سبق نمبر ۱۰: اکثر سماجی خرابیوں کی جڑ بدگمانی ہے
قرآنی آیت (سورۃ الحجرات: آیت ۱۲)
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا يَغْتَبْ بَعْضُكُم بَعْضًا ۚ أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَن يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ تَوَّابٌ رَّحِيمٌ
اردو ترجمہ
اے ایمان والو! بہت سے گمانوں سے بچو، کیونکہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں، اور تجسس نہ کیا کرو، اور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے۔ کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرے گا کہ وہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے؟ تمہیں تو یہ ناگوار معلوم ہوگا۔ اور اللہ سے ڈرو، بے شک اللہ توبہ قبول کرنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔
تشریح
ایک آدمی کسی شخص کے بارے میں بدگمان ہو جائے تو:
- اُس کی ہر بات اس کو غلط معلوم ہونے لگتی ہے
- اس کے بارے میں اس کا ذہن منفی رخ پر چل پڑتا ہے
- اس کی خوبیوں سے زیادہ وہ اس کے عیوب تلاش کرنے لگتا ہے
- اس کی برائیوں کو بیان کرکے اسے بے عزت کرنا اس کا محبوب مشغلہ بن جاتا ہے
اکثر سماجی خرابیوں کی جڑ بدگمانی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ آدمی اس معاملے میں چوکنا رہے۔ وہ بدگمانی کو اپنے ذہن میں داخل نہ ہونے دے۔
اگر آپ کو کسی سے بدگمانی ہو جائے تو آپ اُس سے مل کر گفتگو کر سکتے ہیں، مگر یہ سخت غیر اخلاقی فعل ہے کہ کسی کی غیر موجودگی میں اس کو برا کہا جائے جب کہ وہ اپنی صفائی کے لیے وہاں موجود نہ ہو۔
وقتی طور پر کبھی آدمی سے اس قسم کی غلطیاں ہو سکتی ہیں، لیکن اگر وہ اللہ سے ڈرنے والا ہے تو وہ اپنی غلطی پر ڈٹ نہیں ہوگا۔ اللہ کا خوف اسے فوراً اپنی لغزش پر متنبہ کر دے گا، اور وہ اپنی روش کو چھوڑ کر اللہ سے معافی کا طالب بن جائے گا۔
انسانوں کے درمیان فرق اور امتیاز
انسانوں کے درمیان مختلف قسم کے فرق ہوتے ہیں:
- کوئی سفید ہے اور کوئی کالا
- کوئی ایک نسل سے ہے اور کوئی دوسری نسل سے
- کوئی ایک جغرافیے سے تعلق رکھتا ہے اور کوئی دوسرے جغرافیے سے
یہ تمام فرق صرف تعارف کے لیے ہیں، نہ کہ امتیاز کے لیے۔
اکثر خرابیوں کا سبب یہ ہوتا ہے کہ لوگ اس قسم کے فرق کی بنا پر ایک دوسرے کے درمیان فرق کرنے لگتے ہیں۔ اس سے تفریق اور تعصب وجود میں آتا ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔
انسان اپنے آغاز کے اعتبار سے سب کے سب ایک ہیں۔ ان میں امتیاز کی اگر کوئی بنیاد ہے تو وہ صرف یہ ہے کہ: کون اللہ سے ڈرنے والا ہے اور کون اللہ سے ڈرنے والا نہیں۔
اور اس کا بھی صحیح علم صرف اللہ کو ہے، نہ کہ کسی انسان کو۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں