🔍 تحقیق: کیا روزے کی رائج عربی نیت حدیث سے ثابت ہے؟


🔍 تحقیق: کیا روزے کی رائج عربی نیت حدیث سے ثابت ہے؟

مرتب: ✍️ مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو (عفی عنہ)

سلسلہ: مسائلِ رمضان المبارک | پوسٹ نمبر: 05


عوامی حلقوں میں رائج سوال

عام طور پر روزے کے لیے ایک خاص عربی دعا پڑھی جاتی ہے:

"بِصَوْمِ غَدٍ نَوَيْتُ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ" عوام میں یہ سوال عام ہے کہ کیا یہ الفاظ نبی کریم ﷺ کی کسی حدیث سے ثابت ہیں؟


شرعی و تحقیقی جواب

اس مسئلے کی شرعی حقیقت درج ذیل نکات سے واضح ہوتی ہے:

1. نیت کا اصل مقام

نیت درحقیقت دل کے ارادے کا نام ہے۔ اگر آپ کے دل میں یہ بات موجود ہے کہ آپ کل کا روزہ رکھیں گے، تو آپ کی شرعی نیت مکمل ہو گئی۔

2. زبان سے الفاظ کی ادائیگی

زبان سے نیت کا اظہار کرنا مستحب (پسندیدہ) عمل ہے تاکہ دل کے ارادے کی تائید ہو جائے، لیکن:

  • مخصوص عربی الفاظ (جو اوپر ذکر ہوئے) کسی بھی حدیثِ مبارکہ سے ثابت نہیں ہیں۔

  • مستحب کی ادائیگی کے لیے کسی بھی زبان (اردو، پشتو، وغیرہ) میں یہ کہہ دینا کافی ہے کہ "میں اللہ کے لیے کل کا روزہ رکھ رہا ہوں" یا "آج میرا روزہ ہے"۔

3. سحری کھانا ہی نیت ہے

فقہائے کرام کے مطابق، رمضان کے مہینے میں سحری کے لیے اٹھنا اور سحری کھانا بذاتِ خود روزے کا ارادہ اور نیت ہے۔ جو شخص سحری کھاتا ہے، اس کا یہ عمل اس بات کی گواہی ہے کہ اس نے روزے کی نیت کر لی ہے۔


خلاصہ تحقیق

سوال میں مذکور مخصوص عربی الفاظ احادیثِ نبوی ﷺ میں منقول نہیں ہیں۔ نیت کے لیے سحری کھانا اور دل کا ارادہ ہی کافی ہے، زبان سے محض یاد دہانی کے لیے سادہ الفاظ کہے جا سکتے ہیں۔


📚 حوالہ و فتویٰ

  • ماخذ: دارالافتاء، جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

  • فتویٰ نمبر: 144008201026


📢 علمی و تحقیقی پلیٹ فارم

مزید مستند مسائل کے لیے ہمارے بلاگ اور فورم پر وزٹ کریں:

🌐 آن لائن بلاگ: www.alkamunia.com

🏛️ آئی ٹی درسگاہ فورم: www.itdarasgah.pk


🌐 ایس ای او (SEO) اور ٹیگز

  • Meta Description: کیا روزے کی دعا "بصوم غد نویت" حدیث سے ثابت ہے؟ جانئے روزے کی نیت کا صحیح شرعی طریقہ اور جامعہ بنوری ٹاؤن کا فتویٰ۔

  • Keywords: روزے کی نیت، رمضان کی دعا، بصوم غد نویت کی حقیقت، نیت کے مسائل، مفتی عرفان اللہ درویش، جامعہ بنوری ٹاؤن، Ramadan Niyyah Research.

  • Hashtags: #RamadanResearch #روزہ #نیت #مسائل_رمضان #تحقیق #اسلامی_فقہ #جامعہ_بنوری_ٹاؤن



کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں