📁 ITDCESM - ہفتہ 9: آپ کا اپنا ذاتی ٹول کٹ بنانا (BYOL - Build Your Own Library)
📅 تاریخ نشر: 28 فروری، 2026 (جمعہ، صبح 9 بجے)
⏱️ اندازہ شدہ مطالعہ کا وقت: 45 منٹ (پریکٹس کے ساتھ 70 منٹ)
🔍 پچھلے ہفتے کے چیلنج کا جواب
سوال تھا:
QUERY فنکشن کے علاوہ کوئی سادہ طریقہ بتائیں جس سے ڈیش بورڈ دیکھنے والا شخص اپنی مرضی کا شعبہ منتخب کر کے صرف وہی ڈیٹا دیکھ سکے؟
شیٹس میں، اگر چاہیں کہ شیٹ کھولتے ہی ہر شخص کو اس کا اپنا شعبہ فوراً نظر آجائے، تو اس کے لیے کس خاص معلومات کا استعمال کیا جا سکتا ہے؟
جواب:
سادہ طریقہ: فلٹر (Filter) یا سلائسرز (Slicers)۔ آپ ڈیٹا ٹیبل یا پائیوٹ ٹیبل پر سلائسر لگا سکتے ہیں جو "شعبہ" کے لحاظ سے فلٹر کرے۔ یہ ایک ڈراپ ڈاؤن یا بٹن ہوتا ہے جس پر کلک کر کے احمد "پروگرامنگ" منتخب کر سکتا ہے اور صرف اسی کا ڈیٹا دیکھ سکتا ہے۔ یہ QUERY سے زیادہ صارف دوست اور بصری ہے۔
شیٹس کا خصوصی حل: Session.getActiveUser().getEmail()۔
آپ Apps Script میں اس فنکشن کے ذریعے موجودہ لاگ ان صارف کا ای میل ایڈریس حاصل کر سکتے ہیں۔ پھر آپ ایک لک اپ ٹیبل میں دیکھ سکتے ہیں کہ کس ای میل سے کون سا شعبہ متعلق ہے۔ اس کے بعد اس معلومات کا استعمال کرتے ہوئے خودکار طور پر فلٹر لگا سکتے ہیں یا QUERY میں شرطیں شامل کر سکتے ہیں۔ اس طرح ہر شخص کو شیٹ کھولتے ہی اس کا متعلقہ ڈیٹا نظر آئے گا۔
خلاصہ: فلٹر اور سلائسرز انٹرایکٹو ڈیش بورڈز کا ستون ہیں۔ صارف کی شناخت (getActiveUser) شیٹس میں ذاتی نوعیت کے تجربے (Personalization) کے لیے طاقتور کلید ہے۔
🎯 اس ہفتے کا مقصد
اب تک سیکھی ہوئی تمام مہارتوں کو اپنے روزمرہ کے کاموں کے لیے ایک ذاتی، دوبارہ استعمال کے قابل ٹول کٹ میں تبدیل کرنا۔ آپ سیکھیں گے کہ اپنے بنائے ہوئے چھوٹے چھوٹے حل کو کیسے محفوظ، منظم اور آسانی سے استعمال کے لیے تیار کیا جائے تاکہ مستقبل میں آپ ایک طاقتور اور خودکفیل صارف بن سکیں۔
📖 بنیادی تصورات: علم سے حقیقی طاقت تک
ٹیمپلیٹس بمقابلہ ٹول کٹ:
ٹیمپلیٹ: ایک خانہ دار ڈھانچہ جس میں صرف ڈیٹا بھرنا ہوتا ہے۔
ٹول کٹ: پہلے سے تیار کردہ، آزمودہ مائیکرو ٹولز اور فارمولوں کا مجموعہ جو آپ مختلف پروجیکٹس میں حسب ضرورت استعمال کر سکتے ہیں۔ یہ آپ کی ذاتی لائبریری ہے۔
سینڈ باکس فائل (Sandbox File): ایک تجربہ گاہ کی فائل جہاں آپ نئے آئیڈیاز، پیچیدہ فارمولے یا میکرو کو بغیر کسی خوف کے آزما سکتے ہیں۔ یہ آپ کے بنیادی کام کی فائلز سے بالکل الگ تھلگ ہوتی ہے۔
دستاویزکاری (Documentation): اپنے بنائے ہوئے ٹولز کے لیے چھوٹی سی ہدایت نامہ لکھنا۔ اس میں یہ بتانا ضروری ہے کہ ٹول کیا کرتا ہے، اسے کیسے استعمال کرنا ہے، اور کن صورتوں میں استعمال کیا جائے۔
🛠️ عملی مشق: اپنی لائبریری کی بنیاد رکھنا
مرحلہ 1: ایک "ماسٹر ٹول کٹ" فائل بنانا
📍 ایکسل اور شیٹس میں (عملی طریقہ):
ایک نئی، خالی فائل بنائیں اور اس کا نام رکھیں: [آپ کا نام]_ITDCESM_Toolkit.xlsx یا [آپ کا نام]_ITDCESM_Toolkit (شیٹس میں)۔
اس فائل میں مختلف شیٹس/ٹیبز بنائیں، ہر ایک ایک مخصوص قسم کے ٹولز کے لیے:
Sheet1:
📊 فارمولے(Formulas) - یہاں مفید فارمولے محفوظ کریں۔Sheet2:
⚡ میکروز/سکرپٹس(Macros/Scripts) - میکرو کوڈ یا Apps Script فنکشنز کے نام اور مختصر تفصیل۔Sheet3:
🛠️ عملی ٹیمپلیٹس(Mini-Templates) - چھوٹے چھوٹے کاموں کے لیے تیار ڈھانچے (مثلاً مہینے کا خرچہ، پراجیکٹ ٹریکر)۔Sheet4:
📝 نوٹس(Notes) - اہم چیزوں کی یادداشت اور لنکس۔
مرحلہ 2: پہلے تین ضروری ٹولز شامل کرنا
📍 ٹول 1: "خودکار تاریخ اور وقت اسٹیمپ" (ایکسل میکرو / شیٹس اسکرپٹ)
مقصد: جب بھی کسی سیل میں تبدیلی کی جائے، اس کے ساتھ والے سیل میں موجودہ تاریخ اور وقت خود بخود درج ہو جائے۔
ایکسل میں (VBA): اپنی ٹول کٹ فائل میں ڈیولپر ٹیب > Visual Basic کھولیں، نیا ماڈیول بنائیں اور یہ کوڈ پیسٹ کریں۔ پھر اس شیٹ کا کوڈ ونڈو کھولیں اور یہ کوڈ ڈالیں (یہ ایک سادہ ورژن ہے مکمل ٹرگر کے بغیر):
Sub AddTimestamp() ActiveCell.Offset(0, 1).Value = Now() End Subاس میکرو کو ایک شارٹ کٹ (
Ctrl+Shift+T) دے کر اپنے میکروز شیٹ میں شامل کریں۔شیٹس میں (Apps Script): Apps Script میں یہ فنکشن بنائیں اور اپنے سکرپٹس شیٹ میں اس کا نام نوٹ کر لیں:
function addTimestamp() { var sheet = SpreadsheetApp.getActiveSpreadsheet().getActiveSheet(); var cell = sheet.getActiveCell(); cell.offset(0, 1).setValue(new Date()); }
📍 ٹول 2: "ڈیٹا کی صفائی کا جادوئی فارمولا" (ایکسل اور شیٹس)
مقصد: ایک سیل سے فالتو سپیسز، غیر ضروری لائن بریکس، اور غیر معیاری حروف صاف کرنا۔
فارمولا (ایکسل): اپنے فارمولے شیٹ میں لکھیں:
=TRIM(CLEAN(SUBSTITUTE(A1, CHAR(160), " ")))
وضاحت: یہ A1 سیل کا متن صاف کر کے دیتا ہے۔فارمولا (شیٹس): فارمولے شیٹ میں لکھیں:
=TRIM(CLEAN(REGEXREPLACE(A1, "\s+", " ")))
📍 ٹول 3: "پیشگی خرچہ کیلکولیٹر" (مینی ٹیمپلیٹ)
مقصد: ماہانہ آمدنی کے مطابق قابلِ خرچ رقم کا تخمینہ لگانا۔
ترتیب: اپنی "مینی ٹیمپلیٹس" شیٹ میں ایک چھوٹا سا ٹیبل بنائیں:
آئٹم فیصد رقم ماہانہ آمدنی 100,000 بچت (20%) 20% =B3*B2 ضروریات (50%) 50% =B3*B4 تفریح/دیگر (30%) 30% =B3*B5
مرحلہ 3: اپنے ٹولز کی دستاویزکاری
📍 ایکسل اور شیٹس میں (عملی طریقہ):
اپنی "نوٹس" شیٹ میں یا ہر ٹول کے ساتھ ہی ایک چھوٹا خانہ بنا کر یہ معلومات لکھیں:
ٹول نام: خودکار تاریخ اسٹیمپ
کیا کرتا ہے؟: منتخب سیل کے ساتھ والے کالم میں موجودہ تاریخ-وقت درج کرتا ہے۔
استعمال کب کریں: جب آپ کو کسی ڈیٹا انٹری کی ٹائم سٹیمپ ریکارڈ کرنی ہو۔
ہدایات (ایکسل): 1. ڈیٹا والے سیل پر کلک کریں۔ 2.
Ctrl+Shift+Tدبائیں۔ہدایات (شیٹس): 1. ڈیٹا والے سیل پر کلک کریں۔ 2. ایکسٹینشنز > Apps Script > addTimestamp چلائیں۔
💼 اسائنمنٹ: آپ کی ذاتی ITDCESM ماسٹر لائبریری
📋 مسئلہ کا بیان: آپ کے پاس اب تک سیکھے ہوئے متعدد آئیڈیاز اور ٹولز ہیں جو مختلف جگہوں پر بکھرے ہوئے ہیں۔ آپ کو ایک منظم، قابل تلاش اور قابلِ اشتراک ذاتی لائبریری بنانی ہے۔
✅ حتمی نتیجہ: ایک مکمل ٹول کٹ فائل جس میں کم از کم شامل ہوں:
5 مفید فارمولے (مثلاً صفائی، تلاش، تاریخ کے حساب سے)۔
2 میکرو/اسکرپٹ (مثلاً تاریخ اسٹیمپ، خودکار فارمیٹنگ)۔
3 مینی ٹیمپلیٹس (مثلاً بجٹ، ٹاسک لسٹ، سادہ ڈیٹا انٹری فارم)۔
صاف ستھری دستاویزکاری ہر ٹول کے لیے۔
📥 ٹیمپلیٹ ڈاؤن لوڈ / کاپی کریں:
(اس ہفتے کا ٹیمپلیٹ درحقیقت ایک خالی لائبریری ڈھانچہ ہے)
[ایکسل ٹول کٹ ڈھانچہ ڈاؤن لوڈ کریں (ITDCESM_Week9_Toolkit_Template.xlsx)]
[شیٹس ٹول کٹ ڈھانچہ کاپی کریں]
⚡ ہفتہ وار ٹرک: "نمونے کے ڈیٹا" جنریٹر اور "فارمولا ایوالوایٹر"
نمونے کے ڈیٹا کی ضرورت: اکثر فارمولا ٹیسٹ کرنے یا ڈیش بورڈ ڈیزائن کرنے کے لیے بے ترتیب ڈیٹا درکار ہوتا ہے۔
ایکسل:
=RANDBETWEEN(100, 1000)بے ترتیب عدد دیتا ہے۔=INDEX({"علی","سارہ","احمد"}, RANDBETWEEN(1,3))بے ترتیب نام دیتا ہے۔شیٹس:
=RANDBETWEEN(100, 1000)اور=CHOOSE(RANDBETWEEN(1,3), "علی","سارہ","احمد")۔
فارمولا ایوالوایٹر (ایکسل): پیچیدہ فارمولے کے ہر حصے کو الگ الگ دیکھنے کے لیے فارمولا بار میں فارمولا منتخب کر کے F9 دبائیں۔ یہ اس حصے کا نتیجہ دکھا دے گا۔ Esc دبا کر واپس آ جائیں۔
✅ ہفتہ 9 کی سیلف چیک لسٹ
لائبریری ڈھانچہ: کیا میں نے ایک منظم ٹول کٹ فائل بنائی ہے جس میں مختلف اقسام کے ٹولز کے لیے الگ شیٹس ہیں؟
ٹولز کا مجموعہ: کیا میں نے اپنی لائبریری میں کم از کم تین مختلف اقسام (فارمولے، اسکرپٹ/میکرو، مینی ٹیمپلیٹ) کے ٹول شامل کیے ہیں؟
دستاویزکاری: کیا میں نے اپنے بنائے ہوئے ہر ٹول کے بارے میں مختصر، واضح ہدایات لکھی ہیں کہ وہ کیا کرتا ہے اور کیسے استعمال ہوتا ہے؟
سینڈ باکس: کیا میں نئے آئیڈیاز کو آزمانے اور پرانے ٹولز کو بہتر بنانے کے لیے ایک الگ "تجربہ گاہ" فائل یا علاقہ استعمال کرنے کا عادی بن رہا ہوں؟
📎 اضافی وسائل
[اختیاری ویڈیو لنک]: "How to Create Your Own Excel Template Library"
[اختیاری ویڈیو لنک]: "Documenting Your Code in Google Apps Script"
❓ ہفتہ وار چیلنج سوال
آپ نے اپنی ذاتی ٹول کٹ فائل بنائی ہے جس میں کئی مفید میکروز اور فارمولے ہیں۔
آپ اپنے دفتری ساتھی کو اپنی یہ ایکسل ٹول کٹ استعمال کرنے کے لیے دینا چاہتے ہیں، تاکہ وہ بھی آپ کے ٹولز سے فائدہ اٹھا سکے۔ اس کے لیے آپ کو کن دو اہم کاموں پر توجہ دینی ہوگی تاکہ آپ کا ساتھی آسانی سے آپ کے ٹولز استعمال کر سکے؟ (ہنٹ: ایک کا تعلق فائل کی قسم سے ہے، دوسرے کا تعلق دستاویزکاری اور انسٹالیشن سے ہے)۔
اگر آپ گوگل شیٹس ٹول کٹ بنا رہے ہیں، اور چاہتے ہیں کہ آپ کا ساتھی اسے اپنی ڈرائیو میں کاپی کر کے اپنے حساب سے استعمال کرے، تو آپ کو شیٹس میں کس خصوصی شیئرنگ آپشن کا استعمال کرنا ہوگا؟
(جواب اگلے ہفتے شروع میں دیا جائے گا!)

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں