سبق نمبر ۱۷: آخرت کی جنت اُسی کے لئے ہے جو اللہ کی خاطر دنیا کی جنت سے محروم ہو گیا ہو


 

سبق نمبر ۱۷: آخرت کی جنت اُسی کے لئے ہے جو اللہ کی خاطر دنیا کی جنت سے محروم ہو گیا ہو

قرآنی آیات (سورۃ البقرۃ: ۱۵۳-۱۵۷)

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ ۚ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ ۝ وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتٌ ۚ بَلْ أَحْيَاءٌ وَلَٰكِنْ لَا تَشْعُرُونَ ۝ وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ ۗ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ ۝ الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ۝ أُولَٰئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ ۖ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ ۝

اردو ترجمہ

اے ایمان والو! صبر اور نماز سے مدد حاصل کرو، یقیناً اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں اُن کو مردہ مت کہو بلکہ وہ زندہ ہیں مگر تم کو خبر نہیں۔

اور ہم ضرور تم کو آزمائیں گے، کچھ ڈر اور بھوک سے اور مالوں، جانوں اور پھلوں کی کمی سے۔

اور ثابت قدم رہنے والوں کو خوشخبری دے دو۔

جن کا حال یہ ہے کہ جب ان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ کہتے ہیں: ہم اللہ کے ہیں اور ہم اُسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔

یہی لوگ ہیں جن کے اوپر ان کے رب کی شاباشیاں ہیں اور رحمت ہے، اور یہی لوگ ہیں جو راہ پر ہیں۔


تشریح

اللہ تعالیٰ ان آیات میں مؤمنوں کو زندگی کے اصل رویے اور کامیابی کے بنیادی اصول سکھا رہا ہے۔

پہلا حکم یہ دیا کہ:

"صبر اور نماز سے مدد لو، یقیناً اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے"

یعنی جب زندگی میں دکھ، تکلیف، آزمائش، یا محرومی آئے تو گھبراؤ نہیں، اللہ سے مدد مانگو۔ لیکن مدد صرف زبان سے نہیں مانگنی، بلکہ صبر (یعنی ضبط، برداشت اور ثابت قدمی) اور نماز (یعنی عملی طور پر اللہ سے تعلق) کے ذریعے مانگنی ہے۔ کیونکہ جو لوگ سچے دل سے صبر کرتے ہیں، اللہ خود ان کے ساتھ ہوتا ہے۔

اس کے بعد ایک بڑی غلط فہمی کی اصلاح کی گئی کہ:

"جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں، انہیں مردہ نہ کہو، وہ زندہ ہیں، لیکن تم سمجھ نہیں سکتے"

یعنی اللہ کی راہ میں قربانی دینے والے صرف ظاہری طور پر دنیا سے جاتے ہیں، حقیقت میں وہ اللہ کے ہاں زندہ ہوتے ہیں، ان کو رزق دیا جاتا ہے، عزت دی جاتی ہے، ان کا مقام بلند ہوتا ہے — لیکن دنیا والے اس روحانی زندگی کو سمجھ نہیں پاتے۔

پھر اللہ تعالیٰ نے اعلان کیا:

"ہم ضرور تمہیں آزمائیں گے"

یہ دنیا امتحان گاہ ہے۔ یہاں خوف آئے گا، بھوک لگے گی، مال، جان اور پیداوار کی کمی ہوگی — یعنی تمہاری زندگی میں ہر طرح کی آزمائش آ سکتی ہے۔ لیکن جو لوگ ان حالات میں ہمت نہ ہاریں، زبان سے شکوہ نہ کریں، اور دل سے اللہ کو نہ چھوڑیں — وہی کامیاب ہیں۔

اللہ تعالیٰ ان صابر بندوں کی ایک خاص پہچان بھی بتاتا ہے:

"جب انہیں کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ کہتے ہیں: ہم اللہ کے ہیں اور ہم اُسی کی طرف لوٹنے والے ہیں"

یہ کلمات دکھ اور صدمے میں صرف الفاظ نہیں ہوتے، بلکہ بندہ ان کے ذریعے اپنا پورا وجود اللہ کے سپرد کر دیتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ جو کچھ ملا، اللہ کا دیا تھا، اور جو چلا گیا، وہ بھی اللہ ہی کا تھا۔ ہم تو خود بھی اللہ کے ہیں، اور ایک دن اُسی کے پاس لوٹ کر جانا ہے۔

آخر میں اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے لیے خوشخبری سناتا ہے:

"یہی لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی طرف سے درود و سلام (رحمتیں) ہیں، یہی ہدایت یافتہ ہیں"

یعنی یہ وہ خوش نصیب بندے ہیں جن پر اللہ کی خاص نظرِ کرم ہوتی ہے۔ ان پر اللہ کی رحمت نازل ہوتی ہے، ان کا راستہ درست ہوتا ہے، اور یہی لوگ درحقیقت فلاح یافتہ ہوتے ہیں۔

یہ سبق صبر، قربانی اور اللہ پر بھروسے کی خوبصورت تلقین ہے۔ دل کو سکون دینے والا! 🤲

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں