🌹 سلسلہ اسماء المصطفیٰ ﷺ قِسط نمبر 9 — الدَّاعِي ﷺ


 

🌹 سلسلہ اسماء المصطفیٰ ﷺ

قِسط نمبر 9 — الدَّاعِي ﷺ

(اللہ کی طرف بلانے والے، ہدایت کی دعوت دینے والے، انسانیت کے سب سے عظیم داعی)

الحمد للہ ربّ العالمین، والصلاة والسلام على سید الدعاة، محمدٍ ﷺ، وعلى آلہ وصحبہ أجمعین۔


🌟 اسمِ مبارک: الدَّاعِي ﷺ

درجہ: قرآنِ مجید کے صریح مفہوم سے ثابت
ذکرِ قرآنی: متعدد مقامات پر مفہوماً
لغوی معنی: بلانے والا، دعوت دینے والا
رومن: Ad-Dāʿī


🔹 لغوی تحقیق

لفظ داعی مادہ د ع و سے مشتق ہے۔

اہلِ لغت کے مطابق:

  • دعا = بلانا، پکارنا، دعوت دینا

  • الداعی = وہ جو مسلسل، حکمت کے ساتھ، کسی مقصد کی طرف بلائے

لسان العرب میں ہے:

الداعي: من يدعو الناس إلى أمرٍ بعلمٍ وبصيرة
یعنی داعی وہ ہے جو علم، بصیرت اور حکمت کے ساتھ لوگوں کو بلائے۔

یہ تعریف اپنے کامل ترین مفہوم میں نبی اکرم ﷺ پر صادق آتی ہے۔


🔹 قرآنِ مجید میں “الداعي ﷺ”

قرآنِ کریم نے اگرچہ نبی ﷺ کو بطور اسم الداعي نہیں کہا،
لیکن آپ ﷺ کے منصب کو صراحت کے ساتھ بیان فرمایا:

1. سورۃ الأحزاب (33:46)

وَدَاعِيًا إِلَى اللَّهِ بِإِذْنِهِ
اور (ہم نے آپ کو) اللہ کی طرف بلانے والا بنا کر بھیجا۔

یہ آیت واضح اعلان ہے کہ:

  • نبی ﷺ کی دعوت ذاتی نہیں

  • نہ کسی جماعت کی طرف

  • بلکہ اللہ ہی کی طرف ہے
    اور وہ بھی بإذنه — اللہ کے حکم سے۔


2. سورۃ یوسف (12:108)

قُلْ هَٰذِهِ سَبِيلِي أَدْعُو إِلَى اللَّهِ
کہہ دیجئے: یہ میرا راستہ ہے، میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں۔

یہ آیت دعوتِ محمدی ﷺ کے منہج کو واضح کرتی ہے:

  • دعوت بصیرت پر مبنی

  • علم و یقین کے ساتھ

  • اور اخلاص کے ساتھ۔


🔹 احادیثِ مبارکہ میں دعوتِ نبوی ﷺ

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"بلِّغوا عني ولو آية"
— صحیح البخاری

یہ حدیث بتاتی ہے کہ:
نبی ﷺ خود داعی ہیں، اور امت کو بھی داعی بنا رہے ہیں۔

ایک اور حدیث میں فرمایا:

"لَأَنْ يَهْدِيَ اللَّهُ بِكَ رَجُلًا وَاحِدًا خَيْرٌ لَكَ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ"
— صحیح بخاری

یہ دعوت کی عظمت اور نبی ﷺ کے اسلوبِ داعی ہونے کا ثبوت ہے۔


🔹 الداعي ﷺ — دعوت کے امتیازات

1. دعوت بالحکمة

قرآن کہتا ہے:
ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ
نبی ﷺ کی دعوت میں:

  • حکمت

  • نرمی

  • تدریج

  • اور خیرخواہی تھی۔

2. دعوت بالعمل

آپ ﷺ کی ذات خود دعوت تھی۔
لوگ آپ کو دیکھ کر اسلام میں داخل ہوئے۔

3. دعوت بالصبر

طائف کے زخم، مکہ کی اذیتیں،
سب کے باوجود دعوت جاری رہی۔

4. دعوت بالرحمة

آپ ﷺ نے بددعا نہیں، ہدایت کی دعا کی۔


🔹 ائمۂ امت کی آراء

امام نووی:

نبی ﷺ کی دعوت میں سختی نہیں بلکہ حکمت اور رحمت غالب ہے۔

ابن القیم:

دعوت کا کامل نمونہ سیرتِ محمدی ﷺ میں ہے۔

قاضی عیاض:

داعی وہ ہے جو خود پہلے عمل کرے، پھر بلائے — اور یہ صفت نبی ﷺ میں کامل ہے۔


🔹 روحانی و تربیتی پیغام

  • ہر امتی پر دعوت کی ذمہ داری ہے

  • دعوت زور سے نہیں، کردار سے ہوتی ہے

  • داعی کا ہتھیار زبان نہیں، اخلاق ہوتا ہے

نبی ﷺ کی دعوت:

دل جیتتی ہے، حکم نہیں چلاتی۔


🔹 ہماری زندگی کے لیے سوال

  • کیا میں اپنے عمل سے دین کی دعوت دیتا ہوں؟

  • کیا میری گفتگو حکمت اور نرمی پر مبنی ہے؟

  • کیا میں داعیِ رسول ﷺ کے نقشِ قدم پر ہوں؟


🌙 دعائیہ اختتام

اللهم صلِّ وسلِّم وبارك على داعيك إلى الحق،
واجعلنا من الداعين إلى سبيلك بالحكمة،
ووفقنا للاقتداء به في الدعوة والأخلاق،
واحشرنا في زمرته يوم القيامة۔
آمین یا ربّ العالمین۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں