سبق نمبر 31 خلاصۂ قرآن رکوع بہ رکوع


سبق نمبر 31: خلاصۂ قرآن رکوع بہ رکوع

سورہ حج کا خلاصہ

تعلق مع اللہ کی درستگی قیامت کے دن کی ہولناکیاں، ربِّ ذو الجلال کا غیظ و غضب، ملائکہ و انبیاء کرام علیہم السلام پر سراسیمگی کے آثار اور "نفسی نفسی" کا قیامت خیز منظر انسان کو بوکھلا کر رکھ دے گا، انسان ہوش و حواس کی نعمت و دولت سے محروم و مفلوج ہو جائے گا۔ اس دن عذابِ الٰہی بھڑک رہا ہوگا، جہنم کی دہکتی ہوئی آواز سنائی دے رہی ہوگی جسے سن کر نامی گرامی پہلوان بھی تھر تھر کانپنے لگیں گے۔ اس سے بچاؤ صرف اس شخص کے نصیب میں ہوگا جس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ اپنے تعلق کو صحیح اور مضبوط رکھا۔

رکوع نمبر 1 کا خلاصہ: اللہ تعالیٰ کی قدرتِ عظیمہ اللہ تعالیٰ جس طرح اس نظامِ عالم کے یومیہ انقلابات پر قادر ہے اور اس میں اسے کسی قسم کی دشواری، مشکل، تھکن، سستی اور اکتاہٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑتا، اسی طرح وہ ایک ایسا دن بپا کرنے پر بھی قادر ہے جس میں سارے نظامِ عالم میں انقلاب واقع ہو جائے اور دنیا تلپٹ ہو کر رہ جائے، اور ایسا ہونے والا ہے۔ چنانچہ قیامت کا لرزہ خیز منظر کچھ دور نہیں رہا جس دن عورتیں اپنے دودھ پیتے بچوں کو بھول جائیں گی، حاملہ وضع حمل کر دے گی اور اسے خبر بھی نہ ہوگی اور ساری انسانیت پر ایک بے ہوشی کا عالم طاری ہوگا۔ اس دن سے ڈر کر اس کی جواب دہی کے لئے تیاری کرنا چاہئے۔

رکوع نمبر 2 کا خلاصہ: توحید کے ایک کنارے پر بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ تعالیٰ سے تعلق جوڑ لیتے ہیں، لیکن جہاں کوئی آزمائش اور امتحان آیا، فوراً اس تعلق کو توڑ دیتے ہیں، پھر نہ دین کے رہتے ہیں اور نہ دنیا کے۔ ع نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم غیر اللہ کی پوجا کی طرف پھر لوٹ جاتے ہیں، حالانکہ زمین و آسمان کی تمام مخلوقات، شمس و قمر اور جبال و شجر ہر ایک چیز اللہ ہی کو سجدہ کرتی ہے، لیکن یہ بدبخت انسان ان چیزوں کو سجدہ کرتا ہے۔ تف اور تعجب ہے ایسی عقل پر۔

رکوع نمبر 3 کا خلاصہ: جزا و سزا جو لوگ اللہ تعالیٰ سے اپنا تعلق جوڑ لیتے ہیں اور اسی سے لو لگاتے ہیں، ان کے لئے باغات و أنهار، اثمار و أشجار، نور و حور، طعام و منام اور خدمتگار و غمگسار سب ہی کچھ ہے۔ یہ لوگ ہمیشہ ہمیشہ کی نعمتوں میں گھرے رہیں گے۔ اور جو لوگ درسگاہِ توحید سے خود بھی روکتے ہیں اور دوسروں کو بھی روکتے ہیں، حج اور عمرہ کے لئے زائرین کے راستے میں رکاوٹ بنتے ہیں، ان کے لئے عذابِ الیم تیار ہو چکا ہے، دسترخوان پر پہنچتے ہی چکھ لیں گے۔

رکوع نمبر 4 کا خلاصہ: تعظیمِ شعائر اللہ شعائرِ اسلامی مثلاً نماز، طواف، اذان اور صفا مروہ وغیرہ کی تعظیم ہر ایک پر واجب ہے۔ جو شخص ان چیزوں کی بے تعظیمی و گستاخی کرے وہ اعلیٰ درجے کا فاسق ہے۔ اسے اپنے اس عمل سے توبہ کرنی چاہئے، کیونکہ شعائر اللہ کی تعظیم اس بات کی خبر دیتی ہے کہ اس کے دل میں تقویٰ کی دولت موجود ہے جس کی وجہ سے وہ ان چیزوں کی تعظیم کرنے پر مجبور ہے۔

رکوع نمبر 5 کا خلاصہ: انفاق فی سبیل اللہ کی حوصلہ افزائی جو لوگ اللہ کے راستے میں صرف اس کی رضا کی خاطر مال خرچ کرتے ہیں، اپنی حلال اور طیب روزی دینے والے کے نام پر دیتے ہیں، دراصل وہ اپنے اس بچے جذبے، دلی تڑپ اور قلبی سوز پر مہرِ تصدیق ثبت کرتے ہیں جس نے انہیں اللہ کی راہ میں اپنا مال خرچ کرنے پر مجبور کیا۔ حالانکہ مال و دولت یا قربانی کے جانور اور ان کا خون و گوشت اللہ کو مطلوب نہیں۔ اللہ کو تو صرف تقویٰ مطلوب ہے، لیکن چونکہ وہ اس راہ سے حاصل ہوتا ہے، اس لئے یہ راہ بھی محمود ہے۔

رکوع نمبر 6 کا خلاصہ: مجاہدین کا جذبۂ جہاد جن لوگوں کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق قائم ہو چکا ہے وہ ہمیشہ سے "امن" کے حامی رہے ہیں۔ چنانچہ حضرت نوح و موسیٰ اور لوط و شعیب علیہم السلام کے واقعات روزِ روشن کی طرح واضح ہیں۔ لیکن جب انہیں امن سے رہنے ہی نہ دیا جائے، مملکتِ الٰہی میں بغاوت پھیلائی جائے، تو پھر یہ سربکف مجاہد بن جاتے ہیں جو ہر وقت اپنے دل میں شوقِ شہادت اور جذبۂ جہاد کو گرم کرتے رہتے ہیں۔ یاد رکھئے! مسلمان کبھی بے غیرت نہیں ہو سکتا اور نہ ہی اس کی غیرتِ ایمانی پر کبھی نیند طاری ہو سکتی ہے۔

رکوع نمبر 7 کا خلاصہ: باطل نے ہمیشہ سر اٹھایا ہے حق کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنا اپنا مشغلہ بنا لیتا ہے، تمنا یہ کرتا ہے کہ کسی طرح حق کی یہ صدا دب جائے اور دنیا پر پھر سے باطل کا راج ہو جائے، لیکن اللہ کو یہ منظور ہوتا ہے کہ دینِ حق کا بول بالا ہو۔ اللہ کا ارادہ پورا ہو جاتا ہے اور شیطان کی تمنا خاک میں مل جاتی ہے، البتہ جن کی عقلوں پر شیطانیت کا غلبہ ہو چکا ہو وہ اس کے بہکائے میں آ جاتے ہیں۔

رکوع نمبر 8 اور 9 کا خلاصہ: ضرورت و وسائلِ ہجرت جب باطل اس قدر غالب آ جائے کہ توحید کے عشق و محبت بھرے نغموں پر پابندی لگا دی جائے اور محبوب سے ملاقات ممنوع ہو جائے، تو پھر ایسے وطن کو خیر باد کہہ کر کسی ایسے ملک چلے جاؤ جہاں کم از کم اپنے محبوب سے باتیں تو کرسکو، راز و نیاز کی باتیں اسے سنا سکو۔ عشق و محبت اور خوف سے لبریز آنسو اس کی چوکھٹ پر بہانے میں تمہارے لئے کوئی رکاوٹ نہ ہو۔ باقی ضروریاتِ زندگی کا اللہ تعالیٰ خود کفیل و ضامن ہے۔ وہ اپنے دیوانوں کو کبھی بھوکا اور ننگا نہیں رہنے دے گا۔ بحری اور بری راستے ہر طرف سے ان کے گھوڑوں کی ٹاپوں تلے روندنے کے لئے کشادہ فرما دے گا، ہر طرف سے رزق کے دروازے وا کر دیئے جائیں گے اور ہر ضرورت کی تکمیل ہوگی۔

رکوع نمبر 10 کا خلاصہ: معبودانِ باطلہ کی بے بسی جو لوگ اللہ تعالیٰ سے رشتۂ تعلق توڑ کر غیر اللہ سے اپنے رشتے استوار کر لیتے ہیں وہ انتہائی سفیہانہ حرکت کا ارتکاب کر رہے ہیں، کیونکہ ان کے یہ بے حس و بے جان معبود سارے کے سارے مل کر بھی ایک مکھی تک تو بنا نہیں سکتے۔ اور مکھی بنانا تو دور کی بات، اگر مکھی ان سے کچھ چھین کر لے جائے تو یہ اسے بھی واپس نہیں لا سکتے۔ کس قدر بے بس ہیں عابد بھی اور معبود بھی! البتہ جن لوگوں نے اللہ سے تعلق جوڑے رکھا، وہ کامیابی کے راستے پر گامزن ہیں اور اللہ تعالیٰ انہیں فوز و فلاح سے سرفراز فرمائیں گے۔

"آج الحمدللہ سورة حج کی 10 رکوعات کا خلاصہ مکمل ہوا، کل ان شاء اللہ سورة مومنون شروع کرینگے۔"

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں