⚠️ نامحرم سے تعلقات اور نکاح کے شرعی احکامات
مرتب: ✍️ مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو (عفی عنہ)
سلسلہ: مسائلِ فقہیہ (احکامِ نکاح) | پوسٹ نمبر: 13
نامحرم سے تعلقات کی شرعی حیثیت
شریعتِ مطہرہ میں نامحرم مرد اور عورت کے درمیان کسی بھی قسم کے غیر شرعی تعلقات، بے تکلفی، میل جول، بلا ضرورت بات چیت یا ہنسی مذاق کرنا سخت ناجائز اور حرام ہے۔
حکم: ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ ایسے فتنوں سے اجتناب کرے۔
توبہ: اگر خدانخواستہ کوئی اس گناہ میں مبتلا رہا ہو، تو اسے صدقِ دل سے اللہ کے حضور توبہ و استغفار کرنی چاہیے۔
کیا اس سے دوسری بہن حرام ہو جاتی ہے؟
اکثر لوگ اس الجھن کا شکار ہوتے ہیں کہ اگر کسی مرد کے کسی عورت سے ناجائز تعلقات رہے ہوں، تو کیا وہ اس کی بہن سے نکاح کر سکتا ہے؟
شرعی مسئلہ: کسی عورت سے محض غلط تعلقات یا ناجائز میل جول کی وجہ سے اس کی دوسری بہن اس مرد پر حرام نہیں ہوتی۔
حکمِ نکاح: توبہ و استغفار کے بعد، اس مرد کے لیے اس عورت کی دوسری بہن سے نکاح کرنا شرعاً جائز ہے (بشرطیکہ وہ عورت اس مرد کے نکاح یا عدت میں نہ ہو)۔
📚 مستند حوالہ جات
الدر المختار مع رد المحتار: جلد 3، صفحہ 34، طبع: سعید۔
فتویٰ جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی: 144206200050
🏛️ مَجْلِسُ الْفَتَاویٰ: علمی و تحقیقی پلیٹ فارم
دینی و معاشرتی مسائل کے مستند حل اور شرعی رہنمائی کے لیے ہمارے پلیٹ فارمز وزٹ کریں:
🌐 آن لائن بلاگ:
🌐 ایس ای او (SEO) اور ٹیگز
Meta Description: نامحرم سے ناجائز تعلقات کا گناہ اور نکاح پر اس کے اثرات۔ کیا کسی عورت سے تعلق کے بعد اس کی بہن سے شادی جائز ہے؟ جانئے مستند شرعی حکم۔
Keywords: نامحرم سے تعلقات، نکاح کے مسائل، بہن سے نکاح کا حکم، مفتی عرفان اللہ درویش، توبہ و استغفار، فقہ حنفی، Marriage Rules Islam.
Hashtags:
#احکام_نکاح #مسائل_فقہیہ #توبہ #اسلامی_تعلیمات #نکاح #مفتی_عرفان_اللہ #اصلاح_معاشرہ

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں