کی نسبت مسلمانوں کے زیادہ قریب ہے۔ ابتدا میں انہیں ایرانیوں کے مقابلے میں ہزیمت سے دوچار ہونا پڑا اور اس پر کفارِ مکہ نے خوب خوشیاں منائیں، لیکن ما بعد ان کے غالب ہونے اور ایرانیوں کے مغلوب ہونے کی پیشگوئی کر دی گئی۔ اور جس دن مسلمانوں کو بدر میں شاندار فتح حاصل ہوئی، اسی دن رومیوں نے بھی ایرانی لشکر میں تہلکہ مچا کر رکھ دیا اور آخر کو فتح سے ہمکنار ہوئے۔ گویا "وَهُم مِنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ" میں اشارۃً غلبۂ اسلام کا ذکر ہے۔

رکوع نمبر ۲ اور ۳ کا خلاصہ: دلائلِ غلبہ مسلمانوں کو غلبہ اللہ تعالیٰ کی مدد اور اس کی خصوصی اعانت سے حاصل ہوگا۔ اللہ کون ہے؟ جس نے تمام مخلوقات کو پردۂ عدم و نیست سے نکال کر وجود و ہست کی سیڑھی پر لاکھڑا کیا، مُردے کو زندہ سے اور زندہ کو مُردے سے نکالنے کا انتظام کیا، مٹی سے بنے ہوئے انسان کو چلنے پھرنے کی طاقت عطا کی۔ تمہارے آرام و راحت کی غرض سے تمہارے جوڑے بنا دیے، آسمان و زمین اسی کا تخلیقی شاہکار ہیں، زبان اور رنگ و روپ کا اختلاف بھی اس کی قدرت کا نمونہ ہے، رات کو سونے اور دن کو کھانے کے اسباب اس نے مہیا کیے، خشک سالی کے بحران سے بچانے کے لیے آسمان اور بادلوں کو کھڑا کرکے پانی برسا دیا۔ کیا اس قدر طاقتور اللہ مسلمانوں کو غلبہ و نصرت سے ہم کنار نہیں کرسکتا؟ ضرور کرسکتا ہے اور کر کے دکھائے گا۔

رکوع نمبر ۴ کا خلاصہ: اصولِ غلبہ اس رکوع میں ”اصولِ غلبہ“ تفصیل کے ساتھ بیان کیے جا رہے ہیں جن کی تعداد کل آٹھ ہے:

  1. أَقِمْ وَجْهَکَ لِلدِّینِ: دین پر ثابت قدمی اور مستقل مزاجی کا مظاہرہ۔

  2. مُنِیبِینَ إِلَیْهِ: انابت و رجوع الی اللہ۔

  3. وَاتَّقُوهُ: لباسِ تقویٰ سے اپنے آپ کو مزین کرنا۔

  4. أَقِیمُوا الصَّلَاةَ: اقامتِ صلوٰۃ و ادائے نماز۔

  5. وَلَا تَکُونُوا مِنَ الْمُشْرِکِینَ: شرک سے انتہائی احتراز۔

  6. آتِ ذَا الْقُرْبَىٰ حَقَّهُ: رشتہ داروں کے حقوق کی ادائیگی۔

  7. وَالْمِسْکِینَ: حقوقِ مساکین کی ادائیگی۔

  8. وَابْنَ السَّبِیلِ: حقوقِ مسافران کی ادائیگی۔

رکوع نمبر ۵ کا خلاصہ: بَرّ و بحر میں فساد کا اصل سبب بر و بحر میں قتل و غارت گری، عصمت دری، بداخلاقی اور ہر قسم کے جرائم و فسادات کا اصل اور بنیادی سبب انسان کی اپنی کرتوت اور اعمال ہیں۔ جیسے اعمال اوپر جاتے ہیں، ویسے ہی فیصلے نیچے آتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جب مسلمان حکومتِ ربانی کی بنیاد رکھیں گے اور اصولِ غلبہ پر عمل کرکے کفار و مشرکین پر غلبہ پائیں گے تو بداعمالی کا یہ عنوان مٹ جائے گا۔ پھر ملک میں امن و امان کا دور دورہ ہوگا، کسی پر ظلم نہ ہوگا، مظلوموں پر دست درازی اور نامحرموں پر گندی نظریں—سب پر پہرے بیٹھ جائیں گے۔

رکوع نمبر ۶ کا خلاصہ: اللہ تعالیٰ کی قدرتِ مطلقہ جس اللہ کے ہاتھ میں ہر قسم کی طاقتوں اور کمزوریوں کی باگیں ہیں، کبھی وہ ضعفِ دِگر پیدا کرتا ہے، کبھی قوت دے کر جوانی بخشتا ہے اور کبھی ضعفِ دِگر بڑھاپے کی منزل تک پہنچاتا ہے۔ اسی طرح یہ قدرت بھی اسی کو حاصل ہے کہ اعداءِ اسلام کو کمزور و مغلوب کردے اور اولیاءِ اسلام کو طاقت و غلبہ عطا فرمادے۔

"آج الحمدللہ سورة عنکبوت اور سورۃ روم کی رکوعات کا خلاصہ مکمل ہوا، کل ان شاء اللہ سورة لقمان شروع کرینگے۔"

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں