آج کا محاورہ: آنکھوں کے اندھے نام نین سکھ


 🙈🤥 تلفظ 🤥🙈

"آنکھوں کے اندھے نام نین سکھ"
(Āṅkhōṅ kē andhē nām nain sukh) 🗣️🎙️

🙈🤥 معانی و مفہوم 🤥🙈
یہ محاورہ اس شخص کے لیے استعمال ہوتا ہے جو:

  • ایسے اوصاف یا خوبیوں پر فخر کرے جن کا حقیقت میں کوئی وجود نہ ہو۔ 😏

  • جھوٹے دعوے کر کے اپنی تعریف کرے یا خود کو بڑھا چڑھا کر پیش کرے۔

  • بالکل بے بنیاد فخر یا جھوٹے واہ واہ کی تلاش میں ہو۔

🔹 سادہ الفاظ میں: جھوٹے فخر یا غیر موجود خوبیوں پر اکڑنا۔ 🤥

🙈🤥 موقع و محل 🤥🙈
یہ محاورہ ان مواقع پر بولا جاتا ہے جہاں:

  • کوئی شخص اپنی غیر موجود صلاحیتوں یا دولت پر بڑھکیں مارے۔

  • جھوٹے دعووں سے لوگوں کو متاثر کرنے کی کوشش کی جائے۔

  • طنزیہ انداز میں کسی کی جھوٹی شان کا مذاق اڑایا جائے۔

مثال:
"وہ کہتا ہے کہ اس کے پاس بڑی گاڑی ہے، لیکن حقیقت میں کچھ بھی نہیں۔ آنکھوں کے اندھے نام نین سکھ!" 😆
یا
"اس نے اپنی تعلیم کی جھوٹی ڈگریاں گنوائیں، یہ تو آنکھوں کے اندھے نام نین سکھ ہے!" 📜

🙈🤥 تاریخ و واقعہ 🤥🙈
یہ محاورہ ہندی-اردو بول چال سے نکلا ہے اور بہت پرانا ہے۔ "نین سکھ" سے مراد آنکھوں کا سکون یا خوشی، لیکن "اندھے" سے مطلب ہے کہ اندھا شخص آنکھوں کی خوشی پر فخر کر رہا ہے جو اس کے پاس ہے ہی نہیں۔ دیہی اور شہری دونوں ثقافتوں میں یہ جھوٹے فخر اور بے بنیاد دعووں کی تنقید کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اردو مزاح اور روزمرہ گفتگو میں یہ بہت مقبول ہے۔ 🕰️📜

🙈🤥 پُر لطف قصہ 🤥🙈
ایک گاؤں میں ایک شخص سب کو بتا رہا تھا کہ اس کے پاس شہر میں بڑا محل ہے اور کاروبار کروڑوں کا ہے۔
ایک بوڑھا دادا نے پوچھا: "بیٹا، کب دکھاؤ گے؟"
وہ بولا: "دادا جی، یہ آنکھوں کا سکون ہے، دیکھنے سے نہیں ملتا!"
دادا ہنس کر بولے: "ارے بیٹا، یہ تو آنکھوں کے اندھے نام نین سکھ ہے، محل تو دیکھنے سے ملتا ہے!" 😅
پوری بستی ہنس پڑی، اور وہ شخص شرمندہ ہو کر بولا: "دادا جی، اب سے سچ ہی بولوں گا!" 😂

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں