سبق نمبر ۶: منافق کی پہچان یہ ہے کہ وہ الفاظ میں سب سے آگے اور عمل میں سب سے پیچھے ہو
قرآنی آیات (سورۃ محمد: ۲۰-۲۳)
وَيَقُولُ الَّذِينَ آمَنُوا لَوْلَا نُزِّلَتْ سُورَةٌ ۖ فَإِذَا أُنزِلَتْ سُورَةٌ مُّحْكَمَةٌ وَذُكِرَ فِيهَا الْقِتَالُ رَأَيْتَ الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ يَنظُرُونَ إِلَيْكَ نَظَرَ الْمَغْشِيِّ عَلَيْهِ مِنَ الْمَوْتِ ۖ فَأَوْلَىٰ لَهُمْ طَاعَةٌ وَقَوْلٌ مَّعْرُوفٌ ۚ فَإِذَا عَزَمَ الْأَمْرُ فَلَوْ صَدَقُوا اللَّهَ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِن تَوَلَّيْتُمْ أَن تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْ أُو۟لَـٰٓئِكَ الَّذِينَ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فَأَصَمَّهُمْ وَأَعْمَىٰ أَبْصَارَهُمْ
اردو ترجمہ
اور جو لوگ ایمان لائے ہیں وہ کہتے ہیں کہ کوئی سورت کیوں نہیں اُتاری جاتی؟
پھر جب ایک واضح سورت نازل کی جاتی ہے اور اس میں قتال (جنگ) کا ذکر ہوتا ہے تو تم دیکھتے ہو کہ جن کے دلوں میں بیماری ہے، وہ تمہاری طرف اس طرح دیکھتے ہیں جیسے کسی پر موت چھا گئی ہو۔ پس ہلاکت ہے ان کے لیے!
(کہا گیا:) اطاعت اور معروف بات (کہنا) بہتر ہے، پس جب (عملی) فیصلہ کر لیا جائے، تو اگر وہ اللہ سے سچ بولتے تو یہ ان کے لیے بہتر ہوتا۔
پھر اگر تم پیٹھ پھیر لو گے، تو کیا تم سے یہی توقع کی جاتی ہے کہ تم زمین میں فساد کرو گے اور رشتے ناتے کاٹ دو گے؟
یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی، چنانچہ اللہ نے انہیں بہرا اور اندھا بنا دیا۔
تشریح
منافق کی پہچان یہ ہے کہ وہ الفاظ میں سب سے آگے اور عمل میں سب سے پیچھے ہو۔
- جہاد سے پہلے وہ جہاد کی باتیں کرتا ہے
- جب جہاد واقعتاً پیش آ جائے تو وہ اس سے بھاگ کھڑا ہوتا ہے
مؤمنین کا طریقہ
مؤمنین ہر وقت سننے اور ماننے کے لیے تیار رہتے ہیں۔
جب کسی سخت اقدام کا فیصلہ ہو جائے تو وہ اپنے عمل سے ثابت کر دیتے ہیں کہ انھوں نے اللہ کو گواہ بنا کر جو عہد کیا تھا، اس پر وہ پورے اترے۔
منافقین کا رویہ
منافق لوگ جہاد سے بچنے کے لیے بظاہر امن پسندی کی باتیں کرتے ہیں،
مگر عملاً جہاں انہیں موقع ملے، وہ فوراً فتنہ پھیلانا شروع کر دیتے ہیں۔
حتیٰ کہ جن مسلمانوں سے ان کا قرابت داری کا تعلق ہوتا ہے، ان کی مطلق پرواہ کیے بغیر ان کے دشمنوں کے مددگار بن جاتے ہیں۔
انجام
ایسے لوگ اللہ کی نظر میں ملعون ہوتے ہیں۔
ملعون ہونے کا مطلب:
- انسان کی سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت اس سے چھن جاتی ہے
- وہ آنکھ رکھتے ہوئے بھی نہ دیکھے
- کان رکھتے ہوئے بھی کچھ نہ سنے

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں