🌸
سبق نمبر 30
خلاصۂ قرآن رکوع بہ رکوع
سورۂ انبیاء کا خلاصہ
دعوتُ الی القرآن
دعوتِ ذکر + انبیاء کی مصائب سے نجات (آفاقی/انفسی)۔
رکوع 1: دعوتُ الی الذکر
کفار نصیحت کا مذاق (سِحر/خواب/گھڑا/شعر)—بدبختی، ذکر قبول یا ہلاک جیسے پرانی امتیں۔
رکوع 2: توحید کی دلیل
دو بادشاہ/امام/آفتاب نہ—دو خدا ہوتے تو لڑائی (دن/رات، گرمی/سردی)—نظام درہم برہم، خدا ایک۔
رکوع 3-4: تذکیرِ آلاء و بعد الموت
زمین/آسمان جدا، پانی زندگی، پہاڑ میخ/راستے، رات/دن/سورج/چاند—اللہ۔ موت سب، ترازو انصاف۔
رکوع 5: ابراہیم/لوط کی نجات
ابراہیم: آگ میں توحید، گلزار بنی۔ لوط: قوم سے نجات—آفاقی، اللہ کی مدد۔
رکوع 6: متعدد انبیاء کی نجات
نوح/داؤد/سلیمان: آفاقی۔ ایوب: انفسی+آفاقی۔ یونس: انفسی۔ زکریا/مریم: آفاقی۔
رکوع 7: عَودُ الی المقصود
توحید پرست فاتح—منحرف تو یاجوج/دجال۔ ﷺ سے چمٹو، سعادتیں۔
آج الحمدللہ سورة انبیاء کی 07 رکوعات مکمل، کل ان شاء اللہ سورة حج۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں