سبق نمبر 17: خلاصۂ قرآن رکوع بہ رکوع
سورہ توبہ کا خلاصہ
اس سے قبل سورۃ انفال میں قانونِ جنگ کی تیرہ دفعات بیان کی گئی تھیں لیکن جہاد و قتال کی اجازت نہیں دی گئی تھی، اب اس سورت میں کفار و مشرکین کے ساتھ اعلانِ جنگ کیا جا رہا ہے۔
رکوع نمبر 1 کا خلاصہ: مسائل اربعہ اس رکوع میں اعلانِ جنگ سے متعلق چار مسائل بیان کئے جا رہے ہیں۔ کفار و مشرکین کو یہ الٹی میٹم دیا جا رہا ہے کہ وہ اسلام کی مخالفت سے باز آ جائیں ورنہ ان کا ستیا ناس کر دیا جائے گا۔
اعلانِ براءت: اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے مشرکین سے بیزاری کا اعلان۔
مہلتِ غور: اعلانِ جنگ کے بعد چار مہینے تک غور کرنے کی مہلت دی جاتی ہے۔ اس کے بعد تمہیں حرم شریف میں رہنے کی اجازت نہ ہوگی۔
مدتِ معینہ کے معاہد کفار: جن کے معاہدے کی مدت متعین ہے، اگر انہوں نے اس عہد کو نہیں توڑا تو تم بھی اسے اس کی میعاد تک پہنچاؤ اور از خود عہد کو نہ توڑو۔
مدتِ غیر معینہ کے معاہد: جن کے معاہدے کی مدت متعین نہیں بلکہ مبہم ہے تو چار مہینے گزرنے کے بعد انہیں جہاں پاؤ قتل کر دو۔ ہاں! اگر کوئی حلقہ بگوشِ اسلام ہو جائے تو پھر اسے معافی دیدو Row۔
رکوع نمبر 2 کا خلاصہ: وجہِ مخاصمت اس رکوع میں کفار کے ساتھ مخاصمت کی وجوہات بیان کی جارہی ہیں۔
کفار و مشرکین خدا اور اس کے رسول کے دشمن ہیں، ان سے دوستی کیسے روا رکھی جا سکتی ہے؟
اگر ان کا بس چلے تو نہ یہ رشتہ داری کا لحاظ کریں نہ وعدے کی پابندی کو ملحوظ رکھیں، پھر ان سے دوستی کیسے جائز ہو سکتی ہے؟
انہوں نے خواہشاتِ نفسانی کے جال میں پھنس کر ایمان جیسی محبوب چیزوں کو ٹھکرا دیا، پھر ان سے دوستی چہ معنی دارد؟
اپنی قسم کو پورا کرنے میں کوئی پرواہ نہیں کرتے، ایسے لوگوں سے دوستی کا کیا مطلب؟
رکوع نمبر 3 اور 4 کا خلاصہ: مانعِ جہاد اعذار کا رفع کرنا وہ پانچ اعذار جو جہاد سے مانع ہو سکتے ہیں ان کو رفع کرنا مقصود ہے:
بعض اعمالِ صالحہ کا پابند ہونا: قریشِ مکہ سے جہاد محض اس وجہ سے ترک نہیں کیا جاسکتا کہ وہ بیت اللہ کے مجاور ہیں۔
ذکر و عبادت: مسلمان مسجد میں بیٹھ کر ذکر و عبادت کرنے کو ترکِ جہاد کا عذر نہیں بنا سکتے کہ اگر ہم جہاد پر چلے گئے تو مساجد ویران ہو جائیں گی۔
رشتہ داری: کوئی دنیوی تعلق اور نسلی و خونی رشتہ ترکِ جہاد کا عذر نہیں بن سکتے۔
قلتِ تعداد: اسلامی فوج کی تعداد کا کم ہونا بھی ترکِ جہاد کا عذر نہیں بن سکتا۔ غزوہ حنین میں مسلمانوں کی فوج بہت زیادہ تھی، وہاں بھی ابتدا میں شکست کا منہ دیکھنا پڑا (تاکہ بھروسہ صرف اللہ پر ہو)۔
ضروریاتِ زندگی کا فقدان: مشرکین کے ساتھ جہاد کرنے میں اگر معاشی تنگی کا ڈر ہو تب بھی وہ عذر نہیں بن سکتا، اللہ تعالیٰ غنی کرنے والا ہے۔
رکوع نمبر 5 کا خلاصہ: کن سے جہاد کیا جائے؟ مسلمانوں کو اعلاء کلمۃ اللہ کی خاطر تمام اقوامِ عالم سے لڑنا پڑے گا۔ لیکن سال میں چار مہینے (ذیقعدہ، ذی الحجہ، محرم الحرام اور رجب) قتل و قتال حرام کر دیا گیا تا کہ مسلمان ان میں آرام کر کے نئے شوق اور ولولے کے ساتھ میدانِ کارزار میں قدم رکھیں۔
رکوع نمبر 6 کا خلاصہ: کون لوگ جہاد کریں؟ تمام مسلمانوں کو اقوامِ عالم سے جہاد کے لیے روانہ ہونا پڑے گا۔ ہاں! جو معذور ہیں وہ مستثنیٰ ہیں۔ اس کے علاوہ کسی مسلمان کو جہاد سے بیٹھے رہنے کی اجازت نہیں۔
رکوع نمبر 7 تا 10 کا خلاصہ: احکامِ جہاد سے مستثنیٰ لوگ
خود ساختہ مستثنیٰ (منافقین): یہ لوگ حیلہ بازی کرتے ہیں اور جہاد پر جانے کے لیے کبھی تیار نہیں ہوتے۔
حیلہ ساز: وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ ہمیں رومی عورتوں کے حسن پر مفتون ہونے کا اندیشہ ہے، اس لیے ہمیں چھوڑ دیا جائے۔
لالچی: جن کا مقصد صرف مالِ غنیمت ہے۔ اگر روپیہ ملتا رہے تو خوش اور اگر نہ ملے تو ناراض ہو جاتے ہیں۔
ایذاءِ رسول: جو حضورِ اقدس ﷺ کی شان میں گستاخی کرتے ہیں اور انہیں "کان کا کچا" (نعوذ باللہ) کہتے ہیں۔
وعدہ خلاف: جو غربت میں وعدے کرتے تھے کہ مال ملا تو خوب خرچ کریں گے، لیکن مال ملتے ہی بخل کرنے لگے۔
جاری ہے ۔۔۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں