:
🌹 سلسلہ اسماء المصطفیٰ ﷺ
قِسط نمبر 13 — اسمِ مبارک: المُزَّمِّل ﷺ
(چادر اوڑھنے والے نبی، عبادت اور دعوت کے سنگم پر)
الحمد للہ ربّ العالمین، والصلاة والسلام على عبدِه ورسوله، المتزمل بين يدي ربّه، محمدٍ ﷺ، وعلى آلہ وصحبہ أجمعین۔
🌟 اسمِ مبارک: المُزَّمِّل ﷺ
درجہ: قرآنِ مجید سے صریح طور پر ثابت
ذکرِ قرآنی: سورۃ المزمل
لغوی معنی: چادر اوڑھنے والا
رومن: Al-Muzzammil
🔹 لغوی تحقیق
لفظ المُزَّمِّل مادہ ز م ل سے مشتق ہے۔
اہلِ لغت کے مطابق:
-
تَزَمَّلَ = چادر اوڑھ لینا، خود کو لپیٹ لینا
-
المُزَّمِّل = وہ جو کپڑے میں لپٹا ہوا ہو
لسان العرب میں ہے:
المتزمل: المتلفّف بثوبه
یعنی کپڑے میں لپٹا ہوا شخص۔
یہ لفظ نبی اکرم ﷺ کے ایک خاص حال کی تصویر کشی کرتا ہے — وہ لمحہ جب وحی کا بوجھ، عبادت کی تیاری اور دعوت کی ذمہ داری یکجا ہو رہی تھی۔
🔹 قرآنِ مجید میں صریح خطاب
سورۃ المزمل (73:1–2)
يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا
ترجمہ:
اے چادر اوڑھنے والے! رات کو قیام کرو مگر تھوڑا سا۔
یہ خطاب:
-
براہِ راست نبی ﷺ کو ہے
-
محبت اور قرب کے اسلوب میں ہے
-
اور ایک عظیم ذمہ داری کی تیاری کا اعلان ہے۔
🔹 پس منظرِ نزول
ابتدائی وحی کے بعد:
-
نبی ﷺ پر وحی کا بوجھ بہت بھاری تھا
-
آپ ﷺ گھر تشریف لائے اور چادر اوڑھ لی
اسی کیفیت میں اللہ تعالیٰ نے:
آرام نہیں، قیام؛
خاموشی نہیں، تیاری؛
اور تنہائی نہیں، ذمہ داری
کا پیغام دیا۔
🔹 المزمل ﷺ — عبادت سے دعوت تک
اس سورہ میں تین بنیادی نکات سامنے آتے ہیں:
⭐ 1. قیامُ اللیل
قیامِ شب:
-
دل کو مضبوط کرتا ہے
-
روح کو نور دیتا ہے
-
اور داعی کو ثابت قدم بناتا ہے
⭐ 2. قرآن کی ترتیل
وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا
یعنی ٹھہر ٹھہر کر، سمجھ کر، دل میں اتار کر پڑھنا۔
⭐ 3. قولِ ثقیل کی تیاری
إِنَّا سَنُلْقِي عَلَيْكَ قَوْلًا ثَقِيلًا
یہ “قولِ ثقیل”:
-
وحی
-
شریعت
-
اور امت کی رہنمائی ہے۔
🔹 ائمۂ تفسیر کی آراء
امام ابن کثیر:
المزمل کا خطاب نبی ﷺ کو قیامِ شب کے ذریعے مضبوط بنانے کے لیے ہے تاکہ وہ عظیم ذمہ داری اٹھا سکیں۔
امام قرطبی:
یہ سورہ بتاتی ہے کہ دعوت کی طاقت عبادت سے آتی ہے۔
امام رازی:
چادر اوڑھنے کی کیفیت رحمت اور قربت کی علامت ہے، نہ کہ کمزوری کی۔
🔹 المزمل ﷺ — تربیتی پیغام
-
دن کی دعوت، رات کی عبادت سے جڑی ہے
-
جو شخص خلوت میں اللہ کے سامنے کھڑا نہیں ہوتا،
وہ جلوت میں حق کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا
نبی ﷺ:
رات کو عبد، دن کو داعی تھے۔
🔹 روحانی و عملی سبق
-
مشکل وقت میں عبادت سے طاقت لو
-
ذمہ داری سے پہلے تیاری ضروری ہے
-
خاموش لمحات، بڑے انقلابات کی بنیاد بنتے ہیں
🔹 خود احتسابی
-
کیا میں مشکل وقت میں اللہ کی طرف لوٹتا ہوں؟
-
کیا میری راتیں میری دن کی اصلاح کرتی ہیں؟
-
کیا میں المزمل ﷺ کے قیام اور صبر سے کچھ سیکھتا ہوں؟
🌙 دعائیہ اختتام
اللهم صلِّ وسلِّم على نبيك المزمل،
وارزقنا لذة القيام، ونور القرآن،
وقوة الصبر على الدعوة،
واحشرنا في زمرته يوم القيامة۔
آمین یا ربّ العالمین۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں