🌸
سبق نمبر 35
خلاصۂ قرآن رکوع بہ رکوع
سورۂ قصص کا خلاصہ
مستقبل کی پیشین گوئی
ﷺ و مسلمانوں کی فتح: موسیٰ کی طرح فرعون/کفار پر غالب، فاتحانہ عاجزی سے وطن واپسی۔
رکوع 1: موسیٰ کی پیدائش/بچپن
مشکل حالات، قتل سے بچاؤ، تابوت/دریا، آسیہ متبنّیٰ، اُختِ موسیٰ دودھ پلایا۔
رکوع 2: موسیٰ کی جوانی
شاہی محل سے نکلے، قبطی/اسرائیلی لڑائی—قبطی مارا، توبہ، دوسرا دن فرار۔
رکوع 3: احساسِ محکومی
مصر→مدین، شعیب علیہ السلام بکریاں چرانا—محکومی سبق، بنی اسرائیل آزادی داعیہ۔
رکوع 4: نبوت عطا
دس سال بعد مصر، نبوت، ہارون نبی، فرعون سمجھایا—رد، غرق۔
رکوع 5: دستورِ بنی اسرائیل
فرعون غرق، تورات عطا—مذہبی پروگرام۔
رکوع 6: ہدایت اللہ کا کام
ہدایت ﷺ کا مقصد، مگر اللہ کا کام—ابو طالب مثال۔
رکوع 7: معبودانِ باطلہ بیزاری
قیامت بت بیزاری، پکار—جواب نہ، ذلیل/رسوا۔
رکوع 8: قارون کا غرور
خزانے (چابیاں 40 اونٹ)، موسیٰ تحقیر—تباہ۔ کفار سرنگوں۔
رکوع 9: عود الی المقصود
تکبر/رکاوٹ=تباہی۔ بے بسوں کی عزت اللہ کے ہاتھ—جنت، غم بھول۔
آج الحمدللہ سورة قصص کی 09 رکوعات مکمل، کل ان شاء اللہ سورة عنکبوت۔
🌼🌹🌸🤲♥️

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں