سبق نمبر 35: خلاصۂ قرآن رکوع بہ رکوع
سورۂ قصص کا خلاصہ
مستقبل کی پیشین گوئی اس سورت میں حضور ﷺ اور مسلمانوں کے مستقبل کی پیشین گوئی کی جا رہی ہے کہ جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام فرعون اور فرعونیوں پر غالب آئے اور فاتح و سرخرو ہوئے، اسی طرح حضور ﷺ بھی عنقریب کفار پر غالب آئیں گے اور فاتحانہ مگر عاجزانہ شان سے اپنے وطنِ مالوف میں داخل ہوں گے۔
رکوع نمبر ۱ کا خلاصہ: حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پیدائش اور بچپن جن مشکل اور پرخطر حالات میں حضرت موسیٰ علیہ السلام شکمِ مادر کی نرالی دنیا کو چھوڑ کر عالمِ ناسوت میں قدم رنجہ و رونق افروز ہوئے، تفسیر و تاریخ کا ایک ادنیٰ طالبِ علم بھی ان سے ناواقف نہیں۔ پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کا قتل ہونے سے بچ جانا، تابوت میں بند ہو کر دریا کی سیر کرنا، فرعون کے محل میں پہنچنا، آسیہ امَرَأَةُ فِرْعَون کا انہیں متبنّیٰ بنانا اور اُختِ موسیٰ کی عقلمندی سے اُمِّ موسیٰ کا دربارِ شاہی میں پہنچ کر ننھے موسیٰ کو دودھ پلانا—یہ سب وہ واقعات ہیں جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پیدائش اور بچپن تک کے مراحل سے تعلق رکھتے ہیں۔
رکوع نمبر ۲ کا خلاصہ: حضرت موسیٰ علیہ السلام کی جوانی بچپن اور لڑکپن کے زمانے کو عبور کر کے جب آپ جوانی کے طاقت و بہادری سے بھرپور مرحلے میں داخل ہوئے تو ایک دن بلا اجازت فرعون کے شاہی محل سے نکلے۔ اگر اجازت کے ساتھ جاتے تو شہزادگی کے اعزاز و اکرام کے ساتھ جاتے۔ راہ میں ایک قبطی اور اسرائیلی کی ہاتھا پائی ہو رہی تھی۔ حق کی حمایت کے لیے ہاتھ جو اٹھایا تو قبطی پانی مانگے بغیر ہی عدم آباد پہنچ گیا۔ اب ندامت و شرمندگی سے بارگاہِ ایزدی میں معافی کے لیے عرض گزار ہوئے، توبہ قبول ہوئی اور معافی عطا ہوئی۔ اگلے دن ایسی ہی صورتِ حال پیش آنے پر وہاں سے نکلنا پڑا۔
رکوع نمبر ۳ کا خلاصہ: احساسِ محکومی مصر سے روانہ ہو کر مدین پہنچنا اور حضرت شعیب علیہ السلام کے یہاں بکریاں چرانے کی خدمت سرانجام دینا—ان سب کے پیچھے دراصل ایک حکمت کارفرما تھی۔ انہیں اس واقعے سے یہ سبق دینا مقصود تھا کہ محکومی کی زندگی کیسے گزاری جاتی ہے، تاکہ بنی اسرائیل کی محکومی کا احساس ہو اور انہیں فرعون کی حبسِ بے جا سے آزاد کرانے کا داعیہ ان میں پوری قوت کے ساتھ پیدا ہو۔
رکوع نمبر ۴ کا خلاصہ: نبوت عطا ہونا دس سال تک محکومی کی زندگی گزارنے کے بعد جب حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی اہلیہ محترمہ اور حضرت شعیب علیہ السلام کی دخترِ نیک اختر کے ساتھ سوئے مصر روانہ ہوئے تو راستے میں وہ پیغامِ ازلی جو ان کے مقدر میں تھا، آ پہنچا اور وہ نبوت کی سعادت سے مشرف ہوئے۔ فرعونی دربار میں صدائے توحید بلند کرنے کا حکم ملا۔ بھائی کو نبی بنانے کی سفارش کی جو قبول ہوئی۔ اس کے بعد مصر پہنچ کر خدائی کے دعویدار کو سمجھایا اور وہ ان کی دعوت کو رد کر کے غرقاب ہوا۔
رکوع نمبر ۵ کا خلاصہ: دستورِ بنی اسرائیل جبت فرعون غرق ہو چکا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ایک "دستور" کی ضرورت محسوس ہوئی جس کی روشنی میں بنی اسرائیل کی مذہبی زندگی گزارنے کا جامع پروگرام سامنے آجائے۔ اس ضرورت کی تکمیل کے لیے انہیں تورات عطا فرمائی گئی۔
رکوع نمبر ۶ کا خلاصہ: ہدایت دینا اللہ کا کام ہے راہِ ہدایت کی طرف رہنمائی کرنا تو سرکار دو عالم ﷺ کی بعثت کا مقصدِ اصلی ہے، لیکن کسی کو ہدایت دینا نہ تو حضور ﷺ کے فرائض میں داخل ہے اور نہ آپ کی چاہت پر موقوف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی چاہت کے باوجود حضرت ابو طالب مشرف بہ اسلام نہ ہو سکے۔
رکوع نمبر ۷ کا خلاصہ: معبودانِ باطلہ کی بیزاری کفار، مشرکین اور معاندینِ حق جن معبودانِ باطلہ کو حاجت روا سمجھ کر پوج رہے ہیں، وہی معبود قیامت کے دن ان سے بیزاری ظاہر کریں گے۔ ان سے کہا جائے گا کہ اپنے ان معبودوں کو پکارو! وہ پکاریں گے تو سہی لیکن جواب ندارد — ذلیل، رسوا اور شرمندہ ہو کر رہ جائیں گے۔
رکوع نمبر ۸ کا خلاصہ: قارون اور اس کے ہم نوا کفارِ مکہ کا گھمنڈ توڑنے کے لیے قارون کی مثال بیان کی جارہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے اس قدر مال و دولت عطا فرمایا تھا کہ اس کے خزانے کی صرف چابیاں چالیس اونٹوں پر لاد کر لے جائی جاتی تھیں۔ لیکن اس نے اپنے مال و دولت کے غرور میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو نگاہِ تحقیر سے دیکھا اور تباہ و برباد ہو گیا۔ اسی طرح کفار بھی عنقریب سرنگوں ہوں گے۔
رکوع نمبر ۹ کا خلاصہ: عود الی المقصود سابقہ سورتوں کی طرح اس سورت کے آخر میں بھی اصل مقصد کی طرف رجوع کیا جا رہا ہے کہ جو لوگ تکبر و سرکشی اختیار کرتے ہیں اور راہِ حق میں رکاوٹیں ڈالتے ہیں، وہ تباہ ہو جاتے ہیں۔ اور جو آج بے بس و بے کس سمجھے جاتے ہیں، ان کی سرفرازی اور عزت اللہ تعالیٰ کے قبضے میں ہے۔ وہ انہیں جنت میں ایسی عزت و رفعت عطا فرمائے گا کہ وہ دنیا کے تمام غم بھول جائیں گے۔
"آج الحمدللہ سورة قصص کی 09 رکوعات کا خلاصہ مکمل ہوا، کل ان شاء اللہ سورة عنکبوت شروع کرینگے۔"

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں