سبق نمبر ۲۰: جنت کسی کا قومی وطن نہیں اور جہنم کسی کا قومی جیل خانہ نہیں


 

سبق نمبر ۲۰: جنت کسی کا قومی وطن نہیں اور جہنم کسی کا قومی جیل خانہ نہیں

قرآنی آیات (سورۃ المائدہ: ۱۸-۱۹)

وَقَالَتِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَىٰ نَحْنُ أَبْنَاءُ اللَّهِ وَأَحِبَّاؤُهُ ۚ قُلْ فَلِمَ يُعَذِّبُكُمْ بِذُنُوبِكُمْ ۖ بَلْ أَنْتُمْ بَشَرٌ مِمَّنْ خَلَقَ ۚ يَغْفِرُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ ۚ وَلِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ۖ وَإِلَيْهِ الْمَصِيرُ ۝ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ قَدْ جَاءَكُمْ رَسُولُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ عَلَىٰ فَتْرَةٍ مِنَ الرُّسُلِ أَنْ تَقُولُوا مَا جَاءَنَا مِنْ بَشِيرٍ وَلَا نَذِيرٍ ۖ فَقَدْ جَاءَكُمْ بَشِيرٌ وَنَذِيرٌ ۚ وَاللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ۝

اردو ترجمہ

اور یہود و نصاریٰ کہتے ہیں کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے محبوب ہیں۔ تم کہو کہ پھر وہ تمہارے گناہوں پر تم کو سزا کیوں دیتا ہے؟ نہیں! بلکہ تم بھی اس کی پیدا کی ہوئی مخلوق میں سے ایک انسان ہو۔ وہ جس کو چاہے گا بخشے گا اور جس کو چاہے گا عذاب دے گا۔ اور اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، اور اُسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

اے اہلِ کتاب! تمہارے پاس ہمارا رسول آیا ہے، وہ تم کو صاف صاف بتا رہا ہے، رسولوں کے ایک وقفے کے بعد۔ تاکہ تم یہ نہ کہو کہ ہمارے پاس کوئی خوش خبری دینے والا اور ڈر سنانے والا نہیں آیا۔ پس اب تمہارے پاس خوش خبری دینے والا اور ڈرانے والا آ گیا ہے، اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔


تشریح

جو قوم کتاب اور پیغمبر کی حامل بنائی جائے اور وہ اس کو ماننے کا ثبوت دے دے تو اس پر اللہ کی بہت سی نعمتیں نازل ہوتی ہیں: مخالفین کے مقابلے میں خصوصی نصرت، زمین پر اقتدار، مغفرت اور جنت کا وعدہ وغیرہ۔

قوم کے ابتدائی لوگوں کے لیے یہ ان کے عمل کا بدلہ ہوتا ہے۔ انھوں نے اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کیا، اس لیے اللہ نے ان پر اپنی نعمتیں برسائیں۔

مگر بعد کی نسلوں میں صورت حال بدل جاتی ہے، اب ان کے لیے سارا معاملہ قومی معاملہ بن جاتا ہے۔ اولین لوگوں کو جو چیز عمل کے سبب سے ملی تھی، بعد کے لوگ قومی اور نسلی تعلق کی بنا پر اپنے آپ کو اُس کا مستحق سمجھ لیتے ہیں۔ وہ یقین کر لیتے ہیں کہ وہ اللہ کے خاص لوگ ہیں اور وہ خواہ کچھ بھی کریں، اللہ کی نعمتیں ان کو مل کر رہیں گی۔

حاملِ کتاب قوموں کو اس غلط فہمی سے نکالنے کی خاطر اللہ نے اُن کے لیے یہ خصوصی قاعدہ مقرر کیا ہے کہ ان کی جزا کا آغاز اسی دنیا سے ہو جاتا ہے۔ ایسے لوگ اسی موجودہ دنیا میں دیکھ سکتے ہیں کہ آنے والی دنیا میں ان کا اللہ ان کے ساتھ کیا معاملہ کرنے والا ہے۔ اگر وہ دنیا میں اپنے دشمنوں پر غالب آ رہے ہوں تو وہ اللہ کے مقبول گروہ ہیں، اور اگر ان کے دشمن ان پر غالب آ جائیں تو وہ اللہ کے نامقبول گروہ ہیں۔

کوئی حاملِ کتاب گروہ، کثرتِ تعداد کے باوجود اگر دنیا میں مغلوب اور ذلیل ہو رہے ہوں، تو اُن کو ہرگز یہ امید نہ رکھنی چاہیے کہ آخرت میں وہ سرفراز اور باعزت رہیں گے۔

کسی قوم کو بحیثیت قوم کے اللہ کا محبوب سمجھنا سراسر باطل خیال ہے۔ اللہ کے یہاں فرد فرد کا حساب ہوتا ہے، قوم و ملت کا نہیں۔ ہر آدمی جو کچھ کرے گا، اسی کے مطابق وہ اللہ کے یہاں بدلہ پائے گا۔ ہر آدمی اللہ کی نظر میں بس ایک انسان ہے، خواہ وہ کسی بھی قوم سے تعلق رکھتا ہو۔

ہر آدمی کے مستقبل کا فیصلہ اس بنیاد پر کیا جائے گا کہ امتحان کی اس دنیا میں اس نے کس قسم کی کارکردگی کا ثبوت دیا ہے۔

جنت کسی کا قومی وطن نہیں اور جہنم کسی کا قومی جیل خانہ نہیں۔ اللہ کے فیصلے کا طریقہ یہ ہے کہ وہ اپنی طرف سے ایسے افراد اُٹھاتا ہے جو لوگوں کو زندگی کی حقیقت سے آگاہ کرتے ہیں، ان کو جہنم سے ڈراتے ہیں اور جنت کی خوش خبری دیتے ہیں۔ خدا کے اس "بشیر و نذیر" کا ساتھ دے کر آدمی خدا کو پاتا ہے، نہ کہ کسی اور طریقے سے۔

یہ سبق قومی برتری کی غلط فہمی کو بے نقاب کرتا ہے۔ سوچنے پر مجبور کرنے والا! 🤲

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں