سبق نمبر ۱۳: منافق اپنے دنیا پرستانہ طریقوں کی وجہ سے اپنے آس پاس دنیا کا ساز و سامان جمع کر لیتا ہے


 

سبق نمبر ۱۳: منافق اپنے دنیا پرستانہ طریقوں کی وجہ سے اپنے آس پاس دنیا کا ساز و سامان جمع کر لیتا ہے

قرآنی آیت (سورۃ التوبہ: آیت ۸۵)

وَلَا تُعْجِبْكَ أَمْوَالُهُمْ وَأَوْلَادُهُمْ ۚ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ أَن يُعَذِّبَهُم بِهَا فِي الدُّنْيَا وَتَزْهَقَ أَنفُسُهُمْ وَهُمْ كَافِرُونَ ۝

اردو ترجمہ

اور ان کے مال اور ان کی اولاد تم کو تعجب میں نہ ڈالیں۔ اللہ تو بس یہ چاہتا ہے کہ ان کے ذریعہ سے ان کو دنیا میں عذاب دے اور ان کی جانیں اس حال میں نکلیں کہ وہ منکر ہوں۔


تشریح

منافق اپنے دنیا پرستانہ طریقوں کی وجہ سے اپنے آس پاس دنیا کا ساز و سامان جمع کر لیتا ہے۔

  • اس کے ساتھ مددگاروں کی بھیڑ دکھائی دیتی ہے
  • یہ چیزیں سطحی قسم کے لوگوں کے لیے مرعوب کن بن جاتی ہیں

لیکن گہری نظر سے دیکھنے والوں کے لیے اس کی ظاہری چمک دمک قابلِ رشک نہیں بلکہ قابلِ عبرت ہے۔

کیونکہ یہ چیزیں جن لوگوں کے پاس جمع ہوں، وہ ان کے لیے اللہ کی طرف بڑھنے میں رکاوٹ بن جاتی ہیں۔

  • اللہ کا محبوب بندہ وہ ہے جو کسی تحفظ اور کسی مصلحت کے بغیر اللہ کی طرف بڑھے
  • مگر جو لوگ دنیا کی رونقوں میں گھرے ہوئے ہوں، وہ ان سے اوپر نہیں اُٹھ پاتے

جب بھی وہ اللہ کی طرف بڑھنا چاہتے ہیں، ان کو ایسا نظر آتا ہے کہ وہ اپنا سب کچھ کھو دیں گے۔ وہ اس قربانی کی ہمت نہیں کر پاتے، اس لیے وہ اللہ کے وفادار بھی نہیں ہوتے۔

ان کی دنیوی ترقی کی قیمت

ان کی دنیوی ترقیاں ان کو اس بربادی کی قیمت پر ملتی ہیں کہ آخرت میں وہ بالکل محروم ہو کر حاضر ہوں گے۔

ان کی اندرونی کیفیت

ایسے لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ:

  • جب اللہ کا دین کہتا ہے کہ اپنی انا کو دفن کر کے اللہ کو پکڑو، تو وہ اپنی بڑھی ہوئی انا کو دفن نہیں کر پاتے
  • جب اللہ کا دین ان سے شہرت اور مقبولیت سے خالی راستوں پر چلنے کے لیے کہتا ہے تو وہ اپنی شہرت و مقبولیت کو سنبھالنے کی فکر میں پیچھے رہ جاتے ہیں
  • جب اللہ کے دین کی جدوجہد زندگی اور مال کی قربانی مانگتی ہے تو ان کو اپنی زندگی اور مال اتنے قیمتی نظر آتے ہیں کہ وہ اس کو غیر دنیوی مقصد کے لیے قربان نہیں کر سکتے

یہ کیفیت بڑھتے بڑھتے یہاں تک پہنچ جاتی ہے کہ:

  • ان کے دل کی حساسیت ختم ہو جاتی ہے
  • وہ بے حسی کا شکار ہو کر اس تڑپ کو کھو دیتے ہیں جو آدمی کو اللہ کی طرف کھینچے اور غیرِ خدا پر راضی نہ ہونے دے

اس کے برعکس مخلص مومنین

جو بچے اہلِ ایمان ہیں وہ سب سے بڑا مقام اللہ کو دیے ہوتے ہیں، اس لیے دوسری ہر چیز انہیں اللہ کے مقابلے میں بے قیمت نظر آتی ہے۔

وہ ہر قربانی دے کر اللہ کی طرف بڑھنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے اللہ کی رحمتیں اور نعمتیں ہیں۔

ان کے اور اللہ کی ابدی جنت کے درمیان موت کے سوا کوئی چیز حائل نہیں۔

یہ سبق دنیا کی چکاچوند اور آخرت کی حقیقت کے درمیان فرق کو واضح کرتا ہے۔ بہت گہرا اور سوچنے پر مجبور کرنے والا! 🌿

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں