سبق نمبر 31 خلاصۂ قرآن رکوع بہ رکوع


 🌼

سبق نمبر 31

خلاصۂ قرآن رکوع بہ رکوع
سورہ حج کا خلاصہ

تعلق مع اللہ کی درستگی
قیامت کی ہولناکی: غیظ، "نفسی نفسی"، جہنم دہک—بوکھلا ہٹ، صرف اللہ سے مضبوط تعلق والا بچے گا۔

رکوع 1: اللہ کی قدرتِ عظیمہ

نظامِ عالم یومیہ انقلابات بغیر تھکن—قیامت بھی لائے گا: عورتیں بچوں بھولیں، حاملہ وضع حمل، بے ہوشی—تیاری کرو۔

رکوع 2: توحید کے کنارے پر

اللہ سے تعلق جوڑیں، آزمائش پر توڑ دیں—نہ خدا نہ صنم۔ مخلوقات سجدہ اللہ کو، انسان بتوں کو—تف!

رکوع 3: جزا و سزا

تعلق جوڑنے والوں: باغات/نہریں/نور/حور۔ روکنے والوں (حج/عمرہ رکاوٹ): عذابِ الیم۔

رکوع 4: تعظیمِ شعائر

نماز/طواف/اذان/صفا مروہ کی تعظیم—بے تعظیمی فاسق، تقویٰ کی نشانی۔

رکوع 5: انفاق کی حوصلہ افزائی

اللہ رضا پر حلال/طیب خرچ—تقویٰ مطلوب، قربانی/خون نہ، راہ محمودہ۔

رکوع 6: مجاہدین کا جذبہ

امن حامی (نوح/موسیٰ/لوط/شعیب)—بغاوت پر سربکف جہاد، غیرتِ ایمانی سدا بیدار۔

رکوع 7: باطل کا سر اٹھانا

حق کی صدا پر باطل بیدار، رکاوٹیں—اللہ کا ارادہ حق، شیطان خاک، بہکائے پھرے۔

رکوع 8-9: ہجرت کی ضرورت

توحید ممنوع? وطن چھوڑو، محبوب سے باتیں کرو—اللہ کفیلِ ضروریات، بر/بحر رزق وا۔

رکوع 10: معبودانِ باطلہ کی بے بسی

بت مکھی نہ بنا سکیں، چھین لے تو واپس نہ—عابد/معبود بے بس۔ اللہ والے فلاح۔

آج الحمدللہ سورة حج کی 10 رکوعات مکمل، کل ان شاء اللہ سورة مومنون۔
🌸🤲

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں