♥️
سبق نمبر 17
خلاصۂ قرآن رکوع بہ رکوع
سورہ توبہ کا خلاصہ
سورۃ انفال میں قانونِ جنگ کی 13 دفعات بیان ہوئیں، مگر جہاد کی اجازت نہ دی گئی۔ اب کفار و مشرکین کے ساتھ اعلانِ جنگ ہو رہا ہے۔
رکوع نمبر 1: مسائلِ اربعہ
کفار و مشرکین کو الٹی میٹم: اسلام کی مخالفت چھوڑ دیں ورنہ ستیا ناس۔
مہلتِ غور: 4 مہینے، پھر حرم میں رہنے کی اجازت نہ۔
مدتِ معینہ معاہدے: میعاد تک پہنچائیں، عہد نہ توڑیں۔
مدتِ غیر معینہ: 4 مہینے بعد قتل کریں، مگر بگوشِ اسلام ہوں تو معافی دیں۔
رکوع نمبر 2: وجہِ مخاصمت
کفار سے مخاصمت کی وجوہات:
خدا و رسول ﷺ کے دشمن۔
رشتہ داری اور وعدے کی پابندی نہ کریں گے۔
خواہشاتِ نفسانی سے ایمان ٹھکرایا۔
قسم کی پرواہ نہ کرتے۔
رکوع نمبر 3 اور 4: مانعِ جہاد اعذار کا رفع
پانچ اعذار رفع:
اعمالِ صالحہ: قریش کے بیت اللہ سے جہاد نہ روکیں۔
ذکر و عبادت: مساجد ویران ہونے کا عذر نہ۔
رشتہ داری: دنیوی تعلقات عذر نہ۔
قلتِ تعداد: غزوہِ حنین کی طرح نہ۔
ضروریاتِ زندگی: اللہ پورا کرے گا۔
رکوع نمبر 5: کن سے جہاد کیا جائے؟
اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے تمام اقوام سے لڑیں—پورا عالم وطن۔ سال میں 4 مہینے (ذی قعدہ، ذی الحجہ، محرم، رجب) قتل حرام تاکہ جہاد کی تیاری ہو۔
رکوع نمبر 6: کون لوگ جہاد کریں؟
تمام مسلمان جہاد کریں، معذور مستثنیٰ۔
رکوع نمبر 7 تا 10: احکامِ جہاد سے مستثنیٰ
چار اقسام مستثنیٰ (رکوع 7-8):
خود کو مستثنیٰ کرنے والے (منافقین، حیلہ باز)۔
حیلہ ساز: رومی عورتوں کا اندیشہ۔
لالچی: روپیہ کمانے والے۔
ایذاءِ رسول: کان کے کچے کہتے۔
جملۃ معترضہ (رکوع 9): منافقین کی سزا جہنم، مؤمنین کی جنت و رضا۔
پانچویں قسم (رکوع 10): وعدہ خلاف—غربت میں وعدہ، دولت میں بخل۔ کفار و منافقین پر سختی کا حکم۔
جاری ہے...

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں