🌙 رویتِ ہلال: چاند دیکھنے کے شرعی احکامات اور گواہی کے مسائل
مرتب: ✍️ مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو (عفی عنہ)
سلسلہ: مسائلِ رمضان المبارک | پوسٹ نمبر: 06
چاند کی رویت اور مطلع کی صورتحال
شریعتِ مطہرہ میں رمضان اور عیدین کا ثبوت چاند دیکھنے پر منحصر ہے۔ مطلع (آسمان) کی صورتحال کے اعتبار سے اس کے احکامات درج ذیل ہیں:
1. جب آسمان بالکل صاف ہو
اگر مطلع صاف ہو تو رمضان یا عید کے ثبوت کے لیے بہت سے لوگوں (جمِ غفیر) کا چاند دیکھنا ضروری ہے۔ ایسی صورت میں محض ایک یا دو افراد کی گواہی معتبر نہیں ہوگی، کیونکہ مطلع صاف ہونے کی صورت میں چاند کا سب کو نظر آنا لازمی ہے۔
2. جب آسمان صاف نہ ہو (بادل یا غبار ہو)
رمضان کا چاند: اگر مطلع ابر آلود ہو، تو صرف ایک مسلمان (مرد ہو یا عورت) کی گواہی بھی کافی ہے، بشرطیکہ وہ عادل ہو اور گناہوں (فسق) میں مبتلا نہ ہو۔
عید کا چاند: عید کے ثبوت کے لیے دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی ضروری ہے۔ ان کا عادل ہونا بھی شرط ہے۔
جدید ذرائع اور جنتری کی حیثیت
جنتری: چاند کے ثابت ہونے میں ریاضیاتی حساب کتاب یا جنتریوں کا شرعی اعتبار نہیں، اصل مدار رویت (دیکھنے) پر ہے۔
ٹیلیفون و میڈیا: چاند کے سلسلے میں ریڈیو، ٹیلیفون، سوشل میڈیا یا دیگر ذرائع سے آنے والی خبریں اس وقت تک معتبر نہیں جب تک مقامی ذمہ دار مفتیانِ کرام اس کی تصدیق نہ کر دیں۔
خلاصہ: عبادات کے معاملے میں محض افواہوں یا تکنیکی حسابات کے بجائے شرعی گواہی اور مستند علماء کے فیصلے کی پیروی لازم ہے۔
📚 حوالہ و ماخذ
کتاب: فتاویٰ ہندیہ (عالمگیری)
تفصیل: کتاب الصوم، الباب الثانی فی رؤیۃ الہلال، جلد 1، صفحہ 197-198
📢 علمی و تحقیقی پلیٹ فارم
مستند دینی معلومات اور فقہی ابحاث کے لیے ہمارے پلیٹ فارمز سے وابستہ رہیں:
🌐 آن لائن بلاگ:
🏛️ آئی ٹی درسگاہ فورم:
🌐 ایس ای او (SEO) اور ٹیگز
Meta Description: چاند کی گواہی کے شرعی اصول کیا ہیں؟ کیا جنتری یا ریڈیو کی خبر پر روزہ رکھا جا سکتا ہے؟ جانئے فتاویٰ ہندیہ کی روشنی میں رویتِ ہلال کے مسائل۔
Keywords: رویت ہلال کے مسائل، چاند کی گواہی، عید کا چاند، رمضان کا چاند، مفتی عرفان اللہ درویش، فتاویٰ ہندیہ، Moon Sighting Rules Islam.
Hashtags:
#Ramadan2026 #رویت_ہلال #چاند #مسائل_رمضان #اسلامی_فقہ #فتاوی_ہندیہ #عید_الفطر

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں