سبق نمبر 20: خلاصۂ قرآن رکوع بہ رکوع
سورۂ ہود کا خلاصہ
دعوت و وسائلِ توحید سورۂ ہود کا مرکزی موضوع دعوتُ الی التوحید ہے، جس کے اندر مختلف دلنشین طریقوں سے وسائلِ توحید کو بیان کر کے اس بات کی طرف دعوت دی گئی ہے کہ اپنا خالق و مالک، رزّاق و پالنہار ایک ہی ذات کو مانیں، اس کی ذات و صفات میں کسی کو شریک و سہیم نہ ٹھہرائیں۔
رکوع نمبر 1 کا خلاصہ: قرآنِ کریم نازل کرنے کا مقصد اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم نازل فرمایا۔ اس کا پہلا پیغام یہ ہے کہ اس کے نازل کرنے والے قادرِ مطلق کو معبود اور وحدہٗ لا شریک مانا جائے، یعنی جذبۂ توحید کی تکمیل اس کا پیغامِ اولین ہے۔ اور دوسرا پیغام یہ ہے کہ سابقہ فروگزاشتوں اور گناہوں سے معافی مانگی جائے۔
رکوع نمبر 2 کا خلاصہ: منکرینِ توحید کی ناکامی جو لوگ اللہ تعالیٰ کو ایک ماننے سے انکار کرتے ہیں، اگر ان پر کوئی آفت آ جائے تو روتے پیٹتے اللہ کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں، مگر خوشی کی حالت میں اسے بھول جاتے ہیں۔ یہ لوگ رحمتِ الٰہی کو ایک اتفاقی امر جانتے ہیں اور کتابُ اللہ کی اطاعت سے جی چراتے ہیں۔ اسے افتراء یا سحر قرار دے کر وہ کامیابی کی امید رکھتے ہیں، حالانکہ کامیابی صرف اہلِ توحید کے لیے ہے اور منکرین ہمیشہ کے خسران میں گرفتار ہوں گے۔
رکوع نمبر 3 تا 9 کا خلاصہ: تذکیر بِایّامِ اللہ سے دعوتُ الی التوحید مختلف اقوام و ملل کے واقعات سنا کر توحید کی طرف دعوت دی جا رہی ہے۔ حضرت نوحؑ، حضرت ہودؑ، حضرت صالحؑ، حضرت لوطؑ، حضرت شعیبؑ اور حضرت موسیٰؑ نے اپنی اپنی قوموں کو توحید کی طرف بلایا۔
خوش نصیب: جن لوگوں نے اس پکار پر لبیک کہا، وہ جنت کے حقدار اور رب کے پسندیدہ بنے۔
بدنصیب: جنہوں نے مذاق اڑایا، وہ بدبخت ہوئے اور جہنم کے وارث بنے۔ کسی پر ہوا کا عذاب آیا، کسی کو غرق کیا گیا، کسی پر طوفان آیا تو کسی کو زلزلے نے ملیا میٹ کر دیا۔ اگر تمہارا رویہ ٹھیک رہا تو تم بھی جنت کے مستحق ٹھہرو گے، ورنہ ابدی لعنت کا شکار ہو جاؤ گے۔
رکوع نمبر 10 کا خلاصہ: منکرینِ توحید کے انکار سے خائف نہ ہوں حضورِ اکرم ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے کہ جس طرح پچھلی امتوں نے انبیاء کو جھٹلایا اور تباہ ہوئیں، اسی طرح آپ کی امت کے منکرین کا انجام ہوگا۔ بالآخر کامیابی آپ ہی کی ہوگی اور وہ تباہ و برباد ہوں گے۔ بس آپ صبر سے آنے والے وقت کا انتظار کریں اور دیکھیں کہ اللہ کا فیصلہ کس کے حق میں ہوتا ہے۔
آج الحمدللہ سورة ہود کی 10 رکوعات کا خلاصہ مکمل ایک ساتھ بیان ہوا، کل ان شاء اللہ سورة یوسف شروع کرینگے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں